چوتھا ستون

آج دنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی ملک کے غیرآئینی مگر اعلانیہ طورپرچوتھے ستون یعنی صحافت کی آزادی کا عالمی دن منایاجارہا ہے۔ بڑے بڑے جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد اپنی جگہ لیکن اگر پاکستان کی صحافت پر نظر دوڑائی جائے اور دیکھاجائ​ےکہ پاکستان میں صحافت یا ایک صحافی کتنا آزاد اور بااختیار ہے تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ پاکستان کے اندر صحافتی ادارے مکمل آزاد نہیں اور نہ ہی انکا کوئی محافظ ہے۔

صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملکوں میں پاکستان کا نمبر بہت ہی نمایاں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلم۔مائیک اورکیمرے کی آزادی سلب کرنے کیلئے صحافیوں کو جان سے بھی ماردیاجاتاہے۔اس معاملےکا ایک پہلو یہ ہےکہ ادارے 90 فیصد ضرور آزاد ہیں اور اسی آزادی کی آڑ میں پاکستان کے ساتھ جو کھلواڑہو رہا ہے وہ اب کسی سے ڈھکاچھپا نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافت کو ملنے والی آزادی کسی ڈکٹیٹر یا جموری حکومت نے تھالی میں رکھ کر نہیں دی اسکے لیے سینئر صحافیوں نے کوڑےکھائے۔جیلیں کاٹیں تب جاکر یہ آزادی نصیب ہوئی۔

میں سوچتا ھوں کہ کیا اس وقت کے صحافیوں نے جس مقصد کے لیے کوڑے یا جیلیں کاٹیں وہ اسلیے تھا جو کچھ آج صحافت میں ہو رہا ھے یا صحافت کی آڑ میں ہو رہا ھے لیکن اس کے باوجود آج بھی ایک صحافی کو وہ آزادی حاصل نہیں جو سمجھی جا رہی ہے اوربتائی جارہی ہے۔اداروں کے مالکان صحافیوں کی معاشی آزادی سلب کرنااپنافرض سمجھتے ہیں۔ایک صحافی اپنی مرضی کی خبر یا ٹکر تک نہیں چلا سکتا۔

اس وقت جو آزادی صحافت کو حاصل ہے اسکے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ پرنٹ میڈیا ھو یا الیکڑانک میڈیا سب اس آزادی کا بجا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آج ہر ایک ادارےکا مابک کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کے اثاثوں کا مالک ہے۔ پاکستان میں چند اداروں کو چهوڑ کرزیادہ تر اداروں کے مالکان نان پروفیشنل ہیں جو محض صحافت کی آڑ میں کالے دھند کوچھپائے بیهٹے ہیں یا صحافت کوکاروباری مقاصد کیلئےاستعمال کررہےہیں۔

سیاست دانوں سے لے کر جرنیلوں تک اور جرنیلوں سے لے کر ججز،جرنلسٹوں اور میڈیا ہاوسسز کے مالکان سمیت بیورو کریٹس نےجی بھر کر اس ملک کو لوٹنے میں اپناکرداراداکیا ہےاور مزے کی بات احتساب تو دور کی بات کوئی پوچھنے والا نہیں۔اپنے صحافتی کیرئیر کے گیارہ سالوں میں ایسے صحافیوں اور مالکان کو قریب سے دیکھاکہ کروڑ پتی کیسے بنے۔ اس کہانی کو کسی اورموقع پر ضرور لکهوں گا تاہم اس وقت پاکستان میں صحافت جس قدر آزاد ہے اسکا کریڈٹ صحافی ورکروں کو جاتا ھے۔

پرویز مشرف کے خلاف 72 دن کے دھرنے کے دوران شائد ہی کوئی میڈیا هاوسز کا مالک اس دھرنے میں آیا ہو۔جنهوں نے جدوجہد کی آج انکو کوئی نہیں یاد کرتا اور جنہوں نے اے سی میں بیٹھ کر انجوائے کیا وہ کل بھی مزے میں تھے اور آج بھی مزے لوٹ رہے ہیں۔ شورش کاشمیری نے کیا خوب ناظم لکھی تھی کہ ہم اہل قلم کیا ہیں۔ پوری لکھنے کی ہمت نہیں البتہ دو مصرعےضرور لکھوں گا

تابع ہیں وزیروں کے
خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اسیروں کے
دشمن ہیں فقیروں کے
ہم اہل قلم کیا ہیں
رہ رہ کہ ابھرتے ہیں
جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنےکی جو باتیں ہیں
کہتے ھوئے ڈرتے ہیں
ہم اہل قلم کیا ہیں

آج کے روزقلم کے مزدورں کوسلام جواپناخون جلاکر اس چمن کو گلزارکئےہوئےہیں​۔