قسمت کا دھنی کون ؟

میاں صاحب قسمت کے بہت دھنی ہیں. ایک معمولی سی ملا قا ت نے ان کو بہت سارے جینئس اور وڈیروں کی موجودگی میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا. پھر رائٹ اور لیفٹ کی لڑائی میں سادگی کے پیکر کو اسلامی جمہوری اتحاد کے سات ستاروں نے اپنا چا ند سمجھ کر وزیراعظم کا منصب دیدیا. پھر کیا تھا عدالتی جنگ ہو ئی کہ پا رلیما نی ،سیاسی ہو ئی یا اداروں کے ساتھ کھینچاتانی، جلاوطنی کے با وجود وہ ایک طا قت ، ایک سوچ اور ایک تحریک بن کر سامنے آئے.

بینظیر بھٹو کی شہا دت کے بعد ہمدردی کا ووٹ لیکرآنےوالی پاکستان پیپلز پا رٹی کی اپوزیشن کی ججزبحالی ہویا لوڈ شیڈنگ میاں صاحبان نے قوم اور سیاسی پنڈتوں کو بتایا کہ سیاست کی طاقت کا وہ محور و مرکز ہیں. رائیونڈ نے سیاست کا تا ج اپنے سر پر رکھ لیا. پاکستان پیپلزپارٹی بھٹو اور زرداری کے ایک نئے phenomina میں اپنا وفا قی حجم اور وجود رقرار نہ رکھ سکی اور پاکستان مسلم لیگ ن وفا ق کی سب سے بڑی جما عت بن کر ابھری اور سیاست کی یہ ستم ظریفی دیکھئے کہ جس پر فوجی گملے میں پنپنے کا الزام تھا وہی فوج کے سیا ست میں مداخلت کا سب سے بڑا نقاد بن بیٹھا.

اس لڑا ئی میں ایک فا ئد ہ یہ ہوا کہ سیاسی انتقام کاکسی حد تک خاتمہ ہوااور پاکستان کی فوجی ایٹیبلشمنٹ نے سیاست کے میدان کو کسی حد تک قبولیت کی کنٹرولڈ سند بھی بخشی آج ہم پاکستانی سیاسیات کے اس دور میں سے گزررہے ہیں جہاں پرادارے ایک دوسرے کر برداشت کرنے کی ٹریننگ پر ہیں اور اس سب کا بلا شبہ کریڈٹ پاکستانی سیاست کے چند کرداروں کو جا تا ہے کہ جنہوں نے سیاسی اختلا فات کو ہوا نہ بنانے پر اتفاق کیا.

میاں نواز شریف کے بعد اگر کسی کی سیاست کا ستا رہ پوری آب و تا ب کے ساتھ چمکا ہے اور ان کو کسی نے اپنا مسیحا سمجھا ہے تو وہ عمران خان تھے لیکن ہم سب جا نتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زبان اور غیرمتلون مزاج روئیے کے با عث کیا کچھ پا تے پا تے کھو دیا. وہ عوام کی آنکھوں کا تا را بنے ، نوجوان نسل نے اور کسی حد تک اس ملک میں انقلاب اور تبدیلی کے حامیوں نے انکی چکنی چپڑی با توں پر دھیان دیااور انکی کال پر وہ با ہر نکلے لیکن وہ انکو لیڈ کرنے میں بری طرح فلا پ ہو گئے.

ہاں قسمت کی اگر بات ہے تو یہ میاں صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو میاں شہباز شریف جیسا بہترین ایڈمنسٹریٹر گھر میں ہی مل گیا ، مریم نواز جیسی وژنری اور جوڑ توڑ کی ما ہر بیٹی کی سپورٹ مل گئی. حمزہ شہباز جیسا بھتیجا بھی مل گیا جس نے پنجا ب کی یوتھ کو سنبھال لیا ان کے مقابلے میں جناب عمران خان کو trust worthy اور انکی سیاسی جما عت کو پنپنے اور انکی پیٹھ نہ لگنے دینے والا کو ئی بلڈ ریلیشن نہ مل سکا. اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی بہتررہی کہ آصف علی زرداری کو بلا ول کی شکل میں اپنا ہی بیٹا پا رٹی چیئر مین اور اپنی بہن فریا ل تا لپورسیاسی پیغام رسانی کیلئے مل گئی !اگرچہ دنیا بھر میں موروثی سیاست کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور اسکی حوصلہ شکنی کی جا تی ہے لیکن پاکستان میں خونی رشتے سیا سی جما عتوں کے پنپنے کی بنیا دی وجو ہا ت میں سے ایک ہیں.

قا رئین کرام !
آج کا سیا سی کھیل کا محور میاں نواز شریف ہیں ان کو ہٹانے کیلئے عدالتی اور سیاسی چا لبا زیاں عروج پر ہیں !لیکن دوسری طرف میاں نواز شریف ہیں کہ وہ اپنی گز شتہ پا نچ سال میں بوئی فصل کو کا ٹ رہے ہیں اور وہ اپنے سیا سی مخالفین کے مقا بلے میں تر قیا تی کا موںکا افتتاح اور تکمیل کے فیتے کاٹ کر اس نعرے کو فروغ دے رہے ہیں کہ ہم نے تو پانچ سال میں اس ملک میں انفرا سٹرکچر دیا، بجلی کے پراجیکٹ دئیے، ڈیم بنا ئے، میٹرو چلائیں، ائیر پو رٹس بنا ئے. بجلی کے بل اور پٹرول کو کنٹرول کیا !یوتھ کو لیپ ٹاپ دئیے ، بلا سود قرضہ دیا، آئی ٹی پا رک بنائے. آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کو فنانس کیا. انڈیاکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں.

ملک کو دنیاکا سب سے بڑاپراجیکٹ CPEC دیا اور سب سے بڑھ کے پاکستان کی سمندری حدود میں ہزاروں ناٹیکل میلز کااضا فہ کرایا. بطور وزیرا عظم پاکستان اور بطور ایک بزنس میں کے ان پر ایک پا ئی کا بھی کرپشن کا الزام نہیں، ایڈمنسٹریٹو پوا ئنٹ آف ویو سے وہ کما ل رکھتے ہیں ، وہ سوچتے ہیں ، بولتے ہیں اور پھر کام کر دکھا تے ہیں ، میٹرو بسیں، نیو ائیر پورٹ، نیلم جہلم ہا ئیڈل پرا جیکٹ انکیاس ملک اور قوم سے محبت کا عملی ثبوت ہے. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انکا اپنا کوئی ادارہ سوا ئے حدیبیہ پیپز ملز(یہ بھی سیاسی انتقام کی ایک اعلیٰ نشا نی ہے ) کےکوئی ریفرنس انکے خلا ف دائر نہ کرسکا. کرپشن کا جوالزام ان پر پانامہ لیکس کی شکل میں لگا اس پر سے بھی اب ایک ایک کرکے سازشیں کی پرتیں اترتی جا رہی ہیں.

کیا یہ انکی جیت نہیں کہ ان کو مسلسل سیاست کی غلاظت کی بھینٹ چڑھایا جا تا رہا ، انکو ا سلام آبا د کی بیچ چو راہے پر گالیوں سے نوازا جا تا رہا لیکن انہوں نے صبر کا دامن ہا تھ سے نہ چھوڑا؟ کیا یہ انکی جیت نہیں کہ انکے خلاف سٹیج کی گئی دو سکینڈلز(ڈان لیکس، پانامہ لیکس) کی عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کر کے ان کو ہدف بنا یا گیا. لیکن وہ اپنی دھن میں لگے رہے اور آخراس غلط تشریح کودرست ملک کے ایک معتبرادارہ کوخصوصی طور کرنا پڑا. میں سمجھتا ہوں کہ سیاست اور اخلاقیا ت کے میدان میں اس وقت انکاکوئی ہم پلہ نہیں.

پاکستا ن تحریک انصا ف کے سربراہ جنا ب عمران خان اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے سربراہ جنا ب آصف علی زرداری کے مقا بلے میں میاں نواز شریف بہت بلند مقا م پر کھڑے ہیں !اس میں کو ئی شک نہیں کہ جناب عمران خان کی ایک کرشماتی شخصیت ہیں لیکن ان کے غیر ضروری بولنے اور تقریریں جھا ڑنے نے انکو بہت نقصان پہنچا یا ہے. انکے کانوں تک انکے کسی خیر خواہ اور خا ص کر شیخ رشید احمد، برادرم جہا نگیر ترین اور اسد عمر سمیت کسی نے یہ با ت جا نے دی اور نہ پنپنے دی کہ کل جب سیاسی ڈگڈگی کے پانچ سال پورے ہوں گے تو ان سے ان کے صوبے کے عوام یہ سوال ضرور پو چھیں گے کہ ” تسان ساڈھے واسطے کیتا کی اے ؟ “کیونکہ کے پی کے کا بڑا حصہ پہا ڑی سلسلے پر مشتمل ہے ۔اگر عمران خان گا ئوں گا ئوں پختہ راستے ، اور ٹیوب ویل بنوا دیتے تو انکو شا ید اگلے الیکشن میں اپنے صوبے کے عوام کے پاس جا نے کی آسا نی ہو تی !انکے پاس اس پختہ راستوں کی سیاست کے بانیوں میں شما رہو نے والے مری کے سابق ناظم سردار سلیم موجود تھے جو انکو پہاڑوں کی سیاست سے آگا ہ کرتے لیکن جن کی نظریں اسلام آبا د کی کرسی پرہوان کو کیسےاپنی دکھیا ری عوام نظر آسکتی ہے ؟