15

پاکستانی نژاد کینیڈین ڈاکٹرعائشہ کاپاکستان میں تین منصوبے شروع کرنےکااعلان

Doctor ayesha
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)پاکستانی نژاد کینیڈین ڈاکٹرعائشہ نے کینیڈا کی مدد سےپاکستان میں دماغی امراض اور تعلیم سےمتعلق تین منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے دکھی انسانیت کی خدمت اورلوگوں کے علاج معالجے اورآگاہی کےحوالےنیا موڑ ملے گا۔

سٹیٹ ویوز سے خصوصی نشست میں ڈاکٹرعائشہ نے بتایا کہ میں نے بیس سال سے زائد کےتجربے اورٹریننگ کے بعد میں نے ایک منفرد طریقہ علاج لائف ٹرانسفارمیشن ٹرانسنڈینٹل چینلنگ پراسس(ایل۔ٹی۔ٹی۔سی۔پی)ایجاد کیا ہے،اپنے اس طریقہ سے کئی پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا،خاص کر ایسے لوگوں کا علاج کیا ہےجو صدمے، بے خوابی ، دماغی خرابی ، زیادتی، فوبیا ڈس آرڈر بدسلوکی اور اسی طرح کی روحانی،جسمانی،ذہنی اور جذباتی مسائل کا شکار تھے، ان تمام امراض کے شکار لوگوں کے بند دماغ اپنے ایجاد کردہ طریقہ سے ٹھیک کئےاور ان کے صدمے، ذہنی انتشاراور منفی سوچوں کومثبت اور صحت مند توانائی میں تبدیل کر دیا۔

ڈاکٹرعائشہ کا کہنا ہے کہ آج کل میں (مسی ساگا)اونٹاریو کینیڈا میں اپنے کلینک سیون ہیون تراپیز میں علاج کے سیشن ، کورسز اور ورکشاپس کراتی رہتی ہوں۔مزید یہ کہ وہ سی بی سی ہیلنگ ٹوگیدر نامی این جی اوکی پریذیڈنٹ اور آرگنائزر بھی ہیں، یہ این جی او کینیڈین حکومت کیساتھ مل کر ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلقہ ایشوز پر کام کرتی ہے۔

اسی سلسلہ میں اب کینیڈا کے ساتھ دنیا بھر میں اس طریقہ علاج کی تعلیم کے لیے سیمینارز کااہتمام کرنا چاہتی ہوں تاکہ دیگر خطوں کے لوگ بھی اس طریقہ علاج کو جان سکیں اور مستفید ہو سکیں، اسی سلسلہ میں کینیڈا بھر میں ہیل فرام دی انسائیڈ۔آؤٹ سائیڈ۔چینج یورلائف ویدڈاکٹرعائشہ علی (Heal from the Inside Outside , Change Your Life with Dr. Ayesha)کے نام سے کامیاب سیمینارز کا اہتمام کراچکی ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ میری ایک کتاب بھی اشاعت کے مراحل میں ہےاور ایک ڈاکومینٹری Heal from the Inside Out with Dr. Ayesha کی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی ہوں۔

انہوں نےبتایاکہ وہ انٹرنیشنل میٹا فزیکل منسٹری کی ممبر بھی ہیں اور 2016 میں وویمن اچیورایوارڈ اسی طرح حال ہی میں انڈوکینیڈا آرٹ اینڈ کلچرانیشیٹیو ایوارڈ بھی جیتاہے۔انہوں نےبتایا کہ اپنی این جی او کے پلیٹ فارم سے کینیڈا میں مختلف پروجیکٹ پرکام کیا ہےجن میں
1۔مقامی لوگوں کا علاج
2۔مہاجرین کی مدد
3۔بےگھرلوگوں کے لئے خصوصی انتظامات
4۔کثیرالثقافتی، جذباتی اور ذہنی حمایت ، رواداری اور تنوع
5۔خواتین سے زیادتی اور تشدد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان میں منصوبوں کےحوالے سے ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی این جی او سی بی سی ہیلنگ ٹوگیدر کے پلیٹ فارم سے 3 خیراتی ادارے قائم کرنا چاہتی ہیں جوان ایشوز پر کام کریں گے

1۔مینٹل ہیلتھ آگاہی اور علاج
2۔ایجوکیشن بالخصوص ویمن امپورمنٹ
3۔انوائرمنٹل ایشوز

انہوں نے کہا کہ یہ این جی او جو کہ کینیڈا میں رجسٹرڈ ہے پاکستان کے کونسلیٹ کو بھی اس نیک کام میں شامل کرکے پہلے مرحلے میں پاکستان کے تین شہروں میں خیراتی ادارے قائم کرنا چاہتی ہےجنکے مقاصدیہ ہیں کہ

1۔مختلف شہروں میں صحت کی سہولتیں، تربیت اور علاج کی فراہمی
2۔پاکستان میں بہتر تعلیم کے مواقع پیدا کرنا، خاص کر خواتین کی بہتری اور ترقی کے ساتھ
3۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ایشوز کو اجاگر کرنا

انہوں نےکہا کہ اس ادارے کا مقصد مفت علاج ، سہولتیں ، ٹریننگ اور ایل ایل ٹی سی پی طریقہ علاج کو بذریعہ تعلیم و تربیبت فروغ دینا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم پاکستان قونصل خانہ سے حکومت اور دیگر اداروں سے رابطہ کروانے کے لیے مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں ہمارے مشن کی تکمیل آسان ہو جائے گی۔کینیڈا کی حکومت ہمارے کاموں کی حمایت حاصل کرتی ہے۔اس لیے ہم پاکستان میں بھی اس کام کا آغاز کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نےکہا کہ میں اس سلسلےمیں اسلام آباد اور لاہور میں دستیاب ہونگی اور اس دوران لاہور اور اسلام آباد میں کئی انفرادی اوراحتماعی اداروں سے ملاقاتیں کرونگی جو ہمارےمقصد میں سہولتکاراورمددگار ثابت ہونگے۔

تعارف۔پاکستانی نژاد کینیڈین ڈاکٹر عائشہ علی ایک ہپنوتھراپسٹ، میٹا فزیشن اور پیراسائیکلوجسٹ ہیں،اس کے ساتھ ہی ایک لائسنس یافتہ ریکی ماسٹر اور روحانی معالج بھی ہیں، ڈاکٹر عائشہ نے اپلائیڈ سائیکالوجی میں گریجوایشن اورماسٹر پیراسائیکالوجی میں کیا.میٹا فزکس میں پی ایچ ڈی کے علاوہ ڈاکٹر عائشہ ایک این جی او” سیون ہیون تھراپیز کنیڈا” کی بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں۔ڈاکٹر عائشہ نے مارکیٹنگ میں ایم بی اے بھی کیا ہے اور ریڈکس بزنس گروپ کی وائس پریذیڈنٹ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں