پاکستان ہےتوسب کچھ ہے

کلبھوشن یا دیوکے معاملے کو بھا رت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں لے جا نے کے معاملے پر عوام کے اندر ایک اضطراب موجود ہے اور وہ مختلف قسم کے بنیادی سوالات بھی اٹھا رہے ہیں. بعض تو اس معاملے میں ایک با رپھر سٹیٹ ، حکومت اور فوج پر برس رہے ہیں. ان دوستوں کو اس بنیا دی نکتہ کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ بھا رت نے یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اٹھا کر اصل میں پاکستان کی بہت سی مشکلات آسان بنا دی ہیں. ایک تو جو کام ہما را میڈیا نہ کرسکاکہ دنیا کو بتاتا کہ کلبھوشن ایک انڈین جا سوس ہے اوراس نے پاکستان میں نہ صرف دہشتگردی کی بلکہ اس نے بھا رتی ایجنڈوں کو ایک خود مختار ریا ست میں پروان چڑھایا.

دیکھا جا ئے تو بھا رت نے عالمی فورم پر یہ مان لیا کہ پاکستان نہیں بھارت پاکستان کے اندرگڑبڑکراتا ہے اوروہ ہی خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے. جن لوگوں کو اس با ت کا خدشہ ہے کہ بھا رت عالمی عدالت کے ذریعے کلبھوشن کو چھڑوالے گا وہ یہ مت بھولیں کہ اگر بھا رت اقوام متحدہ کی قرادادوں کی پابندی نہیں کرتا تو پاکستان بھی عالمی عدالت کے کسی فیصلے کو ماننے کا پابند نہیں اور ویسے بھی ایک دہشت گرد جس نے جاسوس ہونے اور بندے ما رنے کا اعتراف کیا ہواس کوکوئی عدالت کیسے چھوڑ سکتی ہے جسکی بنیا دیں ہی انصاف کے تقاضے پورے کرنے پرکھڑی ہوں.

اس سب کے با وجود موجودہ حکومت کواس با ت کا خیا ل رکھنا ہو گا کہ وہ کل بھوشن کیس کو ٹاپ رینکنگ وکیل کے زریعے ڈیفینڈ کرے بصورت دیگر انکے خلاف ہو نیوالاپرا پیگنڈہ تبا ہ کن ثابت ہوسکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج کو بھی اس پر لائن آف ایکشن قوم سے شیئر کرنا چا ہئے کیونکہ کلبھوشن کا معاملہ کو ئی عام نہیں. بلکہ وہ ہزاروں فوجیوں اور سویلین کا قا تل ہے جس کو لٹکا نا بہت ضروری ہے. اس لئے فوج اور سٹیٹ یا د رکھے کہ اس معاملے پر قوم کو کسی صورت آزمائش میں نہ ڈالیں.

قا رئین کرام !
چین کی طرف سے سپر پاور کی طرف سفر نے دنیا کی پالٹکس کو خوفناک حد تک خطرنا ک کردیا ہے. سعودی عرب کی طرف سے امریکہ سے 315بلین کے دفا عی معا ہدے اور 115بلین ڈالرز کی اسلحہ خریدا ری بھی کو ئی نیک شگن نہیں. پاکستا ن اس وقت دنیا کی واحد ایٹمی پا ور ہے جو کسی حد تک امت مسلمہ کیلئے ٹھنڈے ہوا کا جھونکا ہے !اس وقت امت مسلمہ ازخود دو بلا کس میں تقسیم ہے اور دوسری طرف پو ری دنیا تقسیم در تقسیم کا شکا ر ہے. اس قوت یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سپرپا ور ہے اورکون نہیں؟ ٹرمپ کی طرف سے سعودی عرب کا دورہ یہ بتا تا ہے کہ ابھی چینی اورروسی واشنگٹن کے سامنے بچہ جہمورہ ہیں. ابھی امریکہ معا شی اور دفاعی طورپراتنا مضبو ط ہے کہ اس سے سپر پا ور کا ٹا ئٹل چھیننا مشکل ہے. پاکستان کو اس صورتحا ل میں انتہا ئی سمجھ داری سے خا لصتا قومی مفاد کے تحت قدم آگے بڑھانا ہو نگے.ایران کے حوالے سے یہ خیا ل ہے کہ وہ پاکستان کا اچھا مسلم ہمسا یہ ہے. لیکن کلبھوشن کی گرفتا ری ، افغا نستان میں بھا رت کے ساتھ یا ری اور گوادر کے مقابلے میں چا ہ بہا ر کی تیا ری یہ ثا بت کرتا ہے کہ وہ اپنے مفا دات کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے.

اس لئے پاکستان کو ایران کے حوالے سے اگر جا رحا نہ رویہ نہیں تو آنکھیں بند کرنے والارویے سے بھی گریز کرنا ہو گا۔جو لوگ وزیرا عظم میاں نواز شریف کے دورہ سعودی عرب پر انگلیاں اٹھا تے ہیں وہ مجھے بتا ئیں کہ کیا ہم سعودیہ کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں؟یہ سچ ہے کہ ہم کو کسی پراکسی وا ر کا حصہ نہیں بننا چاہئے اور اگر دو برادر ملکوں کے درمیان صلح کرائی جا سکتی ہے تو اسمیں پاکستان کو قا ئدانہ کردار اداکرنا چا ہئے لیکن اس کیلئے ہم کو یہ سمجھنا ہو گا کہ کیا ایران پاکستان کی درخواست پر یمن ، شام ، عراق ، لیبیا اور دوسرے ممالک میں مداخلت بند کرسکتا ہے ؟کیا ایران سعودی اتھا رٹی کو مان لے گا؟اور سب سے بڑھ کر کیا امریکہ اور روس دونوں اپنے اپنے ” پہاروؤں “کو صلح کی طرف آنے دینگے !میں نہیں سمجھتا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان نفرتوں کو ہم ختم کرا سکتے ہیں ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پاکستان ا ن دونوں ممالک میں بڑھتی ٹینشن کوجنگ میں بدلنے سے روک سکتا ہے !اس میں بھی کو ئی شک نہیں ہو نا چا ہئے کہ پاکستان سعودی عرب کے زیا دہ نزدیک ہے لیکن اسکو سعودی عرب کو بھی بتا دینا چا ہئے کہ پاکستان کے شیعہ سنی کا ایران ریاض لڑائی سے کو ئی تعلق نہیں ہے لہذا وہ یہاں پر فنڈنگ نہ کرے.

پاکستان کو اس وقت چین کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لیجا نے کی ضرورت ہے اور وسری طرف وا شنگٹن کو بھی اپنے سے دور نہیں ہو نے دینا چا ہئے !پاکستان کو خا رجہ محا زپر اس وکٹ پر زبردست کا میا بی ملی ہے کہ اسلامی ملکوں کے ساتھ پہلے رسمی تعارفی سیشن میں بھا رت شا مل نہیں تھا !او ر اگر ان اسلامی ملکوں کے فو جی اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سپوت جنرل راحیل شریف کے پاس ہے تو مطلب یہ ہوا کہ امریکہ کے ساتھ جتنے بھی فوجی معا ہدے ہونگے انمیں پاکستان کی ٹیکنیکل سپورٹ ضرور ہو گی!ہم کو کسی بھی فرقہ وا رانہ سوچ سے پہلے یہ دیکھناہو گا کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے.