20

شادی بیاه کی تقریبات اور ہمارے خود ساختہ مسائل

اگر بین الاقوامی ممالک میں ہونے والی شادی بیاه کی تقریبات کا اپنے ہاں ہونے والی شادیوں سے موازنہ کریں تو دنیا کے کسی بهی ترقی یافتہ ملک میں شادی ایک انتہائی عام اور سستی سی سرگرمی ہے۔
ترقی یافتہ یا عیسائی ممالک میں لوگ باہمی رضا مندی کے بعد چرچ جاتے ہیں اور میاں بیوی بن کر گھر آ جاتے ہیں. اگلےدن دوستوں اور اہل وعیال کو کھانے کی دعوت پر بلایا، مبارکبادیں لیں۔ چلیں جی ہوگئی اِس طرح نئی زندگی شروع ۔۔

اگر پاکستان میں کسی مڈل کلاس فیملی کی شادی دیکھ لیں تو یقیناً ایسا لگے گا کہ یہ کسی شاہی خاندان کی شادی ہو رہی ہے.بطور مسلمان ہمارا مذہب ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ہمیں ہر رسم سادگی سے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے. لیکن ہم مسلمان اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارنے کے بجائے اسلام کو اپنے مطابق گزارنا چاہتے ہیں اس لیے ہم سب خود کو اسلام کا پیروکار تو کہتے ہیں مگر اس پہ عمل تو دور کی بات، احکامات خداوند ی کے بارے میں غور تک بھی نہیں کرتے۔

لکھنے اور پڑھنے اور واه واه سمیٹنے کی حد تک تو سب ٹھیک ہے لیکن عملی طور پہ ہم میں سے کوئی بھی اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کے تیار نہیں ہے اور یہ معاملہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ مجھ سمیت ہم سب کا ہے۔ ہماری خود ساختہ معاشرتی رسومات میں زیور، جہیز، مکلاوا، واگ پھڑائی، جوتا چھپائی، دودھ پلائی، مایو، مہندی، تمام سسرال والوں کے جوڑے لگائی اور سارے رشتے داروں کی مٹھائی اور بدِ بھجائی وغیرہ وغیرہ ایسے ناسوروں سے بچنا بہت مشکل ہے۔۔

ایک سے بڑی ایک رسم ہم میں اور جتنی زیادہ رسمیں، اتنی ہی زیادہ پریشانیاں اور اتنی ہی زیادہ رشتہ داروں کی باتیں اور ناراضگیاں۔ہماری خواہ مخواہ کی انا، دکھاوا، غیر مذہبی رسومات اور لوگوں کی باتوں اور سوچ کا ڈر ۔۔۔ کہ لوگ سوچیں گے کہ اتنا کمایا اور بیٹی کی شادی اچھے سے نہیں کر سکتا. وغیره
کیوں ہم لوگ ان تین، چار دنوں کی شادی کی تقریبات میں ساری عمر کی کمائی لگا دیتے ہیں۔

نئی زندگی تو شروع ہوجاتی ہے لیکن پرانی زندگی کا خون کیوں چوس لیتے ہیں، جب ہم سب مڈل کلاس یا سفید پوش لوگوں کے ایک ہی جیسے مسائل تو پھر کیوں ہم سب اپنے لیے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں.ہم اپنے ہی جیسے دوسرے لوگوں کو کیا دیکهانا چاہا رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی میں اتنا قرض لیکر اتنا خرچہ کس بات کے لیے کیا ہے؟؟کیوں ہم شادی کے آغاز سے لیکر ختم ہونے تک خون پسینے یا ادہار کی کمای پانی میں بہاتے ہیں؟ہمارے ہاں رشتہ طے ہونا اور کسی پراپرٹی کا بیعانہ دینا ایک جیسا کیوں ہے؟

منگنی کی بات چلی تو لڑکی اور لڑکے والے اپنے اپنے گهر تو باقی لوگ ایک دوسرے کی ”اچھی سیرت اور کردار کی تصدیق کرنے کے لئے نا صرف گھروں میں چھاپہ مار کاروائیاں کرتے ہیں بلکہ محلے داروں سے بھی بھرپور تفتیش بهی کی جاتی ہے۔ کیوں؟منگنی کے بعد پھر بات چلتی ہے شادی کی تاریخ طے کرنے کی۔ دونوں خاندان ایک دوسرے سے مذاکرات کے ذریعے شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔

تاریخ طے کرنے اور الوداع کے بعد چائے کے کپ پر تھوڑی سی غیبت کی چسکیاں لی جاتی ہیں۔۔
دونوں طرف والوں نے ناک رکھنے کے لئے زیور، جہیز اور ولیمے کا بہترین اہتمام کرنا پڑتا ہے۔
پہلے مایواور پھر تیل مہدی پر دعوت طعام کے ساتھ ساتھ ڈھول باجے، لڈی کے اہتمام پر رات کی نیند اجاڑی جاتی ہے۔ ڈھول باجے کا خرچہ، مووی والے، فوٹو گرافر کا خرچہ، کھانے کا خرچہ، دودھ پلائی وغیرہ وغیرہ اگر صرف منگنی کے اخراجات کی لسٹ بنائیں تو اسے ”منی شادی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں.
ساتھ ہی ساتھ دلہا دلہن کے جوڑے، جوتیاں، دونوں طرف سسرالیوں کے لئے ان سلے کپڑے، مہندی کا سامان، ڈی جے کا بندوبست، شادی کارڈ چھپوانا، ناچ گانے کا اہتمام اور ڈھول و بارات والوں کو بلاوے سمیت دعوت طعام کے لئے بھرپور انتظام کیا جاتا ہے۔

شادی کی دعوت آپ ایس ایم ایس یا فون پر نہیں دے سکتے۔ خود گھر گھر جانا پڑتا ہے یا کارڈ بھیجنا پڑے گا..اگر غور کیا جائے تو اخراجات کی اصل وجہ شادی نہیں بلکہ فرسودہ اور خواہ مخواہ کی رسومات ہیں.جو ہمارے کلچر میں بری طرح سرایت کر چکی ہیں۔ اگر ہم مایو، مہندی ، منگنی، جہیز،زیور جیسی فرسودہ رسومات کم کرلیں اور صرف نکاح اور ولیمہ اور شادی مبارک پر اکتفا کرلیں تو کیا ہی خوب کام ہوسکتا ہے.

کیا ہی اچھا ہو کہ فضول رسومات پر سرکاری طور پر پابندی لگا دی جائے، تاکہ غریب کا بھرم بھی رہ جائے اوردین و دھرم کے مطابق اہم فریضہ بھی انجام پا جائے۔ شادی کے معاملات پر ہم سب کو بھی اپنی سوچ کو ری فریم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کبھی نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لوگ جو بھی سوچیں کہ یہ سب اہم نہیں ہے اور نہ اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اہم وہ ہے جو آپ سوچتے ہیںکیونکہ اگر لوگوں کو آپ سے کوئی مسئلہ ہے تو یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہے آپ کا نہیں۔ عمر بہت قیمتی ہے۔ اسے فرسودہ رسومات کی خاطر کبھی نہ گنوائیں