مودی کی برائیوں پر مٹی ڈال دی گئی

مودی امریکی ویزے کے لۓ نا اہل قرارپائے۔ایک دوپہر کی امریکی وضاحت۔انکاپشتنی باشندہ ریاست جموں و کشمیر۔

کہتے ہیں circumstances alter cases – اس دانش کو سمجھنے کے لئے نریندر مودی ایک تازہ مثال ہیں- 18مارچ 2005کودہلی میں تعینات امریکی سفیر نے نریندر مودی کو diplomatic visa کے لۓ نا اہل قرار دینے اور اس کا tourist/business ویزہ منسوخ کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوۓ 21مارچ 2005کو Roosevelt House دہلی میں
بریفنگ دیتے ہوۓ کہا :

Thank you for coming this afternoon to Roosevelt House. I would like to make a brief statement on the issue of Mr. Narendra Modi’s visa status.

The Chief Minister of Gujarat state, Mr. Narendra Modi, applied for a diplomatic visa to visit the United States. On March 18, 2005, the United States Department of State denied Mr. Modi this visa under section 214 (b) of the Immigration and Nationality Act because he was not coming for a purpose that qualified for a diplomatic visa.

Mr. Modi’s existing tourist/business visa was also revoked under section 212 (a) (2) (g) of the Immigration and Nationality Act. Section 212 (a) (2) (g) makes any foreign government official who “was responsible for or directly carried out, at any time, particularly severe violations of religious freedom” ineligible for a visa to the United States.

The Ministry of External Affairs requested that the Department of State review the decision to revoke his tourist/business visa. Upon review, the State Department re-affirmed the original decision.

امریکی سفیر David Mulford نے بی جے پی اور گجراتیوں میں فرق کی وضاحت کرتے ہوۓ کہا:

This decision applies to Mr. Narendra Modi only. It is based on the fact that, as head of the State government in Gujarat between February 2002 and May 2002, he was responsible for the performance of state institutions at that time. The State Department’s detailed views on this matter are included in its annual Country Reports on Human Rights Practices and the International Religious Freedom Report. Both reports document the violence in Gujarat from February 2002 to May 2002 and cite the Indian National Human Rights Commission report, which states there was “a comprehensive failure on the part of the state government to control the persistent violation of rights of life, liberty, equality, and dignity of the people of the state.”

I would also like to speak specifically to the charge that this action was directed at the BJP institutionally or Gujaratis as a community. The United States is deeply appreciative of the role that the BJP, and the Vajpayee government in particular, played in opening the way for the positive transformation in U.S.-India relations. I would note also the great respect the United States has for the many successful Gujaratis who live and work in the United States and the thousands who are issued visas to the United States each month.

As Secretary Rice said regarding her recent visit to India, on behalf of President Bush she shared with the Indian leadership “a vision for a decisively broader strategic relationship, to help India achieve its goals as one of the world’s great multiethnic democracies. This vision embraces cooperation on a global strategy for peace, on defense, on energy, and on economic growth.”

The United States and India, as two great and vibrant democracies, share common values on the freedom of speech, freedom of religion, and representative government. It is our goal to build on those common values as we strengthen our bilateral partnership.

اب امریکہ نے مودی کو گنگا اشنان کے بعد معاف کر دیا ہے اور ایک بے ڈھنگا سا اعلان سید صلاح الدین کے بارے میں جاری کر دیا ہے۔

مجھے سید صلاح الدین کے پشتنی کشمیری ہونے پر رتی بھر اعتراض نہیں۔ اس لۓ اس کے حقوق کا دفاع میرا فرض ہے۔

لیکن میں شاہ صاحب کی عسکری قیادت ، علم قضئیہ کشمیر اور ان کی بلا جواز سفارش کرنے کی اپروچ سے قطعی مطمئین نہیں۔ زیادہ حجرہ نشینی اور حالات سے لا تعلقی بھی مناسب نہیں۔

اگر وہ عسکری قیادت کی صلاحیتیوں اور مشاورت کا درست استعمال کرتے تو وہ tactically حزب کی جنگ بندی کےاعلان کے دوران حزب کو کشمیریوں کی فوج کے طور تسلیم کرانے میں کامیاب ہو جاتے۔ حزب کو تسلیم کئے جانے کا بھارت نے غلطی سے موقع فراہم کیا تھا۔

دنیا کے سامنےبھارتی حکومت اور حزب مذاکرات کی jurisprudence سامنے آنے کے بعد حزب مزاکرات سے الگ ہونے میں آزاد تھی۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوتے۔

لیکن شاہ صاحب نے سارا وقت دنیا بھر کے لۓ تین چار نمائیندے نام زد کرنے میں ضائیح کیا۔ یہاں تک کہ ایک امید وار کی اپنی امیدواری کے دفاع میں کی گئی فون کال رات بھر سنتے رہے اور عالمی سطح کے لۓ سفیر مقرر کرتے رہے۔

نہ حریت کا آئین اور نہ ہی UNCIPقراردادیں یاد رہیں۔ نہ ہی ایک نسل کے شہید ہونے کا تاوان بھارت سے مانگا۔ بھارت مجبور تھا اور مجرم بھی۔ حزب قیادت فائدہ اٹھانے میں تاریخی غلطی کر بیٹھی۔

میں ہمیشہ سیاسی اورغیر فوجیوں کی عسکری بھڑک کے خلاف رہاہوں۔ یہی وجہ تھی کہ 1970کی دہائی میں، میں نے مرحوم بزگ بلند قامت سیاستدان سردار محمد عبدالقیوم خان کے ایک دعوے پر “سردار قیوم کی تیسری بھڑک”عنوان سےکالم لکھ کر اپنے لئے ایک عذاب کی بنیاد رکھ بیٹھا۔ مرحوم ریاستی سیاست کے معتبر شہسوار تھے اور کچھ ملال کے بعد مجھے بلا کر میری راۓسے اتفاق کیا اور انداز تحریر پر مسکرا دۓ۔

شاہ صاحب سردار قیوم تو نہیں اور نہ ہی آج کے دور میں ملال کی کوئی گنجائش ہے۔ اب سیاست،عسکریت اور قیادت mathematics کے اصولوں پر،پرکھی جاتی ہےلیکن ہم شاہ صاحب کا دفاع کریں گے اور ٹرمپ اتظامیہ کو تنبیہ کریں گے کہ وہ اپنی مرضی کا اعمال نامہ شاہ صاب کے ہاتھ میں نہیں تھما سکتے۔