حکومت آزاد کشیرکا وفدخوش آمدید

کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیئے

آزاد کشمیر سے صدر آزاد کے ہمراہ ایک وفد برطانیہ پہنچ گیا ہے۔ اس میں شاید 2 خواتین ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

( شاید اس لئےکیوں کہ حکوت یا صدارتی آفس نے ہمیں کسی طرح کی مشاورت میں نہ ہی شامل کیا اور نہ ہی با خبر رکھنا مناسب سمجھا)۔ مردارکان وفد کی تفصیل کھانے سے پہلے، کھانے کے بعد یا ائیر پورٹ کی استقبالی عکس بندی سے کچھ واضح نہیں۔

البتہ اطہر وانی صاحب کی فیس بک وال پر شروع بحث سے ایک تصویر سامنے آرہی ہے۔

ایک کشمیری، جس نے آزاد کشمیراور پاکستان میں1970کی دہائی میں بہت کم عمری میں سینئیر درجہ اول کے عہدوں کی قید کے باوجود کشمیر کیس کے ساتھ خود کو جوڑے رکھا، مارشل لاء کی پابندیوں کے باوجود کشمیر کیس کےلئے آواز بلند کی اور 1990کی تحریک کی اصل پر بھروسہ کرتے ہوئےبرطانیہ میں اقوام متحدہ اور برطانوی ہوم آفس کی زیر نگران چلنے والے Refugee Unit میں ریفیوجی کونسلر کے اہم منصب سے1993میں مستعفی ہوا تاکہ کشمیر میں جاری تحریک میں حصہ ڈال سکوں کا فرض ہے کہ وہ معاملات پر نگاہ رکھے اور اپنے حصے کی پانی کی بوند آگ کو بھجانے کےلئے اپنی چونچ میں لاۓ۔ میرے جیسے دوسرے احباب کی بھی یہی خواہش ہو گی۔

اس کی ابتداء میں نے 10جنوری 1990کی صبح کو اقوام متحدہ کو ایک برقیہ بھیج کر کی تھی۔ اس راہ میں کافی مشکلات بھی ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری کشمیریوں کی جنگ بھی ایک دلچسپ جنگ ہے۔ ریاست سرکاری کشمیری کا ساتھ دے دے کر ہمیں یہاں تک لے آئی کہ ہمیں بھارت وادی کشمیر میں اب کھلے عام قتل کر رہا ہے اور صرف سانس لینے کی اجازت ہے۔ بے خوف عزت اور وقار کی زندگی جینا ہمارے اختیار میں نہیں۔ بھارتی قابض فوجی نے سب اختیار سنبھال لۓ ہیں۔

ان حالات میں ایک نہیں بلکہ کئی وفود کے برطانیہ آنے کی ضرورت ہے۔

لیکن وفود کی معبریت کے لئے ضروری ہے کی انکی ہئیت درست ہو اور مقصد پر تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہوا ہو۔ حکومتی ارکان کے ساتھ کشمیری Eldersاور دوسرے مکاتب فکر کا حصہ بھی نظر آۓ۔

آزادکشمیر سے آئے وفد کی ہئیت اور نمائندہ حیثیت پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ زندہ اور ذمہ دار قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بحث و مباحثےاور خود احتسابی کے صحت مند عمل کا حصہ رہے۔

صدر آزاد کشمیر کا وفد میں لیڈنگ رول ہوگا۔ اس دورے کا مقصد کسی ہال، کمیونٹی سینٹر یا ہوٹل میں اپنے لوگوں کو جمع کر کے تقاریر کا اہتمام بے مقصد مشق ہوگی۔ درمیان میں اپنی ذات تک با اثر گوروں کو بٹھانے کے نسخے کا کوئی فائدہ نہیں۔

بغیر تنخواہ پر کام کرنے والے with some exception) پاکستانی ٹی وی چینلز کے اکثر نمائندے ہاتھ میں ڈنڈے کے ساتھ لگا مائیک لیکر بوجوہ اس وفد کے پیچھے لگنے یا لگانے سے آپ اپنے ہی لوگوں تک محدود ہونگے اور یہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا والی کہانی ہو گی۔ان مائیک بردار پاکستانی صحافیوں کا اپنا رونا اور اپنی رام کہانی ہے۔

اس سے بہتر ہے کہ کشمیری کمیونٹی دعوتوں پر پیسہ ضائع کرنے کے بجاۓ وفد کےلئے مقامی ٹی وی چینلز پرایئرٹائم خرید کر وفد کو انگریزوں اور برطانوی حکوت کے سامنے کشمیر کیس رکھنے کا موقعہ فراہم کرے۔ نوجوان نسل تک پہنچنے کا بھی یہ واحد وسیلہ ہے۔

وفد میں شامل خواتین اراکین کی جماعتی وابستگی کا برطانوی معاشرے اور حکومت میں کوئی خریدار نہیں۔ ان کی افادیت کا دارومدار علم کشمیریات اور عالمی حالات کی سمجھ بوجھ اور مختلف مکاتب فکر کے ساتھ connect کرنے کی صلاحیت پر ہے۔

انگریز معاشرہ سرکاری وفد میں شامل خواتین کی غیر ضروری خود نمائی کو ہر گز پسند نہیں کرے گا۔ کشمیری بچیاں جو Oxford, Cambridge, Queen Mary, SOAS, Licoln’s Inn یا دوسری Inns اور Universities سے پڑھی ہیں خواتین مہمانوں کی میرٹ سے خالی خود نمائی کو نا پسند کریں گی۔

صدر آزاد کشمیر کا اکیلا اور تنہا رول ایک بڑا چیلنج بن جاۓ گا۔ اور اگر پاکستان کی حکمران جماعت صدر کے منصبی فرائیض پر حاوی رہی اس سے نۓ مسائیل جنم لیں گے۔

4 جولائی کوراجہ نجابت حسین کی سر براہی میں کام کرنے والیJammu Kashmir Right of Self Determination Movement (SDM) کی طرف سے صدر(وفد) کے لۓ 4 بجے ہاؤس آف کامنز میں ایک اہم تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ پروگرام اپنی مقصدیت کے حوالے سے کامیاب رہے.