Doctor Syed Nazir Gilani

تنازعہ کشمیر کی غلط تشریح اور حق خوداردیت کے خلاف سازش

 تنازعہ کشمیر کی غلط تشریح
بشمول کشمیر لکھوانا بھارتی سفارتکاری کی دانش کی فتح تھی۔

ہم تنازعہ کشمیر کی غیر محتاط اور فراخدلانہ تشریح کرتے کرتے اسے کورایشوسے ہٹا کر جون 1997کے اسلام آباد کے پاک بھارت اعلامیے میں آٹھ outstanding issues میں ایک issue کے طور شامل کرنے پر راضی ہو گئے۔

اب تنازعہ کشمیرگیارہ تنازعوں میں ایک تنازعہ قرار دیا گیا ہے۔” بشمول کشمیر” لکھوانا بھارت کی سفارتی دانشمندی کی فتح تھی۔

ہندوستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 33 کے تحت bilateral بات چیت کی ناکامی کے بعد تنازعےکو آرٹیکل 34 کے تحت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پاس لے گیا۔

سیکیورٹی کونسل نے ایک کمیشن کے ذریعے تنازعے کی تحقیقات کرائی۔طویل بحث و مباحثے کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

دو طرفہ یا سہ فریقی مزاکرات کا مطالبہ درست مانگ نہیں۔ اصل مطالبہ اور درست مانگ طے شدہ میکینزم پر عمل درآمد ہے۔

حق خوداردیت کے خلاف سازش
کیا سازشی پھر سرگرم ہوگئے ہیں؟

آج ایک بار پھر حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں کئے جانے والے ریفرنڈم کی حمایت میں صف بندی ہو رہی ہے۔

اللہ کی قدرت دیکھیں کہ جن کشمیریوں (آر پاراور بیرون ملک)سفارتکاروں اور جن بیوروکریٹس نےصدر مشرف کے آوٹ آف بکس کے 4 نکات کی ذاتی مفاد کی خاطر حمایت کےلئے حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں کو ناقابل عمل اور فرسودہ قرار دیا تھا آج وہ دن رات حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں کی یاد میں سینہ کوبی کرکے توجہ کی بھیک مانگ رہے ہیں اور اس کے لئے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہیں۔

صدر مشرف کے 4 نکاتی پلان کے حامی اس ابن الوقت ٹولے نے حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں کی کئی سال
تک مٹی پلید کی اور بے تحاشہ وسائل حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں کو معدوم اور بےکار ثابت کرنے کے لئے استعمال کئے۔ جن لوگوں نے مشرف پلان کی مخالفت کی اور حق خوداردیت اور سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں کی حمایت پر بدستور قائم رہنے کی ٹھان لی انہیں ناپسندیدہ قرار دلاکر ان کا حقہ پانی بند کرنے کا ہر اقدام کیا گیا۔

بالآخر صدر مشرف اور 4 نکاتی پلان کا حامی ٹولہ اللہ کی پکڑ کی زد میں آیااور کشمیر پر سودے بازی کا یہ پلان اپنی موت آپ بغیر کفن کے زمین کے اندر چلا گیا۔

کیا حق خوداردیت اور کشمیری عوام کے ساتھ بے وفائی کرنے والے اس ٹولے کی دوبارہ وفاداری کے تازہ دعوے پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟

حق خوداردیت اور کشمیری عوام کے ساتھ بے وفائی کرنے والوں کی کیا سزا ہونی چاہئے؟کیا ان پر دوبارہ بھروسہ کرنا مناسب ہوگا؟