Doctor Syed Nazir Gilani

صدر صاحب آپ کی سفارتی تجربہ کاری اب “کس کاری”؟

لندن میں ہندوستانی سفارت خانہ خاموشی سے اپنا کام کرگیا۔
ہم ویسے ہی ہیں جیسے ہیومن رائیٹس کمیشن کے 52ویں اجلاس میں 1995میں تھے۔

تنازعہ کشمیر ایک ایسی بیوہ بن گیا ہے جس کے سر پرہر “منڈا کھنڈا” اپنی زوجیت میں لانے کی غرض سے اپنی چادر ڈالتا ہے۔ بیوہ بے چاری غرض مندوں کے ظالم چنگل میں پھنس گئی ہے۔

ہیومن رائیٹس کمیشن کے 1995میں ہونے والے 52ویں اجلاس کی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے حریت کے ڈیلی گیشن، آزاد کشمیر سے آئےہوئے ڈیلی گیشن،امریکہ اور برطانیہ سے آئےڈیلی گیشن میں شامل کشمیریوں کی 52ویں سیشن کے منتخب چئیرمین کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔

یہ میٹنگ اسلئے بھی اہم تھی کیونکہ سیشن کے چئیرمین،Musa bin Hitam ملیشیا کے سابق ڈپٹی پرائیم منسٹر Deputy Prime Ministerتھے۔ چئیرمین نے وفد کا گرم جوشی اور فراخدلی سے welome کیااور کہا کہ زندگی میں پہلی بار اتنے کشمیریوں کو دیکھ کر اور مل کر بہت خوشی ہوئی۔ سفارتی آداب کی مجبوریوں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ نصیحت کی کہ ہمیں کمیشن کے تمام اراکین، حکوتی نمائندوں اور این جی اوزکے نمائندوں سے ملنا چاہیئے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیئے۔

دوران گفتگوچئیرمین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بنیادی میکنزم کو چھیڑےبغیرکشمیریوں کو اور ماڈل بھی تیار رکھنے چاہیں تاکہ بھارت کے فرار کے تمام دروازے بند کر دئیےجائیں۔ ابھی وہ جملہ مکمل کر ہی رہے تھے کہ حریت کی طرف سے بھیجے گئے دہلی میں قائم کشمیرآگاہی بیورکے انچارج نے یہ کہکر ہم سب کو سکتے میں ڈال دیا کہ “جی ہاں میں نے ایک ماڈل ہوم منسٹری کو دیا ہے”-

یہ ماڈل اس نے ذاتی حیثیت میں حریت سے پوچھے بغیر دیا تھا۔ اس انکشاف پر ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ اس “بیوہ” کے کس نے کب اور کس طرح کے ماڈل پیش کئے ہیں، اصل خبراللہ کو ہی ہے۔

ہمارے صدر صاحب ابھی برمنگھم شہرمیں کمیونٹی اور دوسروں کی سیاسی اور سفارتی تبلیغ سے فارغ ہوئےہی تھے کہ بھارتی سفارت خانے نے سب پر پانی پھیر دیا۔ بھارتی سفارت خانے نے ہمیں عقل اور حکمت سے بے بس اور بےوقوف ثابت کردیا۔

بھارتی سفارتخانے اور انڈین کیمونٹی کی بھر پور اور موثر مداخلت اور تگ ودو کے بعد 8جولائی کو برہان وانی ڈےوکٹوریہ سکوائیرمیں منانے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔

منتظین کی نا سمجھی اور حماقت کی وجہ سے بھارتی سفارت خانے نے ایک جائز اور دعائیہ تقریب کو ایسے ناقص اور غیر محتاط پیرائے میں پیش کیاکہ دعائیہ تقریب کا اجازت نامہ Birmingham City Council نےمنسوخ کر دیا ہے۔

برطانیہ یا دنیا کا کوئی بھی قانون دعائیہ تقریب یا انسانی حقوق کی پامالی پر بحث کی تقریب سے نہیں روک سکتا۔ اس پیمانے کے اندر آپ بھارتی افواج کے ظلم، انسانی حقوق کی بھیانک پامالی اور جنگی جرائم کی تشہیر میں آسمان تک جانے میں آزاد تھے۔

منتظین کی ناسمجھی اور حماقت نے ایک نادر موقع فی الحال کھو دیا۔ منتظین کی نا اہلی کا اندازہ سٹی کونسل کے اس جواب سے ہوتا ہے۔

“We took a booking for a peaceful rally highlighting the human rights abuse in Kashmir. However, we are now aware of concerns raised about the promotional leaflet and, having assessed the material, have not given permission for the use of Victoria Square.”

بھارتی سفارت خانے نے سمجھ اور عقل کی ایسی مار دی ہے جس کی اس کے پاس گنجائش ہی نہیں تھی۔ یہ ایک چوری اور پھر سینہ زوری والی بات ہو گئی ہے۔

بھارتی سفات خانے نے ترپ کا پتا کس طرح کھیلا، اس کا اندازہ ذیل کی تحریر سے لگانا مشکل نہیں:
India’s deputy high commissioner, Dinesh Patnaik, sent a “note verbale” on Monday to the Foreign Office. lt stated:

“A rally on Kashmir is a different matter but to glorify and eulogise a terrorist is unacceptable. The UK itself has suffered at the hands of terrorism in the last few months and lives have been overturned as a result. How can law and order allow such a glorification of terrorists and propagation of violence.”

بھارتی مراسلے میں مزید لکھا گیا ہے:

“If the same people celebrating Wani were to plan a similar glorification of Khuram Butt and the other London Bridge terrorists, would this country’s law and order allow that to go ahead as well.”

سفارتخانے نے برطانوی وزیراعظم کے نومبر 2016کے بھارتی دورے کے دوران پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تحریک کشمیر کے پروموشنل لٹریچر کے درج ذیل مندر جات کا خاص نوٹس لیا گیا ہے۔ فالحال لٹریچر میں موجود اس بچگانہ اور احمقانہ مواد نے پورا ایونٹ متاثر کردیا ہے۔:

Promotional material reads:

“We will take back what is ours forcefully. We will not rest until Kashmir is free from Kuffars and hoist the flag of Islamic Ummah.”

ان حالات میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:

صدر صاحب آپ کی سفارتی تجربہ کری اب “کس کاری”۔ خدارا رضیہ کو غنڈوں کے خیر اور شر سے بچانے کی حکیمانہ سوچ سے کام لیں اور بھارت کو اس طرح کی فری کک مارنے کا موقع دینے والوں کے ذمہ کوئی اور کام یا “واردات” لگائیں۔

ہماری محنت پر اس طرح پانی نہ پھیرنے دیں۔ لوہاروں کو سنار بنانے کی سرکاری غلطی نہ کریں۔ یہ جاہل اور بے وضو گورکن ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ آپ جگے نہیں،انہیں کشمیر جگے بنانے کی کوشش نہ ہی کریں توکشمیری بیوہ کیلئےبہتر ہوگا۔

ابھی دو دن باقی ہیں اور اجازت نامے کی بحالی برہان وانی کے لئے دعائیہ تقریب اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر بحث کے لئے ممکن ہے۔مقامی کونسلرز اور ایم پی اور کمیونٹی لیڈران مل کر ایونٹ کا منسوخ شدہ اجازت نامہ بحال کرا سکتے ہیں۔ اس کے بعد سکائی ازدی لمٹ۔