ہندو یاتریوں کی ہلاکت

امر ناتھ گپھا کی یاترا پر آنے والے یاتریوں پر حملہ اور انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس اور قابل مذمت فعل ہے۔

یہ یاتری مذہبی عقیدے کی حرمت کے میزان پر پورا نہیں اترتے کیونکہ یہ کشمیری مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے لشکر کشی کا ایک حصہ ہیں۔ پھر بھی مسلمان اکثیرتی علاقے میں غیر مسلموں کی جانوں کا ضیاع دکھ کی بات ہے۔

کاش کشمیر میں داخل ہونے والے یہ مذبہی جنونی اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بھارتی ہندو بھائی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری مسلمان عورتوں، بچوں، جوانوں اور بزرگوں کے بہنے والے خون پر افسوس اور ندامت کا اظہار کرتے۔ اور معذرت کرتے۔

ہندو مذہب میں کسی ہندو کا دوسرے علاقے میں جا کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانا قطعی جائیز نہیں۔ اگر جائیز ہے تو یہ انسانوں کا مذہب نہیں ہو سکتا۔

ہندو یاتریوں پر حملہ کشمیری مسلمانوں کو بد نام کرنے اور ان پر مزید فوج کشی کرنے کے لئے جواز پیدا کرنا ہے۔ یہ ایک سازش ہے۔