13

قائمقام وزیراعظم نےحکومت کی ترجیحات بتاکرمنصوبہ بندی منظرعام پرلانےکاعندیہ دیدیا

اسلام آباد/سٹیٹ ویوز

قائمقام وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری طارق فاروق نے آزاد حکومت کی تین ترجیحات واضع کرتے ہوئےان ترجیحات اورانکے مندرجات کوتحریری شکل میں منظرعام پرلانےکاعندیہ دیدیا۔

ڈیجیٹل میڈیا سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹرسیدخالدگردیزی سےگفتگو کرتے ہوئےچوہدری طارق فاروق کا کہناتھاکہ آزادکشمیر کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے انتہائی غیر جانبدارانہ الیکشن میں میاں نواز شریف کے وژن کے مطابق بھاری مینڈیٹ دیا تو ہم نے حکومت بنائی ، ہم نےوزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں اپنی ترجیحات ترتیب دیں اوراب ان ترجیحات اورمنصوبہ بندی کوتحریری شکل میں بھی سامنےلائیں گے۔ان ترجحیات کی بنیاد پر کی گئی منصوبہ بندی کے نتائج پہلے سال میں ظاہرہونا شروع ہونگےاوراگلےتین سال میں مکمل طورپرواضع ہوجائیں گے۔پہلی ترجیح تحریک آزادکشمیر ، دوسری آزادکشمیر میں گڈ گورننس اور تیسری ترجیح ہماری آزادکشمیر کے اندر پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنا تھی.

تحریک آزادی کشمیرکےتناظرمیں کی گئی منصوبہ بندی کے حوالے سےسوال کے جواب میں چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ گوکہ حکومت کاکردارآئینی اعتبار سے محدودہےاوراسکادائرہ کاربڑھانےکی کوشش کررہے ہیں اسکےباوجود وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور صدر مسعود خان اپنا بھرپور کردار اداکیااورکررہے ہیں،کل جماعتی حریت کانفرنس کے ساتھ بھی روابط کو مضبوط کر رہے ہیں ، آزادکشمیر میں لبریشن سیل کو متحرک کیا اور تحریک آزادی کشمیرکولیکرمتحرک لوگوں کے ساتھ اپنے روابط قائم کیے اور آزادکشمیر کی اپوزیشن کو بھی کئی معاملات اعتماد میں لیا۔حال ہی میں پیر صلاح الدین کو جب امریکا نے دہشتگرد قرار دیا تو حکومت آزادکشمیر نے اس کی بھرپور مذمت کی اورانہیں گلے لگایاکیونکہ صلاح الدین آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ، وہ ایک سیاست دان تھے پھر مجاہد بنے ، مجاہد بننے کے بعد تحریک آزادی کو نئی جہت دی ، اپنے حق خوداردیت کے لئے لڑ رہے ہیں نہ کہ انہوں نے انڈیا کو فتح کرنے کے لئے کام کیا ، اپنی سرزمین کو قابض فوج سے چھڑانے کے لئے کام کر رہے ہیں، اقوام متحدہ نے بھی ہمارے اس حق کی حمایت کر رکھی ہے ، انسانی حقوق اورآزادی بارےعالمی قوانین بھی ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں۔

کنٹرول لائن کے متاثرین کو بروقت امداد پہنچانے کا انتظام کیا ہے،انڈیا ہماری دیہی آبادی کو ہمیشہ نشانہ بناتارہا ہے ، متاثرین کو بروقت امداد پہنچانا مشکل ہوتا ہے لیکن ہم نے اس حوالے بڑے اقدامات کیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ قومی ایشوز پر ہم ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ، تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کشمیر ایشو کوانتہائی اہمیت دی گئی ہے ، آزادکشمیر حکومت بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی صلاحیتوں کوبروےکارلارہی ہے،بیرون ملک مقیم کشمیری انسانی حقوق جیسےایشوز کے لئے کام کرنے والے این جی اووز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں،بھارت مقبوضہ کشمیر تک عالمی میڈیا کو رسائی نہیں دیتا یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور تک وہاں نہیں جا سکتے ، آزادکشمیر کے سیاسی نمائندوں کو سیاسی جماعتوں کے لبادے سے باہر نکل کر کام کرنا ہو گا۔

قائمقام وزیراعظم نےحریت کانفرنس میں آزادکشمیرکی سیاسی جماعتوں نمائندگی نہ ملنے کے حوالےسےسوال کے جواب میں کہاکہ حریت کانفرنس کوئی سیاسی تنطیم نہیں بلکہ تحریک آزادی کی سپورٹر کے طور پر کام کر رہی ہے ، حریت کانفرنس کو اہمیت دیتے ہیں، ہم حریت کانفرنس کے کردار سےمطمئن ہیں۔انکا جوبھی کام ہے اسکو ہم سپورٹ کرتے ہیں۔حریت کی آزادکشمیرشاخ میں یہاں کی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی ضرورت نہیں۔

گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حصہ ہے ، انتظامی امور کے لئے جو بھی آئینی حقوق ہیں وہ ملنے چاہئے ، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جب بھی استصواب رائے ہوگاان کو بھی موقع ملےگا کہ وہ اس میں حصہ لیکراپنےمستقبل کافیصلہ کریں۔

انہوں نےکہا کہ آزادکشمیر حکومت کی کچھ اپنی حدود ہیں ،ان حدود بڑھانے کی ضرورت ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر سوشل میڈیا کا اچھا استعمال کیا جا سکےاس حوالے سے وزارت اطلاعات کی جو ذمہ داری ہے وہ اسے ادا کرنی چاہیئے ، اگر کوئی نہیں کرتا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری اداکرے۔

حکومت کی دوسری ترجیح یعنی گڈ گورننس کے حوالے سےسوال کے جواب میں قائمقام وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آزادحکومت کی کافی ایچیومنٹس ہیں ، ہم نے انتظامی معاملات پر توجہ دی ، محکمہ صحت کے حوالے سے اہم اقدامات کیے ، میرٹ پر تقرریوں کو اہمیت دی اور دے رہے ہیں ، قابل بیوروکریٹس کو ذمہ داریاں ادا کرنےکےلئے بھرپور مواقع دیئے ، ایڈہاک تقرریوں کو روک دیا ، حق داروں کو ان کا حق دیا جا رہا ہے ، کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ تو نہیں کرتےلیکن بہت بہتری لا چکے ہیں.

میرٹ اورگڈ گورننس کو لیکرلوگوں کے رسپانس کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق کا کہنا ہےکہ لوگوں کو یہ کڑوی گولی پسند نہیں آئی۔آزاد حکومت کے اقدامات سے لوگ خوش نہیں تھے لیکن اب لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ میرٹ کا بول بولاہورہاہے ، ایک عام آدمی کااعتماد بڑھ رہاہے کہ میں میرٹ پر اپنا حق حاصل کرلوں گا۔اس معاملے میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ہمیں آہستہ آہستہ میرٹ اورگڈگورننس کو عوامی سطح پرقبول کرنا پڑے گاکیونکہ اسکےبغیرآگےنہیں بڑھاجاسکتا۔لوگوں کی ہم سے توقعات بہت زیادہ ہیں جو وقت گذرنے کےساتھ پوری ہوسکتی ہیں۔ہم بھی انسان ہیں اوربشریٰ تقاضوں کے مطابق کام کے دوران ہم سے بھی غلطیاں ہونگی اورہورہی ہیں لیکن ہماری نیت درست اورمنزل واضع ہے۔اگلےدنوں میں حکومت کے وزراء مختلف مقامات پر جائیں گے اور لوگوں کو میرٹ کےقیام کےلئےکئے گئے اقدامات سے آگاہ کریں گےاوران سےبھی ان پٹ لیں گے۔

تعمیروترقی کےحوالےسےسٹیٹ ویوز کے استفسارپرقائمقام وزیراعظم کا کہناتھاکہ حکومت تعمیرترقی کولیکر اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ بجٹ دگناہوگیاہے۔ تعمیروترقی سے ہی ریاست میں سیاحت کو فروغ ملے گا، پہلے سڑکیں بنتی تھی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں