13

قائمقام صدرآزادکشمیرنےتنازع کشمیرپرآزادحکومت کےکردارکاپول کھول دیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) قائمقام صدر آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے ڈیجیٹل میڈیا گروپ سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹرسیدخالدگردیزی کے ساتھ ایک دلچسپ نشست کےدوران تحریک آزادی کشمیرمیں آزاد حکومت کے اختیارات بارےسوال کا جواب دیتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر کےلوگوں اورسیاسی جماعتوں کا تحریک آزادی کشمیر میں کردارہے لیکن بطور آزاد حکومت ہم نے فارن افیئرزپاکستان کی مرکزی حکومت کودےرکھے ہیں اس لحاظ سے بین الاقومی سطح پر تنازع کشمیرپرکام کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے اسکےباوجودہم مختلف طریقوں سےحکومت پاکستان کی مدد کرتے رہتےہیں۔

یہ کردارتبدیل کرکےتنازع کےاصل فریق کوآگےکیوں نہ لایاجائے؟ اس سوال کے جواب میں قائمقام صدرشاہ غلام قادرکاکہنا تھاکہ رول تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر ایساکرینگے توسارا نظام بدلنا پڑےگاجومشکل کام ہےتاہم سرگرمیوں کو تیزکرنےکی ضرورت ہے۔نظام کو تبدیل کئےبغیرحکومت آزادکشمیر ایسے ہی تنازع کی فریق ہے جیسے حکومت پاکستان ہے۔حکومت پاکستان بیشک فریق رہے مگر بطور کشمیری ہمیں اپنی سرگرمیوں کو بڑھاناپڑےگا۔

شاہ غلام قادرنےکہاکہ اس میں دو باتیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیرکی قیادت کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ھے۔ مقبوضہ کشمیر میں جلسے جلوس کرنا۔ہڑتالیں کرنا۔مظاہرے کرنا۔مقبوضہ کشمیر کے عوام یہ ذمہ داری ہم سے بہتر اداکررہے ہیں۔ایل او سی کے اس پاررہنے والے ہم لوگوں کی ذمہ داری ھے کہ بین الاقوامی فورمز پر جا کر کردار اداکریں۔ اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ زیادہ کررہے ہیں یاکم کررہے ہیں۔ان دنوں وزیراعظم آزادکشمیر اوآئی سی کے کنٹکٹ گروپ کی میٹنگ میں ہیں اور صدرریاست برسلز پارلیمنٹ میں ہیں۔کچھ دنوں بعد میں نے اورپارلیمانی وفد نے جانا ہے۔اس سرگرمی کو بڑھایاجاسکتا ہے۔جب ہم بات کرتے ہیں تو لوگ سننے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو چاہیئے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ بیٹھے اوران سے تجاویز لےکہ تنازع کو بین الاقوامی سطح پر کیسے لےجانا ہے۔ہمارےہاں بعض سیاسی قائدین پوائنٹ سکورنگ اورسادہ لوح لوگوں کو مزیدسادہ بنارکھنےکیلئے کہتے رہتے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کی پامالی کو لیکرانٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں جائیں۔اس فورم پر ریاست جاسکتی ہیں۔ہم متنازعہ علاقہ ہیں اورتسلیم شدہ ریاست نہیں ہیں تو کیسے جاسکتے ہیں ہاں البتہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت اسطرح کے درجنوں بین الاقوامی فورمزپر جاسکتے ہیں۔میں تجویزکرونگا کہ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کرے جس میں یہ بات ہوکہ بھارت کشمیر میں لوگوں کو مارنا چھوڑدے۔

جب آزادحکومت تنازع کولیکربا اختیارنہیں ہےتولبریشن سیل کیسے قائم ہے اورکیاکام کرتا ہے اس سوال کے جواب میں قائمقام صدر کاکہناتھاکہ لبریشن سیل کےسربراہ وزیراعظم ہیں اوریہ سوال ان سے متعلق ہے۔میرے ساتھ اس معاملے میں مشاورت نہیں ھے اس لئے میرے پاس سیل سے متعلق معلومات نہیں ہیں کہ یہ سیل کیسے اورکیا کام کرتا ہے۔

انتظامی یونٹ کے اعتبار کے آزادحکومت لائن آف کنٹرول کے متاثرین کیلئے کیاکرتی ہے اس حوالے سے قائمقام صدر کا کہنا تھاکہ سول انتظامیہ فوج کی مدد سے ایل او سی پر بہترپرفارم کررہی ہے۔میراحلقہ نیلم چونکہ اسی فصید ایل او سی پر واقع ہے اس لئے انتظامات کا ادارک بھی ہے۔ کسی بھی جگہ ایل او سی پر واقعہ کی صورت میں فوج اور سول انتظامیہ کا متاثرین کو لیکر ریسکیو اور بحالی میں کردار زبردست ہے۔

کشمیرکے دوسرےحصے سےآزادکشمیرآئےلوگوں کے ساتھ حکومت کیا سلوک کررہی ہے اورانہیں انٹرنل ڈسپلیس پرسنز(آئی ڈی پیز) کی بجائے مہاجرکیوں کہا جاتا ھے؟اس سوال کےحوالےسےشاہ غلام قادر کا کہنا ہے کہ 1989 اوراسکےبعد ہجرت کرکے آنے والےکشمیریوں کو ٹینٹوں سےگھروں میں شفٹ کرنے کیلئے کام تیزی سے جاری ہے۔بعض مقامات پر اراضی حاصل کی جارہی ہے اوربعض مقامات پر تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ بہت جلد وہ مکانات میں شفٹ ہوجائیں گے۔اسی طرح چونکہ وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں بھارت کا قبضہ ہے جسکی وجہ سے بین الاقوامی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے انہیں مہاجرین یا آئی ڈی پیز کہاجاسکتاہے۔اب انہیں مہاجرین کہاجائےیاآئی ڈی پیز اس معاملے کو لیکر لمبی قانونی بحث کی ضرورت ہے جو میڈیاپر نہیں ہونی چاہیئے۔ ابھی حیسے چل رہا ہے اسے چلنے دیا جائے۔

آزادحکومت کےاختیارات اورایکٹ 74 میں ترامیم کے حوالے سے پوچھےگئےسوال کےجواب میں قائمقام صدرکاکہناہےکہ حکومت آزادکشمیربااختیارہے تاہم اٹھارویں ترمیم کےبعد جسطرح صوبوں کو اختیارات ملے اسطرح آزادحکومت کو وہ اختیارحاصل نہیں ہوئے اس مسئلےکےحل کےلئےوفاقی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کو ہم نے ایکٹ 74 میں ترامیم کی تجاویز پیش کی ہیں جن پر گفتگو کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔چونکہ اس معاملے میں کافی اداروں کی تجاویز کی بھی ضرورت ہے انکی رائےآئےگی تو دوسرامرحلہ شروع ہوگا۔ہم ایسا اختیار نہیں مانگ رہے جو کسی صوبے کو حاصل نہیں ھے تاہم اپنی کارکردگی بہتر بنانےکیلئےاپنی حدود میں رہتے ہوئے اختیارات مانگ رہے ہیں۔

تحریک آزادی کشمیر کاضامن معاشی حوالے سے مضبوط آزادکشمیر ہے یاپاکستان؟اس سوال کےجواب میں شاہ غلام قادر کا کہنا تھاکہ تحریک آزادی کا ضامن مضبوط ومستحکم پاکستان ہے۔پاکستان کی فوج اورسیاسی قیادت ہے۔پاکستان مضبوط ہوگاتواسکےاثرات آزادکشمیرپربھی مرتب ہونگے بصورت دیگرکنارہ کشی کی صورت میں آزادکشمیر میں مضبوط نہیں ہوسکتا اورنہ ہی ضامن ہوسکتاہے۔

ہمارےلوگوں کو زمینی حقائق کاعلم نہیں۔پاکستان تنازع کشمیر کا فریق ہی نہیں بلکہ ہماراوکیل بھی ہے۔معاہدہ کراچی کے تحت ہم نے انہیں اختیارات دیئے اورپھرایکٹ 74 کےتحت بھی چاراہم شعبہ جات حکومت پاکستان کو دیئےگئے۔یہ وہی ہوا جیسےبرٹش راج میں تاج دہلی کو ریاستوں کا اختیار دیا گیاتھا۔ہم نے نئی بات نہیں کی۔

بنیادی فریق کی حثیت سےکھل کرتنازع کشمیرپرکام کی بجائے حکومت پاکستان کےپیچھےچھپنے بارےسوال کے جواب میں شاہ غلام قادرکاکہناتھاکہ ہم پاکستان کے پیچھےچھپ نہیں رہے بلکہ تنازع کےدومیں سےایک فریق کوہم نےاپناوکیل بھی مقررکیاہواہے۔ ذرا غورکریں تو مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم کوتابوت کےاردگرد لپیٹ کرلوگ پاکستان بارے رائےکا اظہارکرتےہیں۔یہ پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ہے اوریہی تنازع بھی ہے۔اگرلوگ یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ ہندوستان میں شامل ہوناچاہتے ہیں تو پھر تنازع ہی ختم ہوجائےگا۔تلخ بات ہے لیکن ذراغورکریں تو جموں کے تین اضلاع میں مسئلہ کشمیرنہیں ھے۔لداخ۔گلگت بلتستان اورآزادکشمیر میں بھی مسئلہ کشمیرنہیں ھے۔اگریہ مسئلہ زندہ ہے تو سرینگر میں ہے۔

برہانی وانی کی شہادت پر پانچ ماہ کرفیو نہ ہوتا۔وہاں کے لوگ اور فریدہ بہن جی۔آسیہ اندرابی۔میرواعظ۔علی گیلانی۔یاسین ملک وغیرہ اگر نہ ہوں تو ہمارے یہاں بیٹھ کر بیانات سے تنازع تو نہیں چلےگا۔لوگ پاکستان کے ساتھ جڑےہوئےہیں اورتنازع بھی کھڑا کئےہوئےہیں اسی لئے میں نےپہلے کہاتھاکہ مضبوط و مستحکم پاکستان ہی تحریک آزادی کا ضامن ہے۔بھارت دنیابھر سےپاکستان پر دباؤ ڈلواتاہے۔دوقومی نظریہ کے تحت شکست کو بھول نہیں پارہا۔

تنازعہ کشمیرکےسیاسی وسفارتی محاذ پر کردادکےحوالےسےشاہ غلام قادرکاکہناتھاکہ ڈیجیٹل میڈیا کے دورمیں بین الاقوامی سطح پر نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اپنی ہی کہانی اپنے ہی لوگوں کو سنانی ہے یا پھر دوسروں کو بھی سنائی ہے۔میں اپنی کہانی دنیابھرمیں دوسروں کو سنانے میں دلچسپی رکھتاہوں۔دوسروں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئےنت نئےآئیڈیازپرکام کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ اپنوں کو کہانی سناناچھوڑ کرانہیں غیرمتعلق کردیاجائے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ متوازی پالیسی ترتیب دی جائے۔

اقوام متحدہ میں تنازع کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کےاتفاق اوراختلاف والے اموربارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہ غلام قادرکاکہنا ہے کہ 1962 سےپہلے دونوں ممالک قراردادوں پراتفاق کرتے تھے کہ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 میں ترامیم کرکے اورکشمیرکواپناحصہ قراردیکر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جبکہ پاکستان نے اپنےزیرانتظام علاقےکی متنازعہ حثیت برقراررکھ کراورکشمیریوں کےحق استصواب رائےکوتسلیم کرنےسمیت رائے شماری کرانےکیلئےتیار ہونےکا عندیہ دیکربھارت کو اخلاقی و قانونی طور پرشکست دیدی ہے۔بھارت کے مقابلے میں کشمیریوں اورپاکستان کا سٹینڈ اورموقف زیادہ مضبوط اورواضع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں