نقطہ نظر / ڈاکٹر سید نذیرگیلانی

دہشت گردی اورہماری غطیاں

ہماری غلطیاں اور بد بختی
بھارت کی عیاری اور خوش بختی

بھارت کی سفارتکاری کا مرا ہوا سانپ ہماری غلطیوں، بدبختی اور کم فہمی کی وجہ دوبارہ اتنا تازہ دم ہوا ہے کہ وہ ہمیں دہشت گردی کے الزام میں دہلی، لندن،واشنگٹن، مڈل ایسٹ اور تل ابیب کے علاوہ جگہ جگہ زچ اور بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ کشمیریوں کا ایک حلقہ بھی بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور کشمیریوں کو (خود کو) دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

ہماری پہلی غلطی جون 2000 کے حزب کی طرف سے جنگ بندی کے فوری بعد کے عمل کو تحریک کرنے اور سنبھالنے میں دیر اور ناکامی تھی۔

میں نے تب لکھا تھا کہ:
“The Sovereign State of India had created an opportunity of a de facto and de jure recognition of the military component of Kashmir struggle. Cease-fire does not mean a surrender of a gun. Kashmiri militancy was free to keep its guns and only a temporary suspension of its use was required.”

حزب کے ہاتھ سے یہ موقع بات چیت کرنےوالوں کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے نکل گیا۔

Hizb leadership did not wait for a local, national and international in put which could have sealed the question of a legitimate Kashmiri militancy. A legitimate militancy has now been labelled as terrorism. We have given India an undeserved whip to beat us at will.

ہماری دوسری غلطی وزیراعظم اٹل بہاری کی رمضان کے احترام میں نومبر 2000کی یک طرفہ جنگ بندی سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھانا تھی۔

ہماری تیسری غلطی حریت چئیرمین کی نومبر 2001کی یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان تھا۔

حزب کی جنگ بندی پر حریت کے تحفظات تھے اورحریت کی جنگ بندی پر حزب کے تحفظات تھے۔

ہم تینوں جنگ بندی کے اعلانات سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور بھارت ہماری صفوں میں موجود کمزوریوں کو بھانپ گیا۔

ہم اقوام متحدہ بالخصوص ہیومن رائیٹس کمیشن میں بھارت کے خلاف بہت جاندار اور مضبوط تھے۔ JKCHR اور WSV نے اوروں کے علاوہ سردار خالد ابراہیم ایم ایل اے، عبدالرشید ترابی ایم ایل اے، سردار عتیق احمد خان ایم ایل اے اور دوسروں کوہیومن رائٹس کمشن میں خطاب کے لۓ سپانسر کیا۔

جنرل مشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد ہماری بالا دستی اور حق خودارادیت آہستہ آہستہ ایک سازش کا شکار ہوۓ۔ پہلی سازش اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دوری اختیار کرنا تھی۔ اچانک اقوام متحدہ کی قراردادیں اور حق خودارادیت پاکستان کے قومی بیانئے اور کشمیریوں کے بیانئے سے غائب ہو گۓ۔

جنرل مشرف کے 4 نکاتی آوٹ آف بکس حل نے کشمیر پر 1948 سے چلے آۓ بیانئے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ رہی سہی کسر ایک ابن الوقت اور موقع پرست ٹولے نے پوری کر دی۔

جنرل مشرف کے 4 نکاتی حل کے پہلے نکتے کے درج ذیل حصے سے ہمارے پاگل پن اور بد بختی کا اندازہ ہو جاتا ہے:

“Are all these on the table for discussion, or are there ethnic, political, and strategic considerations dictating some give and take?”

چونکہ اس دن جنرل مشرف کو بیںگن اچھے لگے تھے اس لۓ سبھی بیںگن کی تعریف میں پہل کرنا چاہتے تھے۔

کشمیر کے بیانئے پر دفتر خارجہ کی ناقص کار کردگی کا 15جنوری 1948کو سلامتی کونسل میں پیش کئے گئے جواب ڈاکومنٹ ون۔ٹو اورتھری سے آسانی سے ہوتا ہے۔ ان میں موجود خامیوں اور خرابیوں کا یہاں تزکرہ مناسب نہیں۔

غلطیوں کے انبار میں ایک اور بڑی غلطی کا ذکر مناسب ہوگا۔ ہم نےبھارت دوستی کے احترام میں 5 نومبر 1965 سے لے کر 15 ستمبر 1996 تک کشمیر کا سلامتی کونسل میں تذکرہ نہ کرنے کا لمبا روزہ رکھ لیا تھا۔

ہم اپنے دشمن خود ثابت ہوئے ہیں۔ ورنہ بھارت کی عیاری کی sell by date کبھی کی ختم ہوئی ہوتی۔ بھارت کی اب کشمیر میں موجودگی ایک قابض اور جارح کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا مسلمان ہماری کمزور، نیم دلانہ اور ایڈہاک کشمیر پالیسی کی وجہ مارا جا رہا ہے۔

جس دن ہمارے کشمیر کے بیانئے میں جان اور یکسوئی پیدا ہوگی اس دن سے بھارت کی شکست کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگا۔ بھارت اب کشمیر میں جنگ ہار چکا ہے اور وہ اب جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

ایوب خان نے انڈس واٹر ٹریٹی کے بارے میں 4 ستمبر 1960 کو ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا:

“That the terms of the Treaty were ‘the best we could get under the circumstances, many of which, irrespective of merits and legality of the case, are against us.”

Herbert Feldman

اپنی کتاب Revolution In Pakistan کے صفحہ 189 پر لکھتا ہے:

“There is in this address an undertone of apology, as if to imply a sense of sacrifice which the Martial Law administration would have avoided if it could; but what exactly had been sacrificed it is difficult to say.”

رب کریم سے دعا ہے کہ آئندہ کشمیر کے معاملے میں ایسی کسی قربانی کی ضرورت نہ پڑےاور ہمارادفتر خارجہ کشمیر کیس کی jurisprudence کی حرمت اور کشمیریوں کے بھروسے کی لاج رکھے گا۔ اصولوں اور طے شدہ اقوام متحدہ کے میکینزم پر عملدرآمد میں پاکستان کاآئین کے آرٹیکل 257 میں درج sovereign interest محفوظ ہے۔ وقتی گپ شپ کی جگہ independent expert in put کی ضرورت ہے۔