نقطہ نظر/ سید علی رضا

18

راحت بیکرز کی شاندار خدمات اور ہماری بے بنیاد تنقید

آج سے تقریبادو سال قبل ستمبر پندرہ 2015 کو راحت بیکرز مظفرآباد کی صورت میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت کے پرائویٹ سیکٹر میں ایک شاندار برانڈ کا اضافہ کیا گیا جس کی باز گشت پورے ملک سے سنائی دی. راحت بیکرز مظفرآباد پر اشیائے خوردنوش، فاسٹ فوڈز اور مختلف قسم کے جوسز جن کے معیار پر کھبی کوئی سمجھوتہ نہ کیا گیا، مناسب نرخوں پر مہیا کئے گئے- دارالحکومت مظفرآباد کے شہریوں کو جب ایک عمدہ معیار کی بیکری اور بیٹھنے کے لئے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق جگہ میسر آئی تو عوام کی کثیر تعداد نے اس جگہ کا رخ کیا-

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مظفرآباد کی باقی تمام بیکریاں، راحت کی نسبت پست نظر آئیں- اسی دوران ایک سال کے مختصر عرصے میں مظفرآباد کی عوام نے راحت کو اتنے پیار سے نوازا کہ دومیل کے مقام پر دوسری شاخ کا قیام عمل میں آیا- جس کے ساتھ مظفرآباد کیفے کے نام سے ایک ریفریشمنٹ سنٹر کا قیام بھی عمل میں آیا جو دیکھتے ہی دیکھتے دو مہینے کے کم ترین عرصے میں کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا.

کہا جاتا ہے جہاں دوست ہوں وہاں دشمن بھی ضرور ہوتے ہیں اور پھر ایک ایسا خاندان جس کا چشم و چراغ ایک بڑے قد کاٹھ والا سیاسی لیڈر ہو تو اس کے دشمن نہ ہونے کا گمان کرنا ایسے ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے- راحت بیکرز کی کامیابی بعض سیاسی اور بعض کاروباری مخالفین کو پسند نہ آئی اور وہ مختلف حیلوں بہانوں سے اس کے خلاف پروپگینڈے میں مصروف رہے- مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور راحت کامیابی سے ترقی کی بے پناہ منازل طے کرتی گئی- بات یہاں پر نہ رکی اور مخالفین نے تو تب حد ہی کر دی.

جب گزشتہ دنوں ایک معمولی سی شکایت کو بنیاد بنا کر مخالفین نے سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفت کے پیش نطر راحت بیکرز کو خلاف زہر اگلنا شروع کیا- سوشل میڈیا پر ایک فرائی چکن پیس کی ویڈیو اپلوڈ کی گئی جس میں زندہ مشرومز دکھائے گئے اور اس ویڈیو کو راحت کے ساتھ منسوب کیا گیا- اب اس بات کو تو انسانی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی کہ چکن تو فرائی ہو گیا لیکن اس کے اندر مشرومز زندہ بچ گئے.

اتنا بلند درجہ حرارت کہ جس میں ایک چیز پک کر بھون گئی، اس کے اندر کسی مشروم کا زندہ رہنا کیسے ممکن ہے- مخالفین کو جب یہ دلیل دی گئی تو ان کا جواب تھا کہ چکن تو کئی دن پرانا تھا اور فریزر میں رکھا گیا جس سے خرابی پیدا ہوئی- اب یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ڈی فریزر کی اندر تو درجہ حرارت اتنی کم سطح پر ہوتا ہے کہ وہاں بیکٹیریا کی افزائش ممکن ہی نہیں- ایسی بے بنیاد باتیں پھیلا کر مظفرآباد کی سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی- راحت بیکرز کی دونوں برانچز کا یہ حسن نظر رہا کہ کوئی بھی کسٹمر بیکری کا کارخانہ اور کچن چیک کر سکتا ہے.

یہ بات راحت کی انتظامیہ کی جانب سے میڈیا میں بھی کہی گئی لیکن پھر بھی سوشل میڈیا پر غیر معروف پیجز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے مظفرآباد کے عوام کے لئے ایک نعمت جیسی چیز کا سہارہ لیتے رہے ہیں- اگر کوئی بندہ بیکری سے چیز لے جائے اور گھر میں جا کہ چھوڑ دے، پھر اس موسم میں اگر وہ چیز خراب ہو جائے تو اس میں بیکری انتظامیہ کا کیا قصور- اس موسم میں تو گھروں میں پکنے والا کھانہ ایک وقت سے دوسری وقت تک ٹھیک نہیں رہتا- مخالفین کی شکایتوں پر جب انتظامیہ کے افسران نے موقع پر جا کر بیکری میں موجود اشیاء خوردنوش کا معائنہ کیا اور تمام چیزیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پائییں گئیں-

گزشتہ دو سالوں میں راحت بیکرز نے مظفرآباد کے اندر ہمیشہ اپنا مثبت کردار پیش کیا- مظفرآباد جیسے شہر میں راحت بیکرز کی صورت میں غریب عوام کو ایک پارٹ ٹائم اور فل ٹائم روزگار کی سہولت میسر آئی- اس وقت بیکری میں ۰۵۱ کے قریب افراد ملازمت حاصل کئے ہوئے ہیں- بیکری سے ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں روپیمختلف محصولات کی مد میں ادا کئے جا رہے ہیں- راحت بیکرز نے مطفرآباد کے سوشل سرکل میں ہونے والی نوجوانوں کی مختلف سرگرمیوں کو سپورٹ کیا اور ایک صحت افزاء معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا- راحت بیکرز نے غریب اور نادار طلباء و طالبات کے لئے ایک امدادی ڈیسک قائم کیا اور درجنوں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو ماہانہ بنیادوں پر کثیر رقوم کی صورت میں امداد فراہم کی.

بیکری نے غریب لوگوں کے لئے راشن ڈیسک بھی قائم کیا جس سے ماہانہ بنیادوں پر درجنوں خاندانوں کو مفت راشن کی تقسیم کی جاتی ہے- آج سے پہلے یہ باتیں کبھی بھی میڈیا پر نہیں کہی گیئں کیونکہ یہ سب خالصتان ثواب کی نیت سے کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا لیکن مخالفین کی تنقید کے پیش نظر انہیں متزکرہ بیکری کا یہ چہرہ دکھانا بھی لازم ہے- راحت مظفرآباد کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں ہے، غلطی کسی بھی انسان سے ہو سکتی ہے، راحت کے اندر کام کرنے والے محنت کش بھی انسان ہیں وہاں فرشتوں سے کام نہیں لیا جاتا.

اگر غلطی سے کسی ملازم کا کوئی بال آپ کے کھانے میں آ گیا تو اسے معاف کرنا سیکھیں یا پھر اگر آپ سے زیادہ ہی برداشت نہیں ہو رہا تو بیکری کے مالکان کو خبر کریں نہ کہ ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پہ ڈالیں اور پہلے سے ہی ہیجان میں پڑی ہوئی قوم کو مزید ہیجان میں مبتلا کریں ایک نعمت جیسی چیز کی قدر کرنا سیکھیں، کیونکہ جو قوم نعمتوں کی قدر نہیں کرتی اس سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں-