نقطہ نظر/سردار جنید

22

وقت گواہی دے گا کہ ہم کھڑے تھے

عمران خان کی قیادت میں ہم نے ایک جنگ لڑی اپنے ملک کے لئے اس مافیہ کے خلاف جو ایک عرصے سی ملک لوٹ رہا تھااور پھر لوگوں کے ضمیروں کو خرید کر قانون کی پکڑ سے بچ نکلتا تھا مگر اب کی بار ایسا نہ ہوا دو چار بار پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ جانا ہوامجھے یاد ہے .

دسمبر جنوری کی سخت سردیاں جس میں صبح کے وقت عمران خان آتا تھا عدالت اپنی قوم کے پیسے کا کیس لڑنے اسی عدالت میں اللہ پاک کی مدد سے عمران خان نے کرپٹ مافیہ کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے ان اداروں کو بے نقاب کیا جو بیٹھے تو احتساب کے لئے تھے مگر ضمیروں کے سوداگروں سے پیسہ لے کر انکی کرپشن پر چپ پیٹھے تھے اسی وجہ سے عدالت عظمیٰ نے ان اداروں کو مردہ قرار دیاعمران خان کے ساتھ اسکی قوم کے لوگ جو کھڑے تھے تاریخ انکو بھی نہ بھولے گی ۔

عمران خان کی کال پر یہ لوگ باہر آتے اور حکمرانوں کے خلاف جاگ کھڑے ہوئے 2 نومبر سے پہلے گرفتاریاں دیں کمیٹی چوک میں عمران خان کے شیروں نے شیلنگ کا مقابلہ کیا اس میں وہ نوجوان طبقہ بھی تھا جو ماضی میں سیاست سے کنارہ کش رہ کر اپنا مستقبل پاکستان سے باہر بنانا چاہتا تھا اس میں یوتھ ونگ کے چیتےبھی تھے اور آئی ایس ایف کے مستقبل کے معمار بھی سب کھڑے تھےاب فیصلہ پاکستان کی عدلیہ نے کرنا ہےایک جھونپڑی والے سے لے کر بنگلےوالے تک کی نظر عدالت پر ہے یہی امید ہے کہ بس ایک روشن صبح ہونے کو ہے