نقطہ نظر/ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

الحاق پاکستان کی غلط تشریح

کشمیر کی سیاست ریاست کی تینوں اکائیوں میں اپنا ایک مزاج اور ایک تاریخ رکھتی ہے ۔ ایک بار جواہر لعل نہرو سری نگر آۓ اور وزیر اعظم غلام محمد بخشی کی کابینہ کے ایک وزیر سے دریافت کیا” How are you Mr. Sogami”. مسٹر سوگامی آپ کیسے ہیں؟

سوگامی انگریزی نہیں پڑھےتھے اور یوں بھی زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ البتہ حاضر دماغ تھے۔ جواب میں سوگامی نے کہا “بخشی صاحب کی مہربانی”۔

یہ کوئی 1953کے بعد کا قصہ ہے جب شیخ عبداللہ کو اقتدار سے ہٹا کر قید کر دیا گیا تھا اور بخشی غلام محمد وزیر اعظم مقررہوۓ تھے۔

آزاد کشمیر میں بھی آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان کے مقامی “سوگامی” موجود ہیں۔ یہ مقبوضہ کشمیر کے سوگامی کے مقابلے میں گریڈ دو”Grade 2″کے سوگامی ثابت ہوۓ ہیں۔ یہ مہربانی کی چابی سے چلتے ہیں۔

علم کشمیریات کی کمی اور Jurispudence of Kashmir Case کی درست سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ حالت جہات میں یہ لیڈران اور ان کے جان نثار الحاق پاکستان کی شق اور حلف کی غلط تشریح کرکے فساد برپا کرتے چلے آۓ ہیں۔ آج کل سمجھ بوجھ کا یہ فساد زوروں پر دکھائی دے رہا ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اگرچہ اپنے انداز میں رولا رپہ ڈالا کہ کشمیریوں کو درجہ دوئم کے لوگ نہ سمجھا جاۓ، درست ہے بھی اور درست نہیں بھی لیکن اپنی معتبریت کے حق میں، دی گئی یہ دلیل کافی نہیں۔

جب تک آپ کی معتبریت اورآپ کا استدلال مخالف اور مخاطب سے بہتر اور افضل ثابت نہ ہو آپ کم مایہ اور درجہ دوئم ہی قرار پائیں گے۔ وزیر اعظم کو شائد علم ہی نہ ہو کہ Dr. Frank P. Graham نے اقوام متحدہ کو پیش کی گئی رپورٹ میں کشمیریوں کو “People of legend, with a song and story” قرار دیا ہے۔ دنیا کی کسی اور قوم کی آج تک اس طرح کی افضل تشریح نہیں ہوئی ہے۔

پاکستانی اور کشمیری پریس کے سامنے کشمیری شناخت کا دفاع کرنے کے بجاۓ انہوں نے “سوگامی” والا جواب دیااور کم وبیش “نواز شریف کی مہربانی” ہی کہا۔

آئین ایکٹ 1974کی شق 7(2) اور حلف میں الحاق پاکستان کی شرط کی غلط تشریح کر کے فساد برپا کیا جاتا ہےاورہم مرغی یا انڈہ والی بحث میں الجھے ہوۓ ہیں۔

یہ شق اور حلف کسی بھی لیڈر یا ریاستی باشندے کو UNCIP کی قراردادوں پر عمل کرنے سے منع نہیں کرتے۔ بلکہ UNCIP کی قراردادوں پر عمل کرنا اور کرانا حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ ان قراردادوں پر عملدرآمد کے بغیر شق 7(2) اور حلف میں موجود الحاق پاکستان کی شرط بے معنی ہیں۔

ہماری سیاست میں موجود “سوگامی” ہی ہماری بڑی پرابلم ہیں۔ UNCIP کی قراردادیں حق خودارادیت کی ضمانت ہیں اور حق خودارادیت کے حصول کے بعد آئین پاکستان کی شق 257 کے تحت الحاق پاکستان کا پروسیس شروع ہوتا ہے۔ اس میں ابہام یا الحاق پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

ہمارے “سوگامی” مہربانی کا حق اداکرتے کرتے اسلام آباد میں بیٹھے اصحاب اقتدارکو چاپلوسی کی ایسی لسی پلا دیتے ہیں کہ وہ UNCIP کی قراردادوں اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 کے مابین تعلق اور رشتے کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت کو ابھی تک نہیں سمجھ پاۓ۔

کشمیریوں نے چیف سیکریٹری کو پاکستان اور اسلام آباد میں صاحب اقتدار “سوگامیوں” کی بھونگیوں کو کشمیر کیس کی Jurisprudence سمجھ بیٹھے ہیں۔جہالت ہی فساد کی اصل جڑہ ہے۔