سید خالد گردیزی

15

وزیراعظم آزاد کشمیر کا جرم اور نا اہلی کا مطالبہ

آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان سے الحاق سے متعلق “متنازعہ اظہار” پر آزاد کشمیر کے اندر اور پاکستان کے اندر سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں کیونکہ انہوں نے حلف شکنی کی ہے ۔ ان پر آرٹیکل6 کے تحت “High Treason” کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ پی پی پی آزاد کشمیر، پی ٹی آئی آزادکشمیر اور مسلم کانفرنس کم وبیش سبھی وزیراعظم آزاد کشمیر کی آرٹیکل 6 کے تحت یا اس کے بغیر گردن زنی پر متفق نظر آتے ہیں۔

پاکستان کے قائدین (غیر ریاستی)، دانشوروں، میڈیا کی Agony Aunts اور دوسرے صاحب راۓ پاکستانی شہریوں کی خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ مملکت پاکستان اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کے الگ اور جدا آئین ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر آئین پاکستان میں ایک اجنبی Alien ہیں۔ وہ آرٹیکل 6 کی گرفت میں نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہوتے تب بھی ان کا بیان آئین پاکستان کو abrogate کرنے، یا abrogate کرنے کی کوشش یا سازش کی تشریح میں نہیں آتا۔ نہ ہی ان کا بیان آئین کوshow of force or use of force یا کسی اور unconstitutional طریقے سے subvert کرنے کی تشریح میں آتا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیرکا مستقبل کا پاکستان کے ساتھ تعلق اور اس تعلق کو پیداکرنے کا طریقہ کار آئین پاکستان کی شق 257 میں درج ہے۔ اس تعلق کی بنیاد اکثریت کی مرضی ہے۔

آئین آزاد کشمیر کی بنیاد UNCIP کی قرارداديں ہیں۔ ان قراردادوں کے تحت یہاں کا نظام اقوام متحدہ کی نگرانی میں مقامی جوڈیشل میجسٹریٹس Local Judicial Magistratêsکے ذریعے چلایا جانا تھا۔ یہ آزاد کشمیر کے نظام کی de jure پوزیشن ہے۔

البتہ اس وقت de facto پوزیشن یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے UNCIP قراردادوں کے تحت “قرار پائی”ذمہ داریوں کو نبھانے اور حق خود ارادیت کے لۓ ضروری اقدامات تک آزاد کشمیر میں Better Government and administration فراہم کرنے کے لۓ ایک ایکٹ 1974 کی صورت میں ایک تحریری معاہدہ کیا ہے۔

اس ایکٹ کی جزویات پر تحفظات اور مختلف آراء ہیں۔ البتہ اس امر اور یقین پر دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ اس ایکٹ کا UNCIP قراردادوں میں درج ذمہ داریوں اور آئین پاکستان کی شق 257 پر پورا اترنا بنیادی شرط ہے۔ حکومت پاکستان کی آزاد کشمیر میں موجودگی کی jurisprudence اور واحد وجہ UNCIP قراردادوں میں درج دی گئی ذمہ داریاں ہیں۔

اس امر کی وضاحت ہونی بھی ضروری ہے کہ ان ذمہ داریوں کی تفصیل کیا ہے اور غفلت یا لغزش کی صورت میں فریقین کے لۓ اختلاف کی صورت میں داد رسی کا طریقہ کار اور فورم کونسا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ فورم آخر اقوام متحدہ ہی ہو سکتا ہے۔ بڑا آئین UNCIP کی قراردادیں ہی ہیں۔

حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر میں ذمہ داری کشمیریوں کے بنیادی حق، حق خودارادیت کے حوالے سے سنبھالی ہے۔ ایک حق کے حصول میں کسی دوسرے حق پر پابندی UNCIP قراردادوں کے تحت سنبھالی گئی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہوگی۔ 2017 میں پاکستان کسی حق پر پابندی لگانے کے الزام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان خود بھی بنیادی شہری حقوق اور آزادیوں کے نئے اور روشن دور میں داخل ہوا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیرUNCIP قراردادوں کے تحت قائم کی گئی حکومت کےچیف ایکزیکٹیو ہیں۔ ان کے خلاف کاروائی کی واحد وجہ حق خوداردیت کے حصول کی جدوجہد اور UNCIP قراردادوں میں مقرر ذمہ داریوں کے نبھانے میں دانستہ غفلت ہے۔ حکومت پاکستان بھی ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی پابند ہے۔

وزیراعظم کا الحاق سے متعلق “متنازعہ” بیان کسی قائدے اور قانون کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس پر برہمی کا جتنا کم اظہار کیا جاۓ اتنا ہی بہتر ہے۔ پاکستانی میڈیا کی “ماسیوں” کو حد احتیاط کا خیال رکھنا ہو گا۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں