نقطہ نظر/ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

200 کشمیریوں کی ضرورت

59سال 6ماہ بعد۔
ایک دیانتدار کی تلاش۔
بولو “بھارت ماتا کی جے”

کئی صدیاں قبل یونان کا فلسفی Diogenes سورج کے عروج پر دن دھاڑے ایک جلتی ہوئی لالٹین ہاتھوں میں لئے یونان کے شہر ایتھنز Athens کی سڑکوں پر گھوما پھرا کرتا تھا۔ لوگ حیران ہو کر اس سے پوچھتے تھے۔ It is broad day light. Why are you carrying this lantern دن روشن ہے، پھر تم یہ جلتی ہوئی لالٹین لئے کیوں گھوم رہے ہو؟

فلسفی جواب میں کہتا تھا، I cannot find an honest man in this broad day light (lit). So I have light this lantern مجھے دن کی اس روشنی میں کوئی دیانتدار شخص نہیں مل رہا، اس لئے میں نے اضافی روشنی کے لئے یہ لالٹین جلائی ہے تاکہ کوئی ایک مل جائے۔

کشمیری قوم بھی دشوار حالات اور لمحہ آزمائش سے گزر رہی ہے۔ اسے بھی دیانتداروں کی تلاش ہے۔ ہمیں کئی صدیاں پہلے Diogenese کے معیار کے نہ سہی، کم از کم آج کے زمانے کے معیار کے دیا نتدار در کار ہیں۔ کیا ہم 200لوگ تلاش کر سکتے ہیں۔ ہم اس کام میں لگ گئے ہیں اور آپ بھی اس تلاش میں شامل ہو جائیں۔ Diogense کو صرف ایک کی ضرورت تھی لیکن ہمیں 200 کی تلاش ہے۔

آج سے ٹھیک 59 سال 6 ماہ قبل کشمیری رہنماء شیخ عبدالاہ نے 17 فروری 1958 کو اپنی رہائی کے بعد نئی دہلی میں کہا،

Since my release after 4 and half years’ detention, I have tried to explain my view point and possible solution in regard to various problems facing the political future of the State. With sufficient clarity, I hope, I have succeeded in elucidating the following points:-

(a) So long as final decision about the future disposition of Jammu and Kashmir State is not arrived at, the political uncertainty, economic distress and other mental strain and miseries which the people of the State are facing at present, cannot terminate.

(b) The existing strained relations between India and Pakistan are not only a source of great danger to the solidarity of Asia, but also contribute to the ruin of the people of the State. The dispute over Kashmir is one of the main contributing factors to these strained relations.

اگر 59 سال 6 ماہ قبل پاک بھارت کشیدہ تعلقات کو کشمیری عوام کے لۓ سیاسی بے یقینی، اقتصادی بد حالی،ذہنی پریشانی اور خستہ حالی کا موجب سمجھا جاتا تھا تو اندازہ کریں کہ 60سال بعد ان سب چیزوں کی شدت میں کس حد تک اضافہ ہوا ہوگا۔ اس لۓ 200 کشمیریوں کی تلاش ہم سب کا فرض ہے۔

حریت، حریت سے باہر قیادت، حکومت آزاد کشمیر، حکومت جموں و کشمیر، حکومت گلگت بلتستان، Kashmiri Diaspora ، حکومت پاکستان اور فرینڈز آف کشمیر کو 200 کشمیریوں کی تلاش کے سیلف ہیلپ پروگرام کی نہ صرف تائید کرنی چاہئے بلکہ اس تلاش میں ممکنہ مدد بھی کرنی چاہئے۔

اگر ہم اس تلاش میں ناکام ہوئے توہندوستان کا کشمیر اور مسلمان دشمن حاکم کشمیری مسلمان کو اسی طرح آزمائیش کی آگ سے گزارنے کی خواہش اور شرط رکھے گا جو اس نے تین دن قبل متحدہ تحریک مزاحمت کے لیڈر شبیر احمد شاہ کے سامنے دہلی کی ایک عدالت می رکھی۔

جمعرات3اگست کو دہلی میں Additional Sessions Judge Siddhartha Sharma کی عدالت مییں Enforcement Directorate کے وکیل Rajiv Awasthi نے شبیر شاہ کو مخاطب ہو کر کہا ”
“ask if the Kashmiri separatist leader could say “Bharat Mata Ki Jai”

پوچھیں کیا کشمیری لیڈر بھارت ماتا کی جے بول سکتا ہے۔

شکر ہے کہ جج نے مداخلت کی اور سرکاری وکیل کو متنبہ کیا کہ that the courtroom “was not a TV studio اور اسے عدالت کا decorum رکھنے اور کیس کے merits پر بات کرنے کی ہدایت کی۔

اگر ہم نےبر وقت مناسب کاروائی نہیں کی اور راست اقدام نہیں اٹھاۓ تو آنے والے وقت میں کشمیر کی دوسری سینئیرلیڈرشپ اور دوسرے لوگوں سے بھی یہ مطالبہ کیا جاۓ گا۔ یہ کشمیر کی 171 سالہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب کسی کشمیری کو ہندوستان کی کسی عدالت میں “بھارت ماتا کی جے” بولنے کو کہا گیا ہو۔

شبیر شاہ کے ریمانڈ میں6دن کی توسیع ہوئی ہے اور ہندوستان کے نیشنل ہیومن کمیشن نے JKCHR کی درخواست Complaintپر کاروائی شروع کر دی ہے۔ JKCHR نے اپنی درخواست میں شبیر شاہ کی گرفتاری کو چیلنج کیا ہے اور اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

ہماری کشمیری قائدین سے گزارش ہے کہ:

دشمن مرے تہ خوشی نہ کرئیے
جے سجڑاں وی مر جانڑاں

آنے والے بہتر کل کے لئیے 200 کشمیریوں کی تلاش اشد ضروری ہے۔