نقطہ نظر/ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

کشمیر پالیسی 1958 میں زیادہ موثریا آج؟

کشمیری یعنی وادی کا مسلمان اپنی غلامی کے 171 سالوں میں، مارچ 1846 سے اکتوبر 1947 تک اور اکتوبر 1947 سے جولائی 2016 تک کبھی اسقدر ظلم اور بربریت کا شکار نہیں رہا جس قدر وہ جولائی 2016 سے لیکر آج اگست 2017 کی تاریخ میں ظلم اور تشدد کے پاؤں تلے روندھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں 2015 اور 71 ویں 2016 اجلاسوں میں Demilitarization اور UN Resolutions پر عملدرآمد کا جائز مطالبہ کر چکے ہیں مگر بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کی Profiling کے بعد نہ صرف خود قتل کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ Profiled کشمیری نوجوانوں کوقتل کرنے یا قتل کرانے میں مدد دینے پر 12 لاکھ 50 ہزار روپے انعام دئیے جارہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ انعام لینے والے ہمیشہ ہر قوم میں موجود رہے ہیں۔

یوں بھی کشمیر میں بھارتی اینٹیلیجنس نیٹ ورک 1990 کے مقابلے میں گھروں سے لے کر قبرستان تک مضبوطی سے کام کر رہا ہے۔

کیا بھارت پاکستان کی اقوام متحدہ میں ان کوششوں کوون ٹائم ڈپلومیسی سمجھنے میں حق بجانب ہے یا پھر وہ پاکستان کو “ایویں” سمجھنے کی صریح غلطی کر رہا ہے؟

وزیر اعظم پاکستان نے 2016 میں ایک خصوصی پارلیمانی وفد دنیا بھر اور برطانیہ بھی بھیجا۔ کل حاصل یہ نکلا کہ برطانیہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کی 2016 کی ہیومن رائیٹس کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر میں حقوق کی خلاف ورزی اور بھارت کے بارے میں ایک لفظ کا تذکرہ بھی موجود نہیں۔

الٹاحقوق کی خلاف ورزی کے 30 ممالک کے شمار میں پاکستان بھی مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

2016 کے سال میں کشمیر 4 ماہ کی اپنی تاریخ کے پہلے کرفیو سے گزرا۔ ظالم مہارجہ کا 24 اگست 1931 کا کرفیو صرف 12 دن رہا تھا ۔ مہاراجہ کے ظلم نے 5 اکتوبر 1931 کو ہاتھ کھڑے کر دئیےتھے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم کشمیر میں روز کا قتل عام نہیں روک سکتے۔ نہ ہی ہم قائدین کی مشکلات میں آسانی پیداکرانے کی کوئی سبیل کرنے کی کوشش کرہے ہیں۔ اب تو نوبت یہاں تک آنکلی کہ شبیر شاہ کو دہلی کی ایک عدالت میں “بھارت ماتا کی جے” کہنے کے لۓ کہا گیا۔ اتوار 6اگست کو Enforcement Directorate کے اہل کاروں نے مبینہ Terror Funding کے سلسلے میں شبیر شاہ کی اہلیہ سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ ظلم کا ہاتھ چادراور چاردیوای تک آ پہنچا۔

ادھرہمارےکچھ آرپار کے احباب برطانیہ میں قائم ایک این جی او کے خرچے پر دوبئی کےایک ہوٹل میں کشمیر کے دونوں پار سے نوجوانوں کو لانے اور آرپار ٹریڈ بڑھانے پر کانفرنس کرا بیٹھے۔ اس کانفرنس میں ہماری کشمیری سیاست کے کچھ “شرفاء”بھی شریک ہوۓ۔ میں عبدالرشید ترابی اور چوہدری لطیف اکبر کی لمحہ آزمائش میں ڈٹ جانے کی صفت کا آج تک معترف رہا ہوں لیکن آج مجھے سفارشات کی تفصیل دیکھ کر بے حد دکھ اور افسوس ہوا۔

کشمیر میں 4 ماہ کے کرفیو، جامعہ مسجد کی تالہ بندی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، نوجوانوں کی پروفائیلنگ اور ان کے قتل کرانے پر 13 لاکھ کا انعام، قائدین کی مسلسل نظر بندی، تہاڑ جیل میں کشمیری مسلمان قیدی اور انہیں پیشاب پلانے اور انسانی فضلہ کھلانے کی شرمناک کاروائی، 24 ، 25 سال سے دہلی تہاڑ جیل میں پابند سلاسل کشمیریوں اور کشمیر میں روا بھارتی فوجیوں کے مظالم پر سفارشات میں کہیں کوئی ذکر نہں۔

اس کے برعکس بھارتی زیر کنٹرول کشمیر سے آنے والوں نے سرحد پار کی دہشت گردی کا سوال اٹھایا۔ کشمیر کے دکھ اور درد سے چشم پوشی کرنے والوں کا اعمالنامہ ان کے بائیں ہاتھ ہی میں رہے گااور یہ لوگ بد دعاؤں کے بوجھ تلے دب کے مر جائیں گے۔ہمارے آزاد کشمیرکے سیاسی شرفاء نے بھی کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

حکومتی سطح پر بھی پاکستان کی کشمیر پالیسی کنفیوژڈ، بیمار اور Directionless ہے۔اگر ہندوستان پر194 ممالک کی جنرل اسمبلی میں کۓ گۓ مطالبے کا کوئی اثر نہیں ہوا، دفتر خارجہ کی Routine کی پریس بریفنگ کا بھارت کیا لحاظ کرے گا۔ میرا اپنا تجزیہ یہی کہ اب دفتر خارجہ بھی اسے 11 حل طلب Issues میں ایک ایشو سمجھ کر کام چلاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

میری دفتر خارجہ کے ذمہ دارں اور کشمیر ڈیسک سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی اپروچ کو Revisit کریں اور کشمیر کو اپنی نوکری کا حصہ بنانے کے بجاۓ اپنے ایمان کا جز بنائیں۔

کشمیر پر جاندار سفارتکاری کی مثال اور Template کے لۓ، مرحوم آغا شاہی کے 11اپریل 1958 کو سیکیورٹی کونسل کے President کوکشمیرکی صورتحال پر لکھے گۓ مکتوب کو آئیندہ کیلئے مثال بنائیں۔ اگر کسی مدد کی ضروت ہو، تو JKCHR اور اس کے اراکین مدد کیلئے حاضر ہیں۔