16

دبئی کانفرنس تحریک آزادی کیخلاف بڑی سازش ہے: سید صلاح الدین

[button color=”blue2″ font_weight=”bold” outer_border=”true” outer_border_color=”#d8911e”]امریکہ کی طرف سے سید صلاح الدین کو گلوبل ٹیررسٹ کی لسٹ میں ڈالنے اور حزب المجاہدین کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے ساتھ ساتھ کشمیر میں عسکری محاذ پر تنظیم کو محمود غزنوی اور دیگر کئی اہم کمانڈروں کی  شہادتوں سے بڑا دھچکا لگا۔القاعدہ کے نام سے بننے والی نئی تنظیم جس کی قیادت حزب سے نکالے گئے جنگجو ذاکر موسی کر رہے ہیں اس کے علاوہ عوامی سطح پربھی مسلح تحریک کے حوالے سے  کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ایسی صورتحال میں پیر سید صلاح الدین کے پاس کیا نئی حکمت عملی ہے۔ سٹیٹ ویوز کے سی این ای مقصود منتظر اور دانش ارشاد نے  جہاد کونسل کے سربراہ اور حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین سے خصوصی نشست کی جس کا احوال  قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔[/button]

سوال:کیا حزب المجاہدین آج بھی نوے کی دہائی کی طرح مضبوط ہے؟
جواب:تحریک آزادی کشمیر کا ہر اول دستہ حزب المجاہدین 90 کی دہائی سے زیادہ آج مضبوط اورمتحرک ہے۔پوری جہادی تحریک پہلے اتنی مظبوط نہیں تھی جتنی آج ہے۔ اس وقت مجاہدین کی تعداد زیادہ تھی اور لوگوں کی ہمدریاں ساتھ تھیں جبکہ آج پوری قوم کی نہ صرف کی حمایت ساتھ ہے بلکہ پورقوم عملا مجاہدین کے ساتھ ہے۔برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے لیکر اب تک عوام اپنی جان داو پر لگائے ہوئے ہے ۔ مجاہدین کو بچانے کیلئے عام آدمی پتھر اٹھا کر مدد کررہا ہے۔

امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین

سوال: حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران آپ نے کہا تھا کہ پاکستان عسکری محاذ پر دلچسپی نہیں رکھتا اگر ایسا ہے تو پھر عسکریت کا مستقبل کیا ہوگا؟
جواب:سب سے پہلے مسئلہ کشمیر حوالے سے پاکستان کی پوزیشن سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغان جہاد کی مدد کی۔ فلسطینیون کی بھی اخلاقی مدد کررہا ہے لیکن کشمیر کے مسئلہ میں وہ بنیادی فریق ہے عالمی برادری نے بھی پاکستان کو بحیثیت فریق تسلیم کیا ہے ۔بنیادی فریق ہونے کی حیثیت سے پاکستان اخلاقی ، سفارتی اور قومی حوالے سے اس بات کا مکلف ہے کہ برسرپیکار کشمیریوں کی ہر سطح پر مدد کرے۔سیاسی اور اخلاقی کے ساتھ فوجی مدد بھی کرے۔لیکن بین الاقومی پیچیدگیاں بھی در پیش ہیں۔ گزشتہ ستر برس نے ثابت کیا ہے اور پاکستان بھی جانتا ہے کہ مسئلہ کشمیر تیر باہدف کارروائیوں کے بغیر حل ہوتا نظر نہیں آتا۔لہذا پاکستان کو تیر باہدف کارروائیوں کی بھرپور اسپورٹ کرنا ہو گی۔ورنہ پاکستان کے پاس جو کشمیر کا حصہ ہے مودی کے اکھنڈ بھارت خواب کا حصہ بھی ہے۔ بی جے پی کئی بار کہہ چکی ہے کہ ہم اس حصہ کو آزاد کر کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عوام کے ساتھ وعدہ کر چکے ہیں۔لہذا اگر ہم یہ توقع رکھیں کے بھارت ٹیبل پر رکھ کر مسئلہ کشمیر کو حل کرے گا ایسا ممکن نہیں اس لئے جہاد ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔

سوال:اگربیس کیمپ عسکری مدد سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو اسحلہ کی فراہمی کیسے ممکن ہو گی؟
جواب:ہمارے بے شمار ذرائع ہیں جہاں سے ہتھیار حاصل کئے جاتے ہیں۔ خود بھارت اسلحہ کا بہت بڑی مارکیٹ ہے۔جہاں سے ہمیں یہ سب مل جاتا ہے۔ بھارتی فوج کے بھی کچھ کرپٹ افسران سے ہم ہتھیار خریدتے ہیں۔اب ہمارا جہاد اٹھائیس سال کا ہو گیا ہے ان اٹھائیس سالوں میں ہمارے مجاہدین نے جنگی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ ہتھیار بنانا ، استعمال کرناخوب جانتے ہیں۔ فاضل مادہ موجود ہوتا ہے اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔

Syed 03 copy
انٹرویو کے دوران سید صلاح الدین کے ساتھ مقصود منتظر اور دانش ارشاد کا گروپ فوٹو

سوال:محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ایک مجاہد کو بنیاد بنا کر بتایا کہ وہ اسلحہ کی کمی کا شکار ہیں؟
جواب :محبوبہ جو بھی کہے گی بھارتی سرکار کی زبان ہو گی انکی مجبوری ہے۔بھارتی آقاﺅں کو خوش کرنے اور فوج کے گرتے حوصلوں کیلئے ایسا کہہ رہی ہے۔اگر شہید ہونے والے یاور کے پاس پسٹل تھا تو اس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ مجاہدین اسلحہ کی کمی کا شکار ہیں۔ممکن ہے وہ کسی ایسے کام پر باہر نکلا ہوں جہاں بڑے ہتھیار لے جانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ محمود غزنوی اور ان کے شہید ہونے والے ساتھیوں نے سولہ گھنٹے مقابلہ کیا جس سے واضح ہوتا ہےکہ ان کے پاس بڑی تعداد میں ہتھیار ہیں۔مجاھدین کو تربیت کی کمی ہے نہ ہتھیار کی۔

سوال:محمود غزنوی کی شہادت کے بعد حزب المجاہدین کا مستقبل کیا ہے اور کیا حزب قیادت کے فقدان کا شکار تو نہیں ہو گئی؟
جواب:ایسا کچھ نہیں۔ شہادتوں کا سلسلہ 28 سال سے جاری ہے۔ چیف کمانڈر، کمپنی کمانڈر، بٹالین کمانڈر کی بڑی تعداد شہید ہو گئی تاہم آج تک ہمیں کمانڈ کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ابھی محمود غزنوی شہید نہیں ہوا تھا تو محمد بن قاسم نے چارج سنبھال لیا۔ برہان کے بعد محمود غزنوی سامنے آیا تھا۔ بھارت کے کئی آرمی چیف اس حسرت کے ساتھ دنیا چھوڑ گئے کہ مسلح تحریک ختم ہو جائے لیکن جہاد آج بھی جاری ہے اورمعرکے بھی ہو رہے ہیں۔

سوال: روزانہ کی بنیاد پر کشمیر میں شہادتیں ہو رہی ہیں ۔”آپریشن آل آﺅٹ“ جاری ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے آپکی کیا حکمت عملی ہے؟
جواب۔میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ رواں سال میں مجاہدیں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا جس کے کئی اسباب ہیں۔ پہلا سبب مجاہدین کی اپنی بے احتیاطی، موبائل اور کمیونکیشن کے دیگر ذرائع کا غیر محتاط استعمال ۔ دوسری بات اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں غداروں اور مخبروں کا بڑا نیٹ ورک ہے ہندوستان تحریک کو ختم کرنے کیلئے خزانے پانی کی طرح بہا رہا ہے۔
برہان وانی اور دیگر مجاہدین کی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر آنے لگیں تو بھارتی فوج پر سوالیہ نشان آنے لگے کہ ساڑھے سات لاکھ فوج کس مرض کی دوا ہے۔ جس کے بعد بھارتی فوج نے مخصوص علاقے پر توجہ دی کارروائیاں شروع کی۔ہم ہدایت دے چکے ہیں کہ سوشل میڈیا اور دیگر کمیونیکشن کے استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

سوال: جو پے در پے جھڑپیں اور شہادتیں ہو رہی ہیں کیا حزب اندرونی خلفشار کا شکار تو نہیں ہے؟

جواب: نہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہاں نوے کی دہائی میں انڈین ایجنسیز نے مجاہدین کو آپس میں لڑانے کی کئی کوششیں کی تاہم جہاد کونسل کے قیام کے بعد تمام سازشوں پر قابو پا لیا گیا۔ اس وقت تمام تنظمیں متحد ہیں اور آپس میں اشتراک رکھتی ہیں۔

سوال:ذاکر موسی خود کو القاعدہ کا کمانڈر کہہ رہا ہے ۔ اس سے تحریک کشمیر کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ کیا یہ عالمی دہشتگردی کو کشمیر میں لانے کی سازش تو نہیں ہے؟
جواب: ذاکر موسی ہمارے ترال یونٹ کے مجاہد تھے اچانک ان کا حریت قیادت کے خلاف بیان آ گیا تاہم ہم نے فورا بیان کو مسترد کیا۔ حریت قیادت ہمارے لئے محترم ہے اور ان پر اعتماد ہے۔ یہ ذاکر کا ذاتی خیال ہے اسے بیان واپس لینا چاہئیے۔ہماری رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ سیخ پا ہیں کے برہان کی شہادت کے بعد جیوے جیوے پاکستان اور ہلالی پرچم لہرانے کی رسم چلی تھی جس سے کئی قوتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ذاکر کو بتایا جاتا ہے کہ جہاد خالص اللہ کیلئے ہے اور ذاکر اب عالمی جہاد کے قائل ہیں اگر اس میں پاکستان کا نام آتا ہے تو پھر یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں رہتا۔ یہ نئی فکر وہاں لائی جارہی ہے ۔یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگ موسی کا نام لیکر اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔اس سارے کھیل کا مقصد انڈیا عالمی سطح پر کشمیر کی تحریک کو دہشتگردی سے تعبیر کر سکے۔یہ حقیقت ہے کہ ہماری تحریک مقامی ہے اور اس کی قیادت مقامی لوگ کر رہے ہے۔ جبکہ انڈیا یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ کشمیر میں القاعدہ اور داعش ہیں۔ذاکر موسی اور انکے نام سے جڑی تحریک صرف سوشل میڈیا پر ہے ۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تنظمیں اور تحریکیں سوشل میڈیا پر نہیں چلتی ہیں۔ذاکر موسی کو لشکر طیبہ

سوال: کشمیر میں غیر مقامی تنظیموں(لشکر طیبہ اور جیش محمد) کی کارروائیوں پر ہندوستان پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ یہ تحریک مقامی نہیں۔ کیا ان کی کارروائیوں سے تحریک اور مقامی تنظیموںاثرات مرتب نہیں ہوتے؟
جواب: میرا خیال ہے کہ جیش اور لشکر پر عالمی کالعدم یا غیر قانونی ہیں یہ کہنا کہ یہ پاکستانی تنظیمیں ہیں جو کشمیر میں کام کر رہی ہیں یہ سوچ درست نہیں ہے۔جب سے انڈیا قابض ہے وہان کے لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اس ظلم سے تنگ آکر لاکھوں لوگوں نے کشمیر سے ہجرت کی ہے۔اس وقت کشمیر الاصل اور کشمیری النسل 65 لاکھ لوگ پاکستان میں رہ رہے ہیں ۔کشمیر سے آیا ہوا مہاجر جس کا گھر، خاندان اور قبیلہ وہاں پر ہے یہاں آنے سے غیر کشمیری کیسے ہو سکتا ہے؟وہ کشمیری ہی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال میں ”صلاح الدین“خود ہوں۔ہر کشمیری جو یہاں ہے ذہنی یا جسمانی طور پر تحریک میں حصہ لے سکتا ہے۔اس طرح لشکر طیبہ اور جیش کو غیر کشمیری کہنا زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ یہاں سے کشمیری ہی جاتے ہیں۔ بھارت واویلا کر رہا ہے کہ پاکستان مداخلت کر رہا ہے ہندوستان بتائے کہ برہان کی شہادت کے بعد ابھی تک 190شہید ہونے والوں، بیس ہزار زخمیوں اورپندرہ سو بینائی سے محروم ہونے والوں میں کتنے پاکستانی ہیں۔
سید صلاح الدین نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ جیلوں میں ہیں ان میں کتنے پاکستانی ہیں جو قیادت پابند سلاسل ہے اس میں کتنے پاکستانی ہیں۔ یہ محض پروپیگنڈہ ہے جس سے بھارت عالمی تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ مقامی تحریک نہیں ہے۔یہ ہمالیہ سے بڑا جھوٹ ہے۔

سوال: اگر مذاکرات شروع ہوئے تو کیا آپ حمایت کریں گے؟ اور کیاآپ سیز فائر کے چانسز ہیں جیسے مشرف دور میں ہوا تھا؟
جواب: حزب المجاہدین نے کبھی سیز فائر نہیں کیا۔ ہاں ایک فیلڈ کمانڈر نے قیادت کی حکم عدولی/ اعتماد میں لئے بغیر سیز فائر کر گیا تھا جسے فورا وا پس لے لیا تھا۔دوسری بات ہم کبھی مذاکرات کے مخالف نہیں ہیں لیکن ہماری شرط ہے کہ مذاکرات کشمیر کے کور ایشو پر ہوں اور کشمیریوں کو فریق کے طور پر شامل کیا جائے (یعنی سہ فریقی مذاکرات ہوں۔)۔ جسمیں پاکستان ، انڈیا اور کشمیری قیادت بیک وقت ٹیبل پر ہوں۔یہ مسئلہ سہ فریقی ہے دو فریقی نہیں ہے۔ مذاکرات کو سرکریک یا سیاہ چن پر نہ ٹالا جائے۔آج تک پاک بھارت مذاکرات کے 155 دور ہو چکے ہیں لیکن بھارت نے کشمیریوں کو فریق کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ دعوی کے ساتھ کہتا ہوں بھارت اس مسئلہ کو کبھی بھی سہ فریقی ماننے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔بھارت اسے آج آج تک
کبھی وہ حریت سے بات کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے اور کبھی کشمیریوں کو بائی پاس کر کے پاکستان بات چیت کر کے یہ باور کر وانا چاہتا ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی تنازع ہے۔ اسی لئے ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔

سوال: آپکی نظر میں مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟
جواب: میری نظر میں مسئلہ کا بہتریں حل وہی ہے جو کشمیری عوام کو قبول ہو۔مسئلہ کشمیر 1.5 کروڑ لوگوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئیے یا اقوام متحدہ کی نگرانی میں کوئی حل ہونا چاہئیے۔یہاں میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اندرونی خودمختاری کا لولی پاپ یا مشرف فارمولے جیسے حل منظور ہے۔

سوال: بھارت کا ماننا ہے کہ شملہ معائدہ کے بعد کشمیر دو ملکی تنازع رہ گیا ہے۔اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: یہ درست ہے کہ شملہ معائدہ نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت کی قیادت نے یہ معائدہ کر کے حماقت کی ۔ تاہم ایسے دو طرفہ معائدے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت ختم نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ کی 18 قراردادوں نے کشمیریوں کو مستقبل کا تعین کرنے کا حق دیا ہے۔کوئی دو ملکی معائدہ یا مذاکرات ان قراردادوں کو غیر موثر نہیں کر سکتا۔

سوال: کیا آپکے پاس بندوق کے علاوہ کوئی روڈ میپ ہے؟
جواب: جی ہمارے پاس بیسیوں راستے ہیں لیکن بھارت صرف بندوق کی زبان سمجھتا ہے۔ ہم نے بیالیس سال تک سیاسی و جمہوری جد وجہد کی ۔جسکو بھارت ختم کرنے کیلئے کئی حربے استعمال کئے جس کے بعد ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کشمیریوں نے بندوق اٹھائی۔انڈیا اٹوٹ انگ کا رٹ لگائے ہوئے ہے ۔پہلے بھارت کشمیرکی متنازع حیثیت کو تسلیم کرے اس کے بعد کچھ اور سوچا جا سکتا ہے۔

سوال:یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلح تحریک کشمیر کے جنوبی حصے میں ہے تو کیا یہ درست ہے ؟
جواب: ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر جنوب میں تحریک زوروں پر ہے تو دوسری طرف شمال میں بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی کارروائیاں اس کا عکاس ہیں۔

سوال:حافظ سعید نے سیاسی جماعت بنائی ہے،مذہبی بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے ۔ ایسے میں آپ مسلح تحریک کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟
جواب :ملی مسلم لیگ کے قیام کا فیصلہ حافظ سعید نے کیوں کیا اس بارے میں میں کچھ نہیں جانتا تاہم حافظ صاحب ابھی بھی کشمیر کاز کے بڑے حامی ہیں۔پاکستان کے اندر جماعت اسلامی اور جماعت الدعوة کھل کر مسئلہ کشمیر کی حمایت کرتے ہیں باقیوں کو اللہ نے توفیق نہیں دی۔ جب کوئی عالمی ہنگامہ برپا ہوتا ہے تو کچھ لوگ ایک بیان جاری کرے ہیں۔

سوال: ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔آرٹیکل 35A،370 پر عدالتی وار ہو رہے ہیں۔کہیں یہ ہندواکثریت لانے کے بعد رائے شماری کروانے کی سازش تو نہیں ہے؟

جواب: میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں ۔ بھارت کے مقاصد واضح ہیں لیکن افسوس اسبات کا ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار اور یہاں کے ادارے بالخصوص وزارت خارجہ اس حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا نان سریس ہیں۔پاکستان کو چاہئیے کہ عالمی اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں۔ چونکہ بھارت منظم منصوبے اور طریقے سے کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے حتی کہ مودی سرکار نے آتے ہی ایسے عزائم کا اظہار کیا تھا ۔یاد رہے کہ کشمیر سے پنڈتوں کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ جگموہن کی سازش میں آ کر خود بھاگے تھے۔ اب انہی پنڈتوں کو پنڈت کمپوزٹ کالونیز کے نام پر بسایا جا رہا ہے اور وہ اپنے ساتھ دیگر ہندووں کو لا رہے ہیں تاکہ ہندوں کی آبادی بڑھ سکے۔ دوسرا شرنارتھیوں کو مستقل شہریت دینا چاہتا ہے۔ تیسرا سینک کالونیوں کا قیام لایا جا رہا ہے۔یہ اسرائیلی طرز پر غیر ریاستیوں کو کشمیر میں بسانے کی سازش ہے۔اس کے علاوہ جموں کے سرحدی علاقوں میں فارسٹ ایوی کیشن کے نام پر مسلمانوں کو نکالا جا رہا ہے ہندوں کو بسایا جا رہا ہے۔ مسلمان دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔گزشتہ مردم شماری میں بھی اعداد و شمار تبدیل کر کے مسلمانوں کی آبادی کم بتائی گئی۔یہ سب کام ڈیموگرافی تبدیل کرنے کیلئے کئے گئے۔ اب خصوصی حیثیت پر عدالتی یلغار بھی کی جا رہی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر حملوں کیلئے ہمارے غدار سیاستدان بھی آلہ کار بنتے رہے۔ ایسے اقدامات اس لئے کر رہا ہے کہ اگر کشمیر میں عالمی دباﺅ سکاٹ لینڈ کی طرح رائے شماری ہو بھی جائے تو اس کے نتائج ہندوستان کے حق میں ہوں۔

سوال:1947 سے آج تک پاکستان کی کشمیر پالیسی کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تسلسل نہیں ہے۔کبھی رائے ، کھبی چار نکاتی اور کبھی کوئی فارمولا آ جاتا ہے۔جس وجہ سے مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق دیا جائے۔جو ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور جسے حق خود ارادیت سے یاد کیا جاتا ہے اور جب تک بھارت اس کیلئے تیار نہیں ہوتا جدوجہد جاری رہے گی۔

سوال:ڈیموگرافی تبدیلی کے علاوہ کشمیر میں ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان کا سامنے آ رہا ہے اور جس کو آر پار تجارت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
جواب: یہ دشمن کا آخری حربہ ہے۔ جب سامراج حریت پسند عوام کو خریدنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ منشیات کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔تہذیبی جارحیت اور منشیات کے فروغ سے بھارت نوجوانوں کے دلوں سے جذبہ حریت نکالنے کے منصوبے پر کاربند ہے۔بھارتی فوج اور ایجنسیز نے نشہ آور ویات اور سکس سکینڈل عام کرنے کیلئے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔ جہاد کونسل اس جارحیت کو آٹھ لاکھ فوج سے زیادہ خطرناک تصور کرتی ہے۔
ہمیں اس بات پر افسوس ہے اور ارباب اختیار سے بھی کہا ہے کہ آر پار تجارت سے بھی ایسی سرگرمیاں کی جا رہی ہیں ۔ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ تجارت نہیں رہے گی اور جو بھی اس میں ملوث پایا گیا خواہ وہ پاکستانی ہو یا کشمیری اس کو گولیوں سے چھلنی کیا جائے گا۔ ایسا کرنے والے وطن عزیز کا دشمن ہے۔
عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ارتے کے اس گھناﺅنے کھیل توڑ کر کے نوجوان نسل کو بچائیں۔اس کیلئے عوامی اور آگہی مہم بھی شروع کی جائے۔

سوال: آزاد کشمیر حکومت کو تحریک کیلئے کیا کردار ادا کرنا چاہئیے؟
جواب:آزاد کشمیر قربانیوںکی بدولت آزاد ہوا ہے اور ریاست کا حصہ ہے اسے بیس کیمپ کا کردار ادا کرتے ہوئے تحریک آزادی کی پشت بانی کرنی چاہئیے۔ یہاں کی حکومت کو چاہئیے کہ وہ کشمیر کے شہدا کے ورثا ،اسیران کشمیر کے اہلخانہ اور آزاد کشمیر میں آباد مہاجرین کا خیال رکھیں۔ساتھ ہی ساتھ عالمی سطح پر جہاں بھی موقع ملے تحریک کشمیر اجاگر کریں۔

سوال:حال میں دبئی میں ہونے والی کشمیر کانفرنس میں عسکریت کے خاتمے کی تجاویز آئی ہیں۔کانفرنس میں تحریک سے منسلک لوگ بھی شامل تھے۔ اس پر کیا کہیں گے؟
جواب: کشمیریوں نے آلو پیاز کی تجارت کیلئے قربانیاں دیں نہ ہی تقسیم کشمیر کیلئے۔ دبئی میں ہونے والی کانفرنس میں جو لوگ تھے وہ پے رول پر کام کر رہے ہیں اور ایسی کانفرنسیں فضول مشق اور پیسے بٹورنے کی مشق کے سوا کچھ نہیں ہے۔مجھے ان لوگوںپر شدید افسوس ہے کہ جو تحریکی حلقوں میں رہے ہیں لیکن پوری مجلس میں مذمت کے دو بول بھی نہ بول سکے۔ ہم تنگ نظر ہیں نہ ہی بندوق کا شوق ہے لیکن کشمیر کی آزادی کیلئے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ جب یہ کانفرنس ہو رہی تھی کشمیر میں قیامت ٹوٹ رہی تھی ۔وادی میں کئی جنازے بیک وقت اٹھ رہے تھے اور اسی دوران یہ لوگ تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے تھے۔ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں اور نہ ہی تحریک کو طول دینے کا سوچ سکتے ہیں لیکن جب ہماری نوجوان نسل کو تہ تیغ کیا جا رہا ہو تو ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں میرا دل افسردہ ہے اور انتہائی افسوس ہے کہ دبئی میں ہونے والی کانفرنس میں شریک لوگوں کے ہونٹ کس نے سی رکھے تھے۔ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انکو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ تحریک کے خلاف قرار دادیں یا اعلامیے جاری کریں۔ایک طرف بھارتی حکومت کشمیری قیادت کو ختم کرنے کے در پے ہے ۔ سید علی گیلانی ایک عرصہ سے نظر بند، مسرت عالم پابند سلاسل ، آسیہ اندرابی دمہ کی مریض ہوتے ہوئے قید، شبیر شاہ گندے نالے کے کنارے عقوبت خانے میں بند رکھا ہے یہ صورتحال تشویش ناک ہے دوسری طرف ایسی کانفرنسیں تحریک کے خلاف سازش ہیں ۔

سوال: امریکہ نے آپکو گلوبل دہشتگرد جبکہ حزب المجاہدین کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا ۔ایسا کیوں ہوا اوراس حوالے سے مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہو گا اور کیا بھارت کی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی؟
جواب:پاکستان کی سفارت کاری تو کمزور ہے ہی لیکن بھارت بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب سے ٹرمپ امریکہ کا صدر بنا ہے اس نے کئی حماقتیں کیں۔ خود امریکی عدالتوں نے بھی اس کے کئی اقدامات کالعدم قرار دئے اور عوام بھی ناخوش ہیں۔ مجھے دہشتگرد قرار دینے کا اقدام مودی کو خوش کرنے کیلئے کیا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ وہ انڈیا کے اسٹریٹیجک پارٹنر ہیں اور ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔امریکی قانون کے مطابق گلوبل ٹیررسٹ وہ ہے جس سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ ہو۔ مجھے بتایا جائے سید صلاح الدین اور حزب المجاہدین سے امریکہ کو کیا خطرہ ہے؟ دوسری بات کہ اسٹیٹ ڈیپارپٹمنٹ نے جو اسباب لکھے ہیں کیا ان کی وجہ سے کسی طور پر امریکی سرحدوں یا ان کی خارجہ پالیسی کو کوئی خطرہ ہے؟ امریکہ کے اس اقدام پر عالمی میڈیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”it was diplomatic kick back “۔باقی میں اپنا کام اعلانیہ کرتا ہوں۔اس اقدام سے تحریک کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوا۔

سوال:اگر مسئلہ کشمیر پر امن حل ہوتا ہے تو کیا آپ سیاست میں آئیں گے؟
جواب: میں تو سیاست میں ہی ہوں۔ سیاست اور عسکریت کو جدا نہیں سمجھتا ۔ یہ ایک ہی تحریک کے مختلف محاذ ہیں۔گلبدین حکمت یار افغانستان میں سیاسی قائد بھی تھے اور عسکری راہنما بھی تھے۔ ہم بھی سید علی گیلانی اور حریت قائدین کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اگر میری وجہ سے تحریک کو فائدہ ہوتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ لیکن یہ خیال کہ عسکریت کو چھوڑ کر سیاست کروں ”خیال است محال است“ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں