من کی باتیں/محمد خالد قریشی

7

کردار کی عظمت ۔۔۔عمران خان؟

پاکستان کے سیاستدان آج کل کردار کشی کے شکار ہیں ۔P.T.I کے حامی میڈیا House بال کی کھال نکال کر وکالت کرتے ہیں کہ عمران خان جہاں ایماندار ہیں وہاں کردار کے حوالے سے رول ماڈل ہیں،ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد PMLN اور P.T.I کی سیاسی لڑائی میں بہت تیزی آگئی جو کہ بہت خطرناک با ت ہے، اس کے تاثرات گھر گھر میں محسوس ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اگر انہوں نے کچھ برا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی سزا دیں گے۔

اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والی خاتون جو کہ سندھ سے تھیں بہت اعلیٰ کردار کی ہیں۔جنہوں نے الگ ہو کر عمران خان کے ذاتی کردار کی تعریف کی،جبکہ پارٹی کی MNA ایک مہم کی طرح میڈیا میں Hot Cake ہیں خبروں میں ہے کہ عمران خان موبائیل فون پر گھٹیا پیغامات بھیجتے تھے۔مذکورہ خاتون پر جہاں سوال اٹھتا ہے اگر 2013 میں پہلا sms آیا تو آج چار سالوں کے بعد آخر کیا وجہ تھی کہ اس کو Publicکیا اور P.T.I کی قیادت کے خلاف ایک مہم شروع ہو گئی۔اسی طرح نور زمان نامی شخص جو کہ مذکورہ خاتون کے رابطہ آفیسر تھے انہوں نے خوفناک انکشاف کئے کہ خاتون MNA گورنرK.P.K اور مسلم لیگ (ن) کے مشیر کے ساتھ رابطہ میں تھیںاور بیرون ملک سے جعلی ہسپتال کے نام پر فنڈز حاصل کرتی تھیں اور ترقیاتی منصوبوں سے کمیشن یا پھر اپنا حصہ وصول کرتی تھیں۔جناب والا نور زمان صاحب آپ بھی آج دن تک خاموش کیوں تھے،کس انتظار میں تھے؟۔

گذشتہ دنوں ایک اینکر نے انکشاف کیا کہ مذکورہ خاتون کے موبائیل سے پیغامات کو دیکھا ہے اور تحقیقات کی ضرورت ہے۔ماضی میں بھی جناب عمران خان صاحب پر خواتین سے تعلقات کے حوالے سے بہت الزامات لگتے تھے،یقینا جھوٹے ہوں گے۔عمران خان صاحب اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کا بہت حوالہ دیتے ہیں بلکہ اپنی تقریر کا آغاز ایک مختصر آیت سے کرتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے، مگر سوال صرف اتنا پیدا ہوتا ہے کہ قرآن اور حدیث میں جھوٹے الزامات، بہتان اور عیبوں سے پردہ اٹھانے کے حوالے سے بھی ذرا قرآن اور حدیث بیان کریں کہ کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں ہے کہ ’’لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالو میں تمہارے عیبوں پر پردہ ڈالوں گا‘‘۔ کیا رسالت مآب ﷺ نے نہیں فرمایا کہ ’’کافروں کے جھوٹے خدائوں یعنی بتوں کو گالی نہ دو جواباََ کافر تمہارے سچے خدا کو کہیں برا نہ کہہ دیں‘‘ ۔

محترم و مکرمی عمران خان صاحب نے کیا سوشل میڈیا پر ایک فورس قائم نہیں کی تھی اور اپنے مخالفین کی کردار کشی کی ایک مہم جاری کی آپ کی خاموشی نیم رضا مندی تھی۔ جلسہ عام میں ایک ممتاز عالم دین اور ایک بڑی مذہبی جماعت کے قائد کو ’’ڈیزل‘‘ کیوں کہا جاتا ہے،بقول آپکے کہ انہوں نے ڈیزل کے پرمٹ فروخت کئے تھے تو جناب والا اگر ثبوت ہیں تو ایک عدد ریفرنس اُن کے خلاف بھی دائر کریں ،لیڈر ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرتا ہے،آپ بات کر کے سوچتے ہیں۔پریس ٹاک کے دوران شاہد محمود قریشی اور جہانگیر ترین اکثر آ پ کو ٹوکتے ہیں کہ یہ بات کریں اور یہ نہ کریں،اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آپکی A.T.M مشین ہی نہیں وہ آپ کے کان اور آنکھ ہیں ،ان کی اپنی سوچ کیا ہے؟.

پاکستان میں ایک سوچ ہمیشہ رہی کہ جمہوریت بہتر تھی یا پھر دور امریت؟۔سیاستدان پاکستان کے لئے سود مند تھے اور ہیں یا پھر فوجی حکمران ؟،سوال صرف اتنا ہے کہ جو سیاستدان یہ دلائل دیتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے ایک محب وطن سیاستدان اور بانی قائد تھے مگر آج دن تک کوئی پاکستان کا سیاستدان ایسا با کردار تھا ،با اصول ہے جس کا مقابلہ حضرت قائد اعظم سے کیا جا سکے۔ جنہوں نے اپنی بیماری کو صرف اس لئے پوشیدہ رکھا تھا کہ انگریز یا پھر ہندو کو پتہ لگتا کہ ان کی بیماری اس سطح پر ہے جہاں ذیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکیں تو شائد پاکستان ہی نہ بنتا۔پاکستان کے جلد قیام کے لئے قائد اعظم نے دن رات محنت کی۔برطانیہ کے اس ماحول میں رہنے والے اور صاحب حیثیت قابل ترین رہنما کی عظمت اور کردار کو سلام ،غیر مسلم بھی ان کے کردار کی مثال دیتے تھے۔ایک پائی کی کرپشن یا پھر اخلاقی پستی کا لزام ساری زندگی نہ آیا ۔سیاستدان اپنے آپ کو قائد اعظم ثانی کہلاتے ہیں مگر بد بو دار کردار کے حامل ہیں۔

آج پاکستان کی سیاست جس اخلاقی پستی کی شکار ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی انسان تو بہت کمزور ہے،کردار بھی کوئی قابل فخر نہیں ہے مگر آج جب کہ Mediaبہت آزاد ہے ’’ریٹنگ‘‘ کے لئے مائوں ،بہنوں کو میڈیا پر پیش کر کے کردار کشی کرا کر کے ساری دنیا میں اپنی سیاسی قیادت کو رسوا اور بدنام کر رہے ہیں۔اس کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔مذہبی رہنما بھی اس کو نمک مرچ لگا کر پیش کرتے ہیں مگر ہماری آنے والی نسل پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو ں گے،یقینا ہمارا معاشرہ ایک ’’مافیا‘‘ بن گیا ہے جہاں ہر چیز جیسے کہتے ہیں کہ Love & War میں ہر چیز جائز ہے، ذاتی آنا اور ضد کی جنگ ہے اس میں سراسر نقصان صرف پاکستان اور ہماری قوم کا ہو گا۔اگر گھر میں بہت بے ضرر اور معمولی جھوٹ اپنے بچوں سے بولیں یا پھر ان کو کہیئے کہ بولیں ،مثلاََ اگر کوئی گھر ملنے آئے تو بچوں کو کہیئے کہ کہو کہ گھر میں نہیں ہیں حالانکہ گھر آنے والے مہمان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور رزق میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے کیا ایک مسلمان معاشرے میں ہم اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ اگر ہو رہے ہیں تو ’’ برکت‘‘ کہاں سے آئے گی اور گھر میں ایک کسی کا فون آ جائے تو بچوں کو اکثر کہتے ہیں کہ کہوں کے گھر پر نہیں ہیں یا پھر کچن اور باتھ روم میں ہیں،کیا اس کے اثرات گھروں پر مرتب نہ ہوں گے جبکہ حدیث مبارکہ ہے کہ اگر رزق کی فراوانی چاہتے ہو اور تنگ دلی سے نجات چاہتے ہو تو گھر داخل ہوتے ہی بلند آواز میں ’’ اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ ‘‘ کہئے اور ’’سورۃ اخلاص‘‘ پڑھیں۔

ایک دفعہ رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں ایک خاتون آئیں اور کہا کہ میرا بیٹا بہت ذیادہ ’’گُڑ ‘‘ کھاتا ہے اس کو منع فرمائیں ،آپ ﷺ نے فرمایا کہ کل آنا جب دوسرے دن آئی تو فرمایا کہ ایک دن بعد آنا ،جب وہ تیسرے دن آئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بیٹے کو فرمایا کہ بیٹا گُڑ مت کھایا کرو ،بہت ذیادہ میٹھا اچھا نہیں ہوتا ۔عورت نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ اگر صرف اتنی ہی نصیحت تھی تو آپ پہلے دن یہ فرما دیتے میں روزانہ نہ آتی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے دو دنوں میں میں نے خود گُڑ کھایا ہوا تھا اس کو کیا منع کرتا۔

کردار عمل سے بنتے ہیں ،آج پاکستان کے معاشرے میں ہم جس طرف جا رہے ہیں وہ صرف تباہی اور بربادی ہے ،پاکستان کے سیاسی راہنمائوں کو اپنا کردار مثالی بنانا ہو گا،قوم کے لئے رول ماڈل بنیں ۔عمران خان نے اپنے اسلام آباد کے ’’یوم تشکر‘‘ والے جلسے میں اپنی سابقہ بیگم کا بہت ذکر کیا اس کی عمر کا بھی بتایا۔اس کا ’’ماں‘‘ بننے کا ذکر ہوا ،کیا صرف یہی مسئلے ہیں پاکستان کے؟،کسی کو چور کہنا یا پھر سارا ٹبر چور بنانا ہی اصل مسئلہ ہے ؟۔معاملات عدالتوں میں ہیں ،عدالتوں اور NAB کو کام کرنے دیں۔

پاکستان میں خواتین کے ذریعے کردار کشی Media Trail بند ہونا چاہئے،نئی کابینہ میں وہی رہنما آئے جنہوں نے Panama کیس کے دوران میڈیا ٹاک میں حکمرانوں کا موثر انداز میں دفاع کیا۔پاکستان کی حمایت 221 ممبران اسمبلی ہیں،کیا آئندہ کارکردگی کا پیمانہ یہی ہو گا؟۔حکمرانوں اور اپوزیشن کو میڈیا پالیسی دینی ہو گی ’’Code of Conduct ‘‘ ہو چاہئے، سیاستدانوں کے کردار اگر ’’Role Model‘‘ نہیں ہیں تو کم از کم ایسی کردار کشی مہم کی حوصلہ افزائی نہ کریں ،جو بھی ایسا کرے گا اس کی اپنی عزت محفوظ نہ ہو گی۔ پاکستان کا معاشرہ تباہ و برباد ہو رہا ہے ،لیڈر اور راہنما اپنے کردار کو ایک شفاف آئینہ کی طرح بنائیں ۔
’’کردار کی عظمت کو رسوا نہ کریں ‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں