16

الحاق کے حامی سردار ابراہیم خان اور سردارعبدالقیوم اصل میں قوم پرست تھے:معروف اختر عباسی

.قائد اعظم آزادکشمیرمیں ہری سنگھ کی جانشین حکومت کے حامی تھےآزادحکومت کو فری ہینڈ دیا تھا۔۔۔۔ایکٹ 74 زبردستی کا معاہدہ ہےجس پر غازی ملت ، مجاہد اول اور خورشید ملت کے دستخط تھے۔۔۔۔بھٹو نے کے ایچ خورشید کے بچے اغوا کرنے کی دھمکی دی، مسلم کانفرنس کی ایما پر قتل کیے گئے۔۔۔۔مسلم کانفرنس نے کے ایچ خورشید کو غداروطن قرار دیاپھرانہیں کے ساتھ اتحادثلاثہ کیا۔۔۔۔۔اتحاد ثلاثہ اصل میں ہری سنگھ کی جانشین حکومت قائم کرنے کیلئے ہوا تھا۔۔۔۔بھٹو نے اتحادبننے پرالحاق پاکستان کے حامیوں کو منافق قرار دیااور ایکٹ 74 لے آئے.

maroof abasi (2)

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)آزادکشمیر کے بزرگ سیاسی رہنما اوردانشورسردار معروف اخترعباسی نےسٹیٹ ویوز کےایڈیٹرسیدخالدگردیزی،روزنامہ جموں و کشمیر کے ایڈیٹر شہزاد راٹھور، ڈیلی پارلیمنٹ ٹائمز کے ایڈیٹرجاویداقبال اور کورٹ رپورٹربابرعباسی کیساتھ ایک رسمی نشست کےدوران انکشاف کیا کہ ایکٹ 74 آزادکشمیر قیادت کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ زبردستی کا معاہدہ تھا۔ اس وقت جب میں نے غازی ملت سردار ابراہیم خان سے پوچھا کہ دستخط کیوں کیے تو انہوں نے کہا کہ ”بابا کیا کرتے ، پیچھے کلاشنکوف والا کھڑا تھا۔میں سردار عبدالقیوم کو دیکھ رہا تھا اور وہ کے ایچ خورشیدکو دیکھ رہا تھا۔“

انہوں نے بتایاکہ ذوالفقارعلی بھٹو سے ملاقات بڑی دلخراش یادوں میں سے ایک ہے۔وہ آزادکشمیرکو صوبہ بنانےکی باتیں کررہےتھےجب میں راولاکوٹ میں بھٹو سے ملا تو ان سے پوچھا کہ اس ایشو پر پوری کشمیری قیادت کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا تو انہوں نے بڑا دلچسپ جواب دیا۔ انہوں نے طنزاًکہا کہ مجھےکشمیری لیڈرشپ کی گہرائی کا علم ہے۔

معروف اخترعباسی کاکہناہے کہ کے ایچ خورشید عظیم انسان تھے۔ان کے ساتھ ٹریجڈی ہوئی۔ میں راولاکوٹ میں بیٹھا تھا کہ کے ایچ خورشید ملنے آئے۔کچھ دیر تک خاموش رہے۔ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر ججھک تھی۔ میں نے پوچھا خیریت ہےتو انہوں نے کہا نے ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں۔
یہ بات سن کر میرے ہاتھ سے چائی کی پیالی گرگئی۔پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہیں۔اس پر کے ایچ خورشید نے کہا کہ بھٹو نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میں آپ کے بال بچے اٹھاؤں گا۔جس پر میں نے کہا کہ آپ بے شک پارٹی وائنڈ اپ کریں جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے۔

انہوں نے بتایاکہ اتحاد ثلاثہ کے ایچ خورشید ، سردار ابراہیم اورسردار عبدالقیوم خان کے درمیان ہوا تھا جس میں ایک جوائنٹ ڈیکلریشن جاری ہوا جس کے مطابق یہ طے ہوا کہ ریاست کو ہری سنگھ کی جانشین حکومت دی جائے۔ اس پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ یہ منافق لوگ ہیں انہوں نے متفقہ طور پر ڈیکلریشن پر سائن کردیئے۔ایک طرف کہتے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان اور دوسری طرف ریاست میں ہری سنگھ کی جانشین حکومت قائم کرکےاسے خودمختار بنانا چاہتے ہیں۔بھٹو اس معاہدے پر سخت پریشان ہوئےاورکہا یہ کیا کردیا انہوں نے۔ اسی موقع پر بھٹو نے کہا کہ آزادکشمیر کو ہرگز صوبہ نہیں بناؤں گا۔بھٹو صاحب کا یہ بیان لبریشن لیگ کی فتح تھی۔اس عمل میں صرف سردار عبدالقیوم شامل نہیں تھے بلکہ پوری پارٹی کی مشاورت سے یہ عمل عملانے کی کوشش کی گئی۔ اس اتحاد پر پارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے ایک لفظ تک نہیں بولا۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خورشیدحسن خورشید کو مروانے کیلئے مسلم کانفرنس کو استعمال کیاگیا اور ہم سے یہ کہلوایا گیا کہ کے ایچ خورشید علیحدگی پسند اور غدار ہیں۔اس وقت میں مسلم کانفرنس میں تھا۔جب سردار عبد القیوم خان نے کے ایچ خورشید کے ساتھ اتحاد کیا اورہری سنگھ کی جانشین حکومت کی ڈیمانڈ کی تو تو اس وقت میں نےسردارعبدالقیوم خان کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ تو کےایچ خورشیدکو غدار کہہ رہے تھے اور آج آپ اتحاد کررہے ہیں۔ اس وقت میں نے سپاسہ کے ایخ خورشید لکھی جس کی چالیس ہزار کاپیاں چھپیں۔ جب مسلم کانفرنس نے اتحاد کیا تو میں نے اختلاف کرکے پارٹی چھوڑ دی اور کے ایچ خورشید کے ساتھ چلاگیا۔

معروف اخترعباسی نےبتایاکہ سب سے پہلے میں قائد اعظم کی حب الاوطنی کو سلام پیش کرتا ہوں جس طرح انہوں نے اکیلے تحریک آزادی چلائی وہ واقعی قابل تحسین ہے۔ اس وقت مسلم ہند بھی قائد اعظم کے مخالف تھے ۔ گلگت بلتستان کے علماءبھی کانگریس کے ساتھ تھے۔ ان حالات میں انہوں نے چن چن کر لوگ نکالے لیکن جب برصغیر تقسیم ہورہاتھا عین اسی وقت انگریز نے بھی ڈنڈی ماری۔ کئی مسلم علاقے ہندوستان کو دیئے۔ قائد اعظم نے یہاں تک بھی کہا کہ اگر کشمیری خودمختار بھی رہنا چاہتے ہیں تو میں مخالف نہیں ہوں۔ آزادی کے بعد آزادکشمیر میں ایک خودمختار حکومت بننی چاہیے تھی لیکن اس وقت لوگوں نے کام خراب دیاتاہم قائد اعظم نے بیس کیمپ میں آزادحکومت کو ایک ساورن سٹیٹ کی کیپ دی۔

اس وقت آزادکشمیر میں صدر سردار ابراہیم آزادکشمیر فورس (مجاہدین) کے کمانڈر ان چیف بھی تھے ان فورسز میں جذبہ تھاانڈیا سے چھ ہزار مربع میل کا علاقہ چھڑایا۔جب آزادکشمیر میں پہلی حکومت بنی تواس وقت قائداعظم نےصاف کہا کہ پاکستان کی طرف سے حکومتی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔اس وقت آزاد کشمیر کا اپنا چیف سیکرٹری تھا۔ سیکرٹری فنانس بھی اپنا تھاحتیٰ کہ ڈیفنس سیکرٹری میجرمہتاب بھی کشمیری تھا۔اسی دور میں سردار ابراہیم ریاست کے نمائندے کے طور پر تین بار سیکورٹی کونسل میں گئے۔

انکاکہناہےکہ مسلم کانفرنس روز اول سے کشمیریوں کے ساتھ مخلص نہیں تھی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد مسلم کانفرنس نے ہی رولز آف بزنس کی ترمیم کی اور پوری پاور منسٹری آف کشمیر افیرزکو چلی گئی۔یہ کشمیریوں کیلئے بڑا سانحہ تھا۔ اس کے بعد ایکٹ 74 آیا جس پر کے ایچ خورشید نے بھی دستخط کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں