نقطہ نظر/راجہ غلام مجتبیٰ

5

عطارکا لونڈا

میربھی کیاسادے ہیں کہ بیمارہوئےجس کےسبب
اسی عطارکےلونڈے سےدوا لیتے ہیں

دو دہائیوں پر مشتمل عوامی و طلباء حقوق کی جدوجہد کے دوران (باوجود اس کے کہ افرادی قوت انتہائی کم ہوتی تھی ) اللہ تعالیٰ نے کئی ایک تحریکوں میں کامیابی سے بھی ہمکنار کیا جن میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تعمیر سمیت کئی ایک دیگر کامیابیاں شامل ہیں۔ میں نے اس ضمن میں کافی غور و خوض کیا کہ ہمارے علاوہ تحصیل بھر میں بھی اور آزادکشمیر بھر میں کئی تحریکیں چلانے والے ہیں جن کے ایک ایک مظاہرے میں سینکڑوں ، ہزاروں افراد ہوتے ہیں لیکن انہیں کامیابی کیوں نہیں ملتی ؟ بہت غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں دو باتیں آئیں نمبر ایک یہ کہ ہمارا مؤقف ہمیشہ مبنی برحق رہا اور دوسری بات یہ کہ ہمارے تمام ساتھیوں اور تحریک کے قائدین میں ہمیشہ خلوص نیت اور خدمت خلق کا جذبہ غالب رہا۔

تحریک عوامی حقوق غربی باغ کی طرف سے 18ستمبر کو کئے جانے والے دھرنے میں دلی خواہش تھی کہ شامل ہوا جائے کیونکہ عوامی حقوق کی لڑائی تو ہم نے ہوش سنبھالتے ہی لڑنا شروع کی تھی لیکن باوجود خواہش کے ایسا نہ ہو سکا اور اب تو اس تحریک میں شامل ہونا ضمیر کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ تحریک عوامی حقوق میں ایک ایسی سیاسی جماعت شامل ہو چکی ہے جو حلقہ غربی باغ ہی نہیں بلکہ آزاد جموں کشمیر کے عوام کے تمام تر سیاسی، جمہوری، آئینی اور مالیاتی حقوق کی قاتل اور سوداگر ہے۔ یہ وہی سیاسی جماعت ہے جس نے ایکٹ 1974ء کی صورت میں کشمیری عوام پر غلامی کی ایک ایسی سیاہ رات مسلط کی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور اس کے نتیجہ کے طور پر پاکستان کی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے ایسی قانون سازی کی کہ کشمیری عوام کھربوں روپے سالانہ ریونیو پیدا کرنے کے باوجود کوڑی کوڑی کے محتاج ہیں۔

ایک ایسا کالا قانون جس کے باعث ریاست کا وزیر اعظم پاکستان کے ایک وزیر کے ماتحت ہو گیا۔ ایکٹ 74ء نے کشمیری عوام سے انکا اقتدار اعلیٰ چھین لیا اور پوری ریاست کو ایک وزیر کی غلامی میں دے دیا گیا۔ وہ وزیر چاہے منظوروٹو ہو یا برجیس طاہر، اس کا جس مرضی رنگ ، نسل، صوبہ یا سیاسی جماعت سے تعلق ہو اس کا آزادکشمیر کے عوام کے حوالے سے نہ تو بیانیہ بدلا نہ ہی اس نے حکومتوں سے اپنی کاسہ لیسی کروانے اور کشمیریوں کا استحصال کرنے میں کوئی کسر روا رکھی۔میں یہ نہیں کہتا کہ عوامی حقوق کیلئے احتجاج نہ کیا جائے واللہ اس کے سوا کوئی حل نہیں لیکن ایسی سیاسی جماعت جو کہ کشمیری عوام کے استحصال کی کلی طور پر ذمہ دار اور کشمیری قوم کی مجرم ہے کے ساتھ ملکر عوامی حقوق کیلئے یا موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا خود کو اور عوام کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں تا وقتیکہ مذکورہ سیاسی جماعت اپنے اعمال کی قومی سطح پر معافی مانگ کر اصلاح احوال کیلئے جدوجہد کرے۔

اس دھرنے میں شامل نہ ہونے کی دوسری وجہ نظم و ضبط کے حوالے سے ایک فیصلہ ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جس نے میرے پہلے والے آرٹیکل ’’رانگ نمبرز ‘‘ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ قارئین! آزادکشمیر کا جھنڈا احتجاج میں شامل ہونا ضروری بات لیکن پاکستان کا جھنڈا کیوں؟ مجھے مملکت پاکستان کے وجود سے نہ تو نفرت ہے نہ ہی میں پاکستان کا دشمن ہوں بلکہ بحیثیت ایک مسلم مملکت پاکستان کی ترقی، سلامتی ، خوشحالی اور پاکستانی عوام کے بہتر مستقبل کیلئے ہمیشہ ہی دعا گو رہتے ہیں لیکن پاکستان کی سبھی حکومتوں کے دو اداروں وزارت امور کشمیراور کشمیر کونسل جیسے استحصالی ادارے ہمیں کبھی بھی قابل قبول نہیں رہے ۔ یہی دو ادارے ہیں جنہوں نے کشمیریوں کا بدترین استحصال کیا۔

آج اگر آزادکشمیر کی حکومتیں تعمیر و ترقی کرنے میں ناکام ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وزارت امور کشمیر و کشمیر کونسل ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کا سارا مال ہڑپ کر رکھا ہے۔ مسلم کانفرنس کو ساتھ ملا کر اور پاکستان کے جھنڈے اٹھا کر اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے اگر وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کے خاتمے اور ریاست کے حق حکمرانی کی بحالی کیلئے آزادکشمیر کے جھنڈے اٹھا کر احتجاج کیا جاتا تو یقین مانیں نہ صرف بشارت شہید روڈ پلیٹ میں رکھ کر پیش کی جاتی بلکہ جو جو مطالبہ بھی منوانا ہوتا منوا لیا جا سکتا تھا لیکن کیا کہیں بقول شاعر

میر بھی کیا سادے ہیں کہ بیمارہوئےجس کےسبب
اسی عطارکے لونڈے سےدوا لیتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں