چلتےچلتے/شہزادراٹھور

11

کشمیر کے نام پر تجارت کرنیوالے بمقابلہ تحریک آزادی کے اصل وارث

(قسط 2)

گزشتہ روز چلتے چلتے میں کالم ہذا کی پہلی قسط شائع ہوئی جس کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سرشام سے ہی مختلف لوگوں کی ٹیلی فون کالز آنا شروع ہو گئیں جن میں سے تقریباً نوے فیصد لوگوں نے مذکورہ کالم کو حقائق کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے یار لوگوں کی تعریف کی ، رات کے تقریباً ایک بجے فون کی ٹیون بجنا شروع ہوئی تو دیکھا کہ سکرین پر جنیوا کا نمبر آ رہا ہے نمبر دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ کس کا فون ہو سکتا ہے بہرحال فون اٹھایا تو توقع کے عین مطابق دوسری طرف کے آئی آئی آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار امجد یوسف تھے ان کی آواز کے بھاری پن سے اندازہ ہو رہا تھا کہ موصوف لال پری کے اثر میں ہیں پہلے سوچا کہ فون کاٹ دوں لیکن پھر سوچا کہ موصوف یہ گمان نہ کر لیں کہ کالم میں میری سرگرمیوں کا پوسٹ مارٹم کر کے میرا موقف تک نہ لیا بہرحال ٹیلی فون پر جو گفتگو ہوئی اور موصوف کی جارحانہ گفتگو جس طرح پہلے دھیمی ہوئی اور بعد میں میٹھی اس کا ذکر مناسب وقت پر آنے پر کیا جائے گا کیونکہ اس کی ریکارڈنگ یار لوگوں کے پاس محفوظ ہے۔

موصوف کا خیال تھا کہ یہ آرٹیکل ڈاکٹر نذیر گیلانی اور راکے ایجنڈے کا حصہ ہے اور کشمیر کیلئے ان کی جدوجہد کو ثبوتاژ کرنے کیلئے لکھا گیا ہے جبکہ یارلوگوں کا ڈاکٹر نذیر گیلانی سے تعارف ہی نہیں ہے اور را سے تو یار لوگوں کا اینٹ اور کتے والا ویر ہے ویسے اس بات کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے لوگ تھے جو را کے ایجنڈے کی تکمیل میں را کے ہیلپنگ ہینڈز بنے ایک ایسے وقت میں کہ جب ٹرمپ اور مودی یعنی امریکہ اور بھارت یعنی سی آئی اے اور را تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں سید صلاح الدین اور اس تحریک میں سب سے زیادہ جوانوں کا گرم لہو پیش کرنے والی حزب المجاہدین کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے منصوبے پر عمل پیرا تھے تو دبئی کانفرنس میں تحریک مخالف عناصر کے ساتھ بیٹھ کر وادی میں جاری مزاحمت کو دہشتگردی کا نام دے کر اس ”دہشتگردی“ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور کیوں دیا جا رہا تھا۔

موصوف کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی روداد کی وجہ سے کام کے تسلسل کو توڑ نا پڑا جس سے اس کی ضخامت میں بھی اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے جس سے لگتا ہے کہ تیسری قسط تک بھی معاملہ پہنچ سکتا ہے۔ کالم کا آغاز ایک تصویر اور اس کی ان دو کہانیوں سے ہوا تھا جن میں سے ایک تو وہ تھی جس کی نقشہ کشی صاحبان تصویر کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے لابی میں کھڑے ہو کر جتنی دیر میں تصویر بنتی ہے اتنی دیر میں وینزویلا کے وزیر خارجہ کو پورا مسئلہ کشمیر بریف کر دیا اور وینزویلا کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت پر راضی کرا لیااور دوسری کہانی اس تصویر کے دوسرے رخ سے متعلق ہے جسے ہر ذی شعور آدمی تسلیم کرتا ہے کہ ان حضرات کا کام مالکوں کے خرچے پر نخرہ ہی دکھانا ہے ان حضرات کو لابی میں وینزویلا کا وزیر خارجہ مل گیا تو اسی کو پکڑ کر تصویر بنا لی یہ نہیں سوچا کہ آخر لوگوں کو کیا بتائیں کہ وینزویلا کا وزیر خارجہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتا ہے

بہرحال یہ ہمارے ان دانشوروں کا المیہ ہے جنہوں نے کشمیر کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں اور جن کا خرچہ پانی ہی تحریک آزادی سے چلتا ہے ادھر کشمیر میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں تو یہ ان کی لاشیں بیچنے بین الاقوامی اداروں میں پہنچ جاتے ہیں اور ان کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ کوئی ان کے کرتوت بے نقاب کرے یہ اس پر را کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔

اس بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ حریت کانفرنس کے اگر چند لوگ ان مغربی این جی اوز کے آلہ کار بن کر ان کے مذموم مقاصد پورے کرنے میں استعمال ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ پوری کی پوری حریت کانفرنس اس کھیل میں شامل ہے بلکہ حریت کانفرنس کے وہ رہنما جو سرینگر میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جنہیں ٹاڈا پوٹا اور افسپا جیسے کالے قوانین کا سامنا ہے جن کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنانے کیلئے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی بنا کر پورے سرینگر کو کالا پانی بنا دیا گیا ہے

اس بات سے آگاہ بھی نہیں ہوں گے کہ چند نام نہاد دانشوران کی جدوجہد کو بیچنے کیلئے بھارتی ایجنٹوں سے ہاتھ ملا کر ان کے پاکستان میں موجود نمائندوں کو استعمال کر رہے ہیں اور دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ وادی میں جو مسلح مزاحمت ہے وہ دہشتگردی ہے اور اس پر قابو پایا جانا خطے کے امن کیلئے ضروری ہے اور شہیدوں کی لاشوں کو بیچنے کیلئے یہ منڈیاں اب دبئی میں بھی لگنا شروع ہو گئی ہیں۔

اس بات میں شبہ نہیں کہ پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی سرپرستی کر رہا ہے اور 1973ءکے عبوری ایکٹ کے مطابق کشمیری سیاستدانوں کو کشمیر کاز پر بین الاقوامی فورمز میں بات کرنے کی اجازت ہی نہیں تو پھر کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ یہ لوگ کیسے ان فورمز تک پہنچ جاتے ہیں اور وہ باتیں کرتے ہیں جو کشمیریوں کے موقف کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔

یار لوگوں کا چونکہ نہ تو سردار امجد یوسف صاحب سے کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی ان کی تنظیم سے ان کی دکان چمکتی رہے تو یار لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تک وہ اپنی دکان کی مارکیٹنگ کیلئے اور اپنے گاڈ فادرز سے مزید فنڈز اینٹھنے کیلئے بھارت نواز عناصر جن کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں کے ساتھ ہاتھ ملا کر بھارتی فورسز کے مظالم سے تنگ آ کر اور مایوسی کا شکار ہو کر بندوق اٹھانے والے کشمیریوں کے خلاف سازشیں کرنا چھوڑ دیں گے۔

اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی لاشوں پر تجارت بھی کرتے رہیں گے اور تحریک آزادی کے وارث بن کر عالمی اداروں اور کشمیری قوم کی آنکھوں میں دھول بھی جھونکتے رہیں گے تو ایسے نہیں چلے گا۔ انہیں یا تو کشمیریوں کی تحریک کا دعویدار بننا ہو گا اور علی شاہنواز صاحب کی طرح اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے جدوجہد کرنا ہو گی یا پھر ڈالر اکٹھے کرنے کا مشن جاری رکھنا ہو گا۔

تحریک آزادی کے اصل وارث وہی ہیں جو سرینگر کی گلیوں کوچوں میں بھارتی بکتر بند گاڑیوں کے سامنے پتھر لے کر آ جاتے ہیں یا وہ نوجوان جو برہان مظفر وانی اور سبزار بٹ کی پیروی کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں نہ کہ کشمیریوں کی لاشوں کی تجارت کر کے مال بٹورنے والے۔