نقطہ نظر/ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

9

درزی اور چرسی

شہزاد راٹھور کے کالم کی دوسری قسط “کشمیر کے نام پر تجارت کرنے والے بمقابلہ تحریک آزادی کے اصل وارث” کی دوسری قسط میں اپنا ذکر خیر پڑھ کر خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی کہ سرکاری خزانے کے مسافر، جنیوا میں رات کے آخری پہر کس قدر ہوش کی قید سے آزاد ہوکر کلام کے حسن کی توہین اور بد کلامی پر اتر آتے ہیں۔ یہ ان کے سر پرست ہی جانتے ہونگے کہ موصوف کا کشمیر کاز پر کتنا احسان ہے اور کشمیر کاز کا ان کی ذات پر کتنا احسان ہے۔

شہزاد راٹھور کے کالم میں اس احسان کا ایک جائیزہ موجود ہے۔ یہاں جنیوا سے رات گۓ شہزاد راٹھور کو آنے والی فون کال کے حوالے سے ایک مختصر کہانی بیان کروں گا۔ یہ میرے حوالے کا interim جواب ہہے۔ دو دوست ایک درزی اور ایک چرسی دریا کے آر پار دو کناروں پر دن بھر کھلے آسمان کے نیچے اپنا اپنا کام، کپڑے سینے اور چرس پینے کا کیا کرتے نظرآتے تھے تھے۔ ایک دن چرسی کشتی میں بیٹھ کر درزی سے ملنے آیا۔ دونوں دوست سہ پہر تک اکٹھے رہے۔ پھر چرسی نے واپس دوسری پار جانے کی اجازت لی۔

درزی اپنے کام میں لگ گیا اور قمیض کے بٹن لگانے کے ساتھ ساتھ چرسی دوست کی طرف ہاتھ ہلا کر اسے الوداع بھی کہ رہا تھا۔ چرسی کی کشتی بیچ دریا دورنصف سفرطے کر چکی تھی۔ جوں جوں درزی بٹن لگاتے ہوۓ سوئی کے دھاگے کو اوپر کی طرف کھینچتا تھا، چرسی دونوں آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ درزی بٹن لگاتے رہا اور چرسی آنکھیں چھپاتا رہا۔ آخر تنگ آکر چرسی سے رہا نہ گیا اوردرزی دوست پر چلایا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گالی دے کر کہا سوئی کو دور رکھ ۔کیوں میری آنکھ نکالنے پر تلے ہو۔ چرسی کو نشے کی حالت میں نہ ہی تعلق اور نہ ہی فاصلے کا احساس رہا۔ درزی کا سوئی والا ہاتھ اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ “کشمیر کے وارث” پڑھ کر خوشی ہوئی کہ 38 سال بعد اس لفظ کی حرمت میں شہزاد راٹھور نے کالم لکھا۔

میں نے اسی عنوان کے تحت ایک کتابچہ 38 سال قبل 1979 میں لکھا تھا ۔ قلم کی حرمت کے لۓ مجھے 15 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا اور گریڈ 18 کے ایک ذمہ دار منصب سے بھی علیحیدہ ہونا پڑا تھا۔

را کے ایجنٹ پہچاننےکیلئے شہزاد راٹھور کی تشریح میں اتنا مزید اضافہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اعلامیے میں حق خود ارادیت کا اظہار نہیں کرتے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ نہیں دیتے، کشمیر میں جاری عوامی مزاحمت کو دہشت گردی کی تشریح میں لاتےہیں، بھارتی افواج کے مظالم کی مزمت نہيں کرتے اور نہ ہی ان افواج کی قانونی جوازیت کو چيلنج کرتے ہیں۔ ان جزویات کو نظر انداز کر کے بھارتی بیانيے کی مضبوتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ NGOs کی آڑ میں کام کرنے والا یہ مافیا دور دور تک پھیلا ہے اور سرکاری خرچے اور یورپی NGOs کی سرپرستی میں کام کرنے والوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ موصوف کا جنیوا سرکاری خرچے پر جا کر دوسروں پر اس طرح کا رات ایک بجے اظہار چرسی والی حرکت ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چرسی سرکاری پیسوں سے خریدی چرس نہيں پیتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں