4

ٹویٹ واپس، وزیردفاع نےیوٹرن لےلیا

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سمیت پاکستان کی اہم سیاسی و کاروباری شخصیات نے حال ہی میں برطانوی کاروباری شخصیت انیل مسرت کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی ہے۔ اس تقریب میں بنائی گئی عمران خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس میں عمران خان ایک ادھیڑ عمر خاتون کے ساتھ محو گفتگو نظر آرہے ہیں جبکہ ایک نوجوان خاتون ان کے عقب میں کھڑی ہوئی ہے ۔

یہ تصویر منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا اور لوگوں نے اسے عمران خان پر تنقید کے ہتھیار کے طور پر پیش کیا۔ اس ہنگامے میں پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر بھی شامل ہوگئے اور پھر جب حقیقت سامنے آئی تو فوراً ہی پسپائی بھی اختیار کرلی۔

عمران خان کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد خرم دستگیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس تصویر کا مذاق اڑا کر اپنے سیاسی مخالف عمران خان کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’ایک تصویر ہزار لفظوں سے زیادہ با معنی ہوتی ہے ، یا پھر بلیک بیری کے میسجز بھی یہی کام کرتے ہیں‘۔

خرم دستگیر کا یہ ٹویٹ سامنے آیا تو عمران خان کے مشیر صاحبزادہ جہانگیر بھی میدان میں آگئے اور خرم دستگیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے عقب میں ان کا بیٹا اور بہو کھڑے ہیں جبکہ ان کے پہلو میں جو خاتون بیٹھی ہوئی ہے وہ برطانوی آرمی چیف جنرل نک کارٹر کی اہلیہ ہیں۔


جب صاحبزادہ جہانگیر کا ٹویٹ آیا تو پاکستان کے وزیر دفاع کو فوری طور پر اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے پاکستان کو ممکنہ سفارتی تنہائی سے بچانے کیلئے اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں