چلتےچلتے/شہزادراٹھور

6

کرائے کے گوریلے اور کشمیری ڈائس پورہ

قسط 3

آج کل سوشل میڈیا پر کشمیری ڈائس پورہ میں تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے والے وظیفہ خور اور فنڈز خور لیڈروں کے حوالے سے بحث چل رہی ہے ہر کوئی اس بات کا دعویٰ کررہا ہے کہ بس وہی ایک ہے جو کشمیری قوم کا اصل مخلص ہے باقی سارے را کے ایجنٹ ہیں ۔

بین الاقوامی سطح پر کشمیر یا انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والی کانفرنسوں میں شریک ہونے والے کشمیری ایک دوسرے کے اوپر اس قدر کیچڑ اچھال رہے ہیں کہ الامان لیکن اس کے باوجود ہر کوئی یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کی خدمات کے باعث ہی مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہو رہا ہے اور اصل صورتحال یہ ہے کہ کشمیریوں کے انٹرنیشل پالیٹیکس میں دس بارہ گروپوں کی مسلسل ایکٹیویٹیز کے باوجود بھارت کشمیر کی تحریک آزادی کو عالمی دہشتگردی سے جوڑنے میں کامیاب ہو چکا ہے اور برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں جس سیاسی مزاحمتی تحریک نے سر اٹھایا تھا اور بھارتی حکومت کے لئے وبال جان بن چکی تھی

اب آہستہ آہستہ ماٹھی پڑنی شروع ہورہی ہے اور یہ بات باعث تشویش ہے کہ اس تحریک کو بھارت مقبوضہ کشمیر میں تو نہیں دبا سکا لیکن ڈائس پورہ اور بین الاقوامی برادری میں اس پر کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوا ہے اور اس میں دبئی کانفرنس ایک ایسا ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ جس نے کشمیریوں کی انڈیجینس سیاسی اور مزاحمتی تحریک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا تھا اور اس کے اصل ذمہ دار چند لوگ تھے جنہیں یار لوگوں نے جب نوسرباز لکھا تو مائنڈ کرگئے حالانکہ ان کے ساتھ چلنے والوں کی بڑی تعداد بھی انہیں نوسرباز ہی کہتی ہے بس فرق یہ تھا کہ وہ صرف کہتے ہیں اور یار لوگوں نے لکھ دیا۔

جس وقت بین الاقوامی سطح پر کشمیر سنٹرز کام کررہے تھے تو عالمی برادری میں بھی کشمیریوں کے حقوق کی بڑی بات ہوا کرتی تھی وہ سنٹرز ایک پروٹوکول کے تحت کام کررہے تھے لیک بھارتی حکومت کی تحریک پر جب امریکہ میں قائم کشمیر سنٹر کے انچارج ڈاکٹر غلام نبی فائی کے خلاف کاررروائی کی گئی اور وہ سنٹر بند کیا گیا تو اس سے بعض لوگوں کو اس نئے سیکٹر میں دکانداری کا سکوپ نظر آیا تو انہوں نے کشمیر سنٹر لندن اور کشمیر سنٹر برسلز کے خلاف بھی سازشیں کرنا شروع کردیں اس وقت پاکستان میں مشرف کی حکومت تھی اور کشمیر سنٹر برسلز میں بیرسٹر عبدالمجید ترمبو انچارج تھے اور ان کی ایکٹیویٹیز وجہ سے یورپی پارلیمنٹیرینز کی بڑی تعداد مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کے موقف کی حامی بنتی جا رہی تھی لیکن ان سازشیوں کی سازشیں کامیاب ہو گئیں اور وہ سنٹرز بھی بند کردیئے گئے

ان سنٹرز کی بندش کے بعد نئی نئی دکانیں کھل گئیں اور کنفلکٹ زون میں کام کرنے والی مغربی این جی اوز کو اپنے شیشے میں اتار کر مختلف تنظیموں نے اپنی دکانداری چمکانا شروع کردی۔

سردار امجد یوسف جو پیپلز پارٹی کے مرکزی عہدیدار ہیں کی این جی اور کے آئی آئی آر نے برطانیہ کی این جی او کنسلی ایشن ری سورسز سے مل کر ایکٹیویٹیز شروع کیں ابتداء میں انہوں نے یہی تاثر دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے کیلئے سرگرم ہیں لیکن رفتہ رفتہ ان کے اصل عزائم سامنے آنے لگے۔

یہ تنظیم مبینہ طور پر مختلف بین الاقوامی اداروں سے فنڈز حاصل کرتی ہے جن میں ان کی بڑی ڈونر تنظیم یہی برطانوی این جی او ری کنسلی ایشن ری سورسز ہی ہے یہ تنظیم کنفلیکٹ ایریاز میں امداد فراہم کرتی ہے اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق اس نے جنوبی ایشیاء میں جموں کشمیر کے تنازعے پر ہی پرائمرلی فوکس کیا ہوا ہے یعنی سب سے زیادہ توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اس این جی او کی 2016 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنوبی ایشیاء کے سیکٹر میں ایک سال میں 241554 پائونڈز خرچ کئے جو تقریبا ساڑھے بتیس کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔

یہ این جی او کے آئی آئی آر کی صرف ایک ڈونر تنظیم ہے اس کے علاوہ یہ اور کہاں کہاں سے چندے حاصل کرتے ہیں اس کا کچھ علم نہیں اس آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایڈمنسٹریشن اور سٹاف کا سالانہ خرچ 15 لاکھ پائونڈز سے زائد، دفاتر وٖغیرہ کا کرایہ 57872 پائونڈز، کمیونیکیشن کا خرچہ 7838 پائونڈز آئی ٹی کا خرچ 13225 ، گورننس 10679، اور چیریٹیبل اخراجات 1792 پائونڈز ہیں۔

رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خطے کے باقی علاقوں سے کہیں زیادہ ہیں کیا ملکی ادارے اس رپورٹ پر تحقیقات کریں گے کہ اس میں سے کتنی رقم ہمارے والے جموں و کشمیر میں آئی اور کہاں کہاں خرچ ہوئی۔ کیا کشمیر انسٹی ٹیوٹ اآف انٹرنیشنل ریلیشنز نے 2016 کی آڈٹ رپورٹ متعلقہ اداروں میں جمع کرائی ہے۔

آزادکشمیر اور پاکستان میں این جی اوز کے پہلے بھی کئی سکینڈل منظر عام پر آچکے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر جیسے حساس معاملے پر پہلی مرتبہ اس قسم کی بات سامنے آئی ہے یہ معاملہ اگر چھوٹی موٹی دکانداری کا ہوتا تو نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن یہ تحریک آزادی کشمیر کا معاملہ ہے یہ چار لاکھ سے زائد شہداء کا معاملہ ہے یہ کسی طور نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیئے کبھی یہ لوگ اپنے آپ کو مقتدر حلقوں کی نظر میں ہیرو بنانے کیلئے ڈاکٹر نذیر گیلانی، شوکت کشمیری اور عباس بٹ کو بھارت ایجنٹ اور غدار قرارے دے رہے ہوتے ہیں اور کبھی انہیں کے ساتھ بیٹھ ہوتے ہیں یا بند کمروں میں ملاقاتیں کررہے ہوتے ہیں۔

ان کے اصل آقا جو انہیں فنڈنگ دے رہے ہوتے ہیں اور حساب بھی نہیں لیتے کہ کہاں خرچ کی جا رہی ہے تو یہ ایجنڈا بھی انہیں کا مانتے ہیں کے آئی آئی آر کو فنڈ دینے والا ادارہ کنسلی ایشن ریسورز خود جن اداروں سے ایڈ لے رہا ہے ان میں زیادہ تر بھارتی نژاد لوگ کام کررہے ہیں اور پالیسیاں بھی انہی اداروں کی چلتی ہیں۔

کیا یہ صورتحال تشویشناک نہیں ہے کہ جب سے کشمیر سنٹر برسلز اور کشمیر سنٹرز لندن بند کئے گئے ہیں تب سے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز پر کشمیری ڈائس پورہ کی گرفت کمزور ہوتی جارہی یہی وجہ ہے کہ ان دکان نما این جی اوز نے جب سے یہ کام اپنے ہاتھوں میں لیا ہے بھارتی لابی کشمیر کی تحریک آزادی کو عالمی سطح پر دہشتگرد قرار دینے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے اس لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ ان چھوٹ چھوٹی دکانوں کو بند کرا کے جن کا مقصد ہی لوٹ مار ہے کے بجائے آزاد کشمیر حکومت یا حریت کانفرنس کو متحرک کیا جائے اور ان کرائے کے گوریلوں سے تحریک آزادی کی جان چھڑائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں