12

جنت نظیر کشمیر میں حویلی کہوٹہ کے مناظر،سیاحتی میلے نے نئی تاریخ رقم کر دی

ترتیب و اہتمام: محمد نوید چوہدری

ریاست جموں کشمیر کا ہر علاقہ قدرت حسن سے مالا مال ہے، کہیں برف پوش پہاڑ اور گھنے جنگلات، کہیں آبشاریں، کہیں دریا اور کہیں سنگلاخ پہاڑ، میدانی علاقوں کے سرسبز کھیت اور کہیں لکڑی اور پتھر کے گھر ہیں۔ منقسم ریاست جموں کشمیر کئی حصوں میں جبری تقسیم کا شکار ہے لیکن قدرت ہر خطے پر خاص مہربان ہے۔ تقسیم ہندوستان کے ساتھ ہی آزادکشمیر کا خطہ مقامی لوگوں نے آزاد کرایا،اس آزاد خطے میں 10 اضلاع ہیں۔

مظفرآباد ڈویثرن کے تینوں اضلاع میں بے شمار سیاحتی مقامات ہیں،وادی نیلم کی خوبصورتی ملک بھر میں زبان زد عام ہے،ہٹیاں بالا میں لیپہ ویلی کا حسن جس نے ایک مرتبہ دیکھا ہو وہ اس علاقے کی محبت بھلا نہیں سکتا، مظفرآباد میں پیرچناسی ایسا تفریحی مقام ہے جو شہر سے محض ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، شہر میں گرمی ہو اور ایک گھنٹے کے سفر کے بعد سردی کی شدت محسوس کرنی ہو تو پیرچناسی کا سفر ضروری کرنا چاہیے، سری کوٹ ہو یا کوٹلہ ویلی کے مناظر سب ہی قابل تعریف ہیں، میرپور ڈویثرن میں تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر واقع ہیں، میرپور کا ڈیم اسکی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ ڈیم میں کشتیوں کا سفر کرنا ہو یا شام کے وقت اس کے کنارے بیٹھ کر وقت گزارنا ہو ہمیشہ یہ لمحات یادگار رہتے ہیں۔ بھمبر کی خوبصورتی بلکل منفرد ہے، لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے خوبصورت ہیں، اسی طرح کوٹلی روشنیوں اور مسجدوں کا شہر ہے اس کا گردونواح کشادہ اور دیدہ زیب ہے، اس ڈویثرن میں سرسبز کھیت اس کا حسن مزید منفرد کرتے ہیں۔

پونچھ ڈویثرن میں پونچھ، باغ، حویلی کہوٹہ اور سدھنوتی واقع ہیں، سدھنوتی کا علاقہ پنجاب کے ساتھ بذریعہ آزادپتن ملتا ہے، اس علاقے میں تاریخی مقامات واقعات ہیں، جنگلات اس علاقے کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں، باغ کا تفریحی مقام گنگا چوٹی اب ایک مشہور سیاحتی مقام بن چکا ہے، کئی ہزار بلند اس مقام کو دیکھنے والے اس کے دیوانے ہو جاتے ہیں، راولاکوٹ کی بنجوسہ جھیل اور تولی پیر ملک کے معروف سیاحتی مقامات ہیں اور ہر سال ہزاروں افراد انہیں دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔

حویلی کہوٹہ ایک ایسا ضلع ہے جس کو ہمیشہ پسماندہ اور دور افتادہ قرا دیا جاتا رہا ہے۔ اس علاقے کا حسن کئی دہائیوں سے پوشیدہ رہا ہے اور جب بھی حویلی کہوٹہ کا ذکر قومی میڈیا پر آیا تو اسکی وجہ سیز فائرلائن پر بھارتی گولہ بارے سے ہونے والے نقصانات یا ٹریفک کے حادثات ہی رہے ہیں۔ اب چند سال سے حویلی میں لوگوں کا جانا آنا شروع ہوا ہے اور اسکی وجہ اس علاقے کی خوبصورتی ہے، حویلی کہوٹہ کا زیادہ تر علاقہ سیز فائر لائن سے متصل ہے، خورشید آباد ہو یا ممتاز آباد، یا کہوٹہ شہرہو، ہر طرف حسن کی دیوی مہرنان رہی ہے، حویلی کہوٹہ کا مقام نیل فیری ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے، اس کے علاوہ اس علاقے میں پائی جانے والی آبشاریں، سیری میڈوز، کالہ مولا، چھانجل، مندہار سمیت کئی علاقے ہیں جو دیکھنے لائق ہیں۔

دوسرے شہروں سے حویلی کہوٹہ تک رسائل کو سہل بنانے میں وزیر حکومت وقت چوہدری محمد عزیز کا اہم کردار رہا ہے، بذریعہ عباسپورحویلی تک شاہراہ کو کشادہ بنانے کیلئے انہوں نے خاص دلچسپی لی اور کروڑوں روپے کے فنڈز بھی دلائے اسی طرح بذریعہ تولی پیر ایک کشادہ سڑک بھی حویلی کہوٹہ تک شروع کرائی گئی ہے، اسی طرح موجودہ وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور بھی اس علاقے کی بہتری کیلئے تمام تر کاوشیں کرتے آئے ہیں اور اس مرتبہ بھی وہ خاص دلچسپی سے یہاں منصوبے لا رہے ہیں، سابق رکن اسمبلی اور عالم دین پیر علی رضا بخاری ہوں یا رکن کشمیر کونسل خواجہ طارق سعید ہوں یا شجاع خورشید راٹھور اور عامر نذیر ہوں،ہر ایک حکومتی اور سیاسی ذمہ دار حویلی کہوٹہ کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ان مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ہی حویلی کہوٹہ کی سیاحت چند سالوں میں فروغ پا رہی ہے اور اب اس کے مقامات کا تذکرہ قومی میڈیا میں ہوتا ہے۔ حویلی کہوٹہ میں ہونے والے حالیہ سیاحتی میلے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اس کو قومی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ اس فیسٹیول کی تفصیلات ڈپٹی ایڈیٹر سٹیٹ ویوز محمد نوید چوہدری کی قلم سے ملاحضہ کریں۔

حکومت آزادکشمیر کی میزبانی میں راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم چار روزہ دورہ حویلی کہوٹہ اختتام پذیر ہوا، اعلیٰ سطحی سرکاری دورے کا انعقاد ممکن بنانے پر وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق،وزیر حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور،سیکریٹری سروسز راجہ امجد پرویز،کمشنر پونچھ ڈویژن چوہدری فریداور بالخصوص اس ایونٹ کی مشکلات کے باوجود کامیاب بنانے میں اورحویلہ کہوٹہ کی تمام سیاسی و سماجی تنظیموں اور ان کے سربراہان کو ایک پیج پہ اکٹھا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ان سمیت انتظامی و اعلیٰ پولیس آفیسران اور سابق ممبر اسمبلی پیر ڈاکٹر سید علی رضا بخاری کا بھی اس ایونٹ کی کامیابی میں اہم رول رہا۔

اس ایونٹ کے آرگنائزر باسط فاروقی اور انکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے نہ صرف حکومتی اداروں، سیاسی شخصیات اور ملک بھر سے سیاحوں اور میڈیا کے لوگوں کو مدعو کیا اور تمام انتظامات مکمل کیے۔آزاد کشمیرکا سب سے میگا ایونٹ حویلی ٹورازم فیسٹول منعقد ہوا، ابتدائی تقریب حویلی شہر میں ہوئی ” نیل فری جھیل”اس ایونت کا اہم مقام تھا، ضلع حویلی کے علاقے جبی سیداں کہوٹہ سے جیپ کے ذریعے ایک گھنٹے کی مسافت پر جو کہ سطح سمندر سے تقریباً آٹھ ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے، یہ ایک خوبصورت مقام ہے جو سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے،آزاد کشمیر کے بلند و بالا سیاحتی مقام پر یہ قدرتی جھیل حسن کو دوبالا کرتی ہے، خوبصورت وادی میں حویلی ٹورازم فیسٹیول اور نیلفری جھیل کنارے ہزاروں سیاحوں نے شر کت کر کے ایونٹ کو یادگار بنا دیا،وہیں کشمیر کے قدرتی حسن اور سیاحت کے نظاروں کو بھی چار چاند لگا دیئے۔

حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیری صحافیوں کو سٹیٹ گیسٹ قرار دیا گیا اورصحافیوں کی طرف سے صحافتی گروپ کی قیادت ایڈیٹر روزنامہ سٹیٹ ویوز وسابق پریس سیکرٹری سید خالد گردیزی اور سیکرٹری جنرل کشمیر جرنلسٹ فورم عقیل انجم نے کی،سید خالد گردیزی نے ابتدائے سفر سے اختتام سفر تک بہترین منیجمنٹ کی، ٹرانسپورٹ سے لیکر رہائش، طعام سے لیکر قیام تک ہر معاملے میں کوآرڈینیشن کی،36 رکنی سینئر صحافیوں کی ٹیم میں خواتین صحافی بھی شامل تھی جبکہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے صحافی دوست بھی اس ٹیم کا حصہ تھے،

میڈیا ٹیم میں کو آرڈینیٹر سید خالد گردیزی، سیکرٹری جنرل کشمیر جرنلسٹ فورم عقیل انجم کے علاوہ چیف ایڈیٹر سٹیٹ ویوز میڈیا گروپ شہزاد خان، راقم ڈپٹی ایڈیٹر سٹیٹ ویوز محمد نوید چودہدری، سینئر صحافی حضرات مدثر چوہدری،سردار احسان، اعجاز خان،ثاقب راٹھور، شیراز احمد راٹھور،اللہ داد صدیقی،مقصود منتظر، نعیم راتھر،اعجاز عباسی،بشیر عثمانی، اسحاق ہاشمی،سردار شوکت محمود، مقدر شاہ، عدنان عباسی، ایم ڈی مغل، نثار کیانی،نثار احمد، ہماء خان،ہماء علی، ارشد میر، افشاں کیانی،ہارون کیانی، فائزہ بخاری،راجہ خالد، محمد عرفان و دیگر شامل تھے۔ میڈیا ٹیم جب اسلام آباد سے دھیرکوٹ آزاد کشمیر پہنچی تو وہاں کی مقامی انتظامیہ نے عشایئے کااہتمام کیا۔عشایئے کے بعد باغ شہر سے گزرتے ہوئے رات کا قیام سدھن گلی کے تفریحی مقام پر سرکاری گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا وہاں سے صبح ضلع حویلی کی طرف روانگی ہوئے۔

ضلع حویلی کا شمار آزادکشمیر کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔ یہ وادی سیر و سیاحت کے فروغ کی غرض سے وادی کے اہم مقامات انتہائی خوبصورت ہیں۔ اگر آپ جا بجا حسین و جمیل اور سحر انگیز نظارے دیکھنے کے علاوہ ٹھنڈے میٹھے چشموں، جھاگ اڑاتے شوریدہ پانیوں اور بلندی سے گرتی آبشاروں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس وادی سے بہتر مقام شاید ہی کوئی اور ہو۔حویلی پہنچنے پر مقامی پریس کلب کے عہدیداروں نے شاندار استقبال کیا، حماد الحسن بخاری اور شیخ وحید نے بھرپور میزبانی کی، رات کو حویلی فیسٹیول کی تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جس میں مقامی انتظامیہ کے علاوہ سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر،وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور،، رکن اسمبلی چوہدری قاسم مجید،ممبر اسمبلی خواجہ طارق سعید، ڈپٹی کمشنر حویلی چوہدری ساجد اسلم اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی اس کے علاوہ مقامی کھیلوں کے پروگرام کے علاوہ مشہور اور معروف گلوکاروں نے بھی بھرپور شرکت کر کے ایونٹ کو چار چاند لگا دیئے۔

فیسٹیول کے دونوں روز تمام تقریبات میں مقامی افراد کے علاوہ آزادکشمیر اور پاکستان بھر سے عوام کی کثیر تعداد بالخصوص فیملیز کا شرکت کرنا نہایت خوش آئند ہے۔ نیل فری تک پہنچنا عام بندے کے لیے بھی اتنا آسان نہیں جبکہ وہاں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے پہنچ کر یہ پیغام دیا کہ وہ ایسے فیسٹیولز کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔ چند ماہ پہلے جب اس فیسٹیول کی تیاریاں شروع ہوئی تو ابتدائی مراحل سے ہی کچھ گروپس بنا کر کام کا آغاز کیا گیا۔سینکڑوں افراد کی شب و روز اور انتھک محنتاس ایونٹ میں شامل تھی۔

10 اور 11 جون 2023 کو حویلی کی تاریخ کا سب سے بڑا، اہم اور ہوشربا سیاحتی میلہ سجا، جس میں پہلا مرحلہ 10 جون کی رات کو حویلی کے ضلعی ہیڈکوارٹر فارورڈ کہوٹہ ہائی سکول و کالج گراؤنڈ میں منعقد ہوا جس میں ثقافتی موسیقی، مشاعرہ اور مخلتف فنون کا مظاہرہ کیا گیا،دوسرا اور آخری مرحلہ اور پروگرام 11 جون بروز اتوار کو نیلفری جھیل کے کنارے منعقد ہوا۔ جس میں گتکا، موسیقی، ثقافتی نمائش، اسٹال اور بہت کچھ پیش کیا گیا۔دور دراز بلکہ آزاد جموں کشمیر بھر اور پاکستان کے مختلف شہروں سے سیاحوں نے شرکت کی اور قدرتی حسن کی بہاروں سے لطف اندو ہوئے۔

نیلفری کی دامن میں آستانہ عالیہ بساہاں شریف کی عظیم درگاہ ہے جس کے سجادہ نشین پیر علی رضا بخاری ہیں، موصوف اپنے علمی و روحانی قدوقامت کے ساتھ ساتھ سیاست اور سیاحت کے بھی علمبردار ہیں۔ آپ نے 2016 سے 2021 تک آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے جہاں بہت سے اقدامات کیے وہاں ان کا ایک اہم کارنامہ سیاحت کے فروغ کیلئے قرارداد اور تجاویز پیش کر کے عملی اقدام کرنا بھی اسمبلی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ آزاد جموں کشمیر میں جانے کیلئے غیر ملکی سیاحوں کو وفاق پاکستان سے NOC لینا ضروری ہوا کرتا تھا۔

اس قدغن کو ختم کروانے کیلئے اسمبلی میں قرارداد پیش کر کے منظور کروانے کا سہرا بھی پیر صاحب کے سر ہے، پیر علی رضا بخاری نے میڈیا ٹیم کا شاندار استقبال کیا، بھرپور مہمان نوازی کی، تمام ساتھیوں نے ان کے آستانے پر ہی قیام کیا۔ پیر علی رضا بخاری سمیت حویلی کی تمام قیادت نے اس ایونت کو کامیاب بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک یادگار فیسٹیول تھا اور ہزاروں افراد نے اس میں شرکت کر کے اسے یادگار بنا دیا، اب حویلی کہوٹہ سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے اور اس فیسٹیول کی وجہ سے ہزاروں سفیر بن چکے ہیں جو اس علاقے کی سیاحت کو فروغ دینے سمیت اس علاقے کی محرومیوں اور پسماندگ کو دور کرنے کیلئے اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں