14

زمینی سیارہ درجہ حرارت کے تباہ کن ریکارڈز بنانے کے قریب،عالمی ادارے کا انتباہ

عالمی ادارے کی جانب سے جاری سالانہ جاری سالانہ اسٹیٹ آف دی گلوبل کلائیمٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا سیارہ درجہ حرارت کے تباہ کن ریکارڈز بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2023 میں متعدد موسمیاتی ریکارڈز ٹوٹ گئے جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کی سطح، زمینی درجہ حرارت، سمندری درجہ حرارت، سمندری سطح میں اضافے اور برف پگھلنے کے نئے ریکارڈز 2023 میں بنے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 میں ہیٹ ویوز، سیلاب، قحط سالی، جنگلات میں آتشزدگی اور سمندری طوفانوں سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی جبکہ اربوں ڈالرز کے نقصانات بھی ہوئے۔رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوا جس کے دوران درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.45 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین عشرہ رہا۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل تیز رفتار ہوگیا ہے اور تمام اہم اشاریوں سے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ڈبلیو ایم او کی سیکرٹری جنرل Andrea Celeste Saulo نے کہا کہ ہم درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے اتنے قریب کبھی نہیں پہنچے۔

خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔ڈبلیو ایم او کی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں اور موجودہ صورتحال دنیا کے لیے بہت بڑے خطرے کی طرح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2023 میں ہم نے جو مشاہدہ کیا، بالخصوص سمندری درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ، انٹارٹک میں سمندری برف کی کمی اور گلیشیئرز پگھلنے جیسے معاملات بہت زیادہ تشویشناک ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 میں اوسطاً روزانہ ایک تہائی عالمی سمندروں کو بحری ہیٹ ویو کا سامنا ہوا جس سے ماحولیاتی اور خوراک کے نظاموں کو نقصان پہنچا۔

خیال رہے کہ گزشتہ مہینے یورپی موسمیاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پہلی بار دنیا کا درجہ حرارت پورے ایک سال تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد رہا۔رپورٹ کے مطابق فروری 2023 سے جنوری 2024 کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔

Andrea Celeste Saulo نے کہا کہ موسمیاتی بحران انسانیت کو درپیش اہم ترین چیلنج ہے اور اس کے باعث عدم مساوات کا بحران بھی بڑھ رہا ہے۔ڈبلیو ایم او کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے جن کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔یہ تعداد کورونا وائرس کی وبا سے قبل 14 کروڑ 90 لاکھ تھی مگر اب یہ تعداد 33 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ میں امید کی ایک کرن بھی دیکھنے میں آئی۔رپورٹ کے مطابق ماحول دوست توانائی کے استعمال کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں