پیپلز پارٹی آزادکشمیر سی ای سی اجلاس، انوار الحق حکومت پر عدم اعتماد، پارٹی بچانی ہے تو حکومت چھوڑ دیں، ممبران کا پارٹی قیادت سے شدید احتجاج

81

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور سمیت دیگر وزراء پر سی ای سی ممبران کی شدید تنقید ،

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت پر مکمل عدم اعتماد کرتے ہوئے پارٹی کو حکومت سے فوری الگ ہونے پر زور دیا ، پیپلز پارٹی مزاحمتی سیاست والی جماعت تھی، عوامی حقوق کی تحریک سے دور رہ کر نقصان کیا گیا، پیپلز پارٹی حکومت سے فوری الگ نہ ہوئی تو اگلے الیکشن میں ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں ملے گا،

پارٹی سیکرٹری جنرل اور دیگر پیپلز پارٹی کے وزراء نے اپنی وزارتوں کی خاطر پیپلز پارٹی کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کا سودہ کر دیا ہے، پارٹی صدر چوہدری یٰسین نے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کو تحریری طور پر تمام صورتحال سے آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، اجلاس میں عوامی تحریک کے دوران شہید ہونے والے شہریوں اور پولیس افسر بارے کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کی سنٹرل ایگزیکٹو پارٹی کا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا، ذرائع کے مطابق اجلاس شروع ہوتے ہی مظفرآباد سے پارٹی رہنماء بشیر پہلوان نے قیادت کی پالیسیوں سے نالاں ہو کر پارٹی صدر کو اپنا استعفیٰ پیش کیا،

مظفرآباد شہر سے پارٹی ٹکٹ ہولڈر سردار مبارک حیدر نے احتجاج کرتے ہوئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل و وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل ہمارے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں، مختار عباسی کو یہ اسکیمیں لیکر دے رہے ہیں جبکہ پارٹی ٹکٹ ہولڈرزسے مشاورت تک نہیں کی جاتی،

مختار عباسی کے قریبی ساتھی رفاقت عباسی نے مبارک حیدر کے خلاف نا مناسب جملے ادا کیے جس پر پارٹی صدر نے رفاقت عباسی کو اجلاس سے باہر نکلوا دیا ، سابق وزیر حکومت و سینئر رہنماء چوہدری پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے تمام وزراء کو حکومت سے علیحدہ ہونے کا مشورہ دیا،

انہوں نے کہا کہ پارٹی کا برا حال کر دیا ہے، عوام اور کارکنان میں مایوسی ہے، یہ حکومت شخصی آمریت پر چل رہی ہے، معلوم نہیں ہماری جماعت اب تک کیوں حکومت کا حصہ ہے۔ سی ای سی ممبران نے کہا کہ سیکرٹری جنرل فیصل راٹھور نے اپنے من پسند افراد کو سی ای سی اجلاس میں بلانے کی کوشش کی تاکہ ان پر تنقید نہ ہو لیکن انہیں یہ یاد رکھناچاہیے کہ پارٹی کا عہدہ ہے ،

ووٹر ہے تو یہ وزیر بنے ہوئے ہیں، کارکنان نے کہا کہ چوہدری انوار الحق نے پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے، مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں سے ٹکٹ ہولڈرز کو سٹیج پر نہیں بلایا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا، احتجاج کے بعد ایک مہاجر حلقے کے رکن کو گفتگو کرنے کی اجازت دی گئی،

سی ای سی اجلاس میں جن ممبران کو گفتگو کیلئے نہیں بلایا گیا ان کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جس پر سردار یعقوب خان اور فیصل راٹھور نے ممبران سے معذرت کی، ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل ممتاز راٹھور اور قاسم مجید نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن دوسری طرف تمام ممبران کا رد عمل آتا جس پر خاموش ہو جاتے،

فیصل ممتاز راٹھور نے سی ای سی ممبران کو کہا کہ پارٹی چیئرمین نے جس دن حکومت سے علیحدہ ہونے کی ہدایت کی تو ہم دیر نہیں لگائیں گے۔ ممبران نے فیصل ممتاز راٹھور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس پارٹی کے کیلئے وقت نہیں، کسی ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا ٹکٹ ہولڈرز کیلئے ان کے پاس وقت نہیں۔

دو گھنٹے پر مشتمل سی ای سی اجلاس چار گھنٹے سے زائد دیر تک چلتا رہا۔ اجلاس میں پارٹی قیادت کے خلاف نعرے بھی لگاے گئے اور ممبران نے کرسیوں پر کھڑے ہو کر احتجاج بھی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں