20

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور کامیاب لانگ مارچ نے آزادکشمیر حکومت کی چولیں ہلادیں

مظفرآباد(سٹٰیٹ ویوز)جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور کامیاب لانگ مارچ نے آزادکشمیر حکومت کی چولیں ہلادیں،کابینہ سمیت کئی سرکاری اداروں کی ڈاؤن سازنگ سمیت غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کی ہدایات جاری۔آزادکشمیرمیں امن وامان کے قیام میں ناکامی کے ذمہ داران کا تعین بھی کردیاگیا۔مقتدرہ نے آزادکشمیر کی موجودہ حکومت کو حالات کی خرابی کاذمہ دار قرار دیتے ہوئے اصلاح احوال کے لیے جامع اور موثر اقدامات تجویز کردیئے۔باخبر اور ذمہ دار ذرائع کے مطابق آزادکشمیرمیں سستے آٹے اور سستی بجلی سمیت اشرافیہ کی مراعات میں کمی کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر مشتمل مطالبات کے حق میں بھمبر سے مظفرآباد تک کامیا ب لانگ مارچ اور اس لانگ مارچ میں ہزاروں افراد کی شرکت نے آزادکشمیر کے سیاسی نظام سمیت خطہ میں قائم حکومت،سیاسی جماعتوں اور بالادست طبقات کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔

گزشتہ ایک سال سے جاری آزادکشمیر میں احتجاجی دھرنوں کے بعد لانگ مارچ اور 8 8 مئی سے 13 مئی کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مقتدرہ کو موصول ہوگئی ہے۔مشترکہ طورپر رپورٹ تیار کرنے والے تحقیقاتی اداروں نے آزادکشمیر میں عوامی سطح پر موجود ناراضگی،غصے اور نفرت کے جذبات کا تعین کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ 2021ء کے عام انتخابات میں آزادکشمیر میں مداخلت کے ذریعے غیر مقبول حکومت مسلط کی گئی اور اس غیر مقبول حکومت کی ذمہ داری ناتجربہ کار افراد کے ہاتھوں میں سونپی گئی جنہوں نے خطہ کے اندر استحکام کے بجائے افراتفری کو فروغ دیا۔برسر اقتدار جماعت تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے نتیجے میں دو سال کے مختصر عرصہ میں تین وزیراعظم تبدیل ہوئے،تیسرا وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے بنا جسے ایوان کے اندر تمام جماعتوں نے منتخب کیا۔

اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے منتخب ہونے والے وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر من مانی کی،مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کو غیر متعلق اور غیر موثر کیااور گڈگورننس کے نام پر ایسے اقدامات کیے جو عوام میں افراتفری،بے چینی اور ناراضگی کا باعث بنے۔مخلوط حکومت کے وزیراعظم نے سستے آٹے اور سستی بجلی کے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹیوں کو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا اور انہیں در پردہ اخلاقی اور سیاسی حمایت فراہم کی جس کے نتیجے میں مختصر وقت عوامی ایکشن کمیٹی آزادکشمیر بھر میں پھیل گئی اور اسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا نام دیا گیا جس نے بجلی کے بلات نہ جمع کروانے کا عمل شروع کیا جو سول نافرمانی کے مترادف ہے۔حکومت نے اس سول نافرمانی کی تحریک کو کچلنے یا ختم کرنے کے بجائے نہ تو بجلی کے بلات جمع نہ کروانے والے صارفین کے خلاف کنکشن منقطع کرنے کی کارروائی کی اور نہ ہی ایکشن کمیٹی کو بلات بجلی جمع نہ کروانے کی مہم ختم کرنے کے لیے کارروائی کی جس کے نتیجے میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کو عوام میں پذیرائی ملی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے مرحلہ وار پہیہ جام شٹر ڈاؤن ہڑتالیں ہوئی،5 فروری کاقومی دن متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی.

حکومت نے 16 وزراء کی مذاکراتی کمیٹی قائم کر کے اپنی غیر سنجیدگی واضح کی۔عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مئی کے پہیہ جام اور شٹرڈاؤن کے ساتھ اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان کیا تو 2 ماہ تک حکومت نے اسے سنجیدہ نہ لیا،کمیٹی کی ڈیڈلائن 30 اپریل گزرنے کے بعد بات چیت کی کوشش کی گئی،اس دوران آزادکشمیرحکومت کی وزارت داخلہ نے امن وامان کے قیام کے لیے ایف سی اور پی سی کی مدد طلب کی جس کے لیے ہونے والی خط وکتابت سوشل میڈیا پروائرل ہوئی،عوامی سطح پر ایف سی اور پی سی کے خلاف شدید رد عمل پید اہوا تو ایف سی وپی سی کو چائنیز کی سکیورٹی کے لیے مختص کیا گیا مگر اسی دوران رینجرز بلالیے گئے،جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے پروگرام کو 8 مئی تک عوامی سطح پر پذیرائی نہ مل سکی تھی کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے سرگرم اراکین کی گرفتاریاں شروع کردیں جس کے خلاف احتجاج ہوا تو ڈڈیال میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر نے بدتمیزی کی جہاں تصادم ہوا،آنسو گیس استعمال کی گئی جس کے کچھ شیل سکول کے اندر امتحان دینے میں مصروف بچیوں کے پاس گرے جو بے ہوش ہوئیِں،انہیں اسپتال پہنچایا گیا۔بچیوں کے والدین میں ردعمل پیدا ہوا اور ہزاروں کی تعدادمیں لوگ دو بچیوں کی ہلاکت کی افواہ پر ڈڈیال شہر میں جمع ہوگئے،پولیس بھاگ گئی،اسسٹنٹ کمشنر کو یرغمال بنایا گیا اور اس کی شلوار ڈڈیال کے چوک میں لہرادی گئی۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 10 مئی کو آزادکشمیر بھرمیں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کروادیااور 11 مئی کو لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو اسلام گڑھ کے مقام پر ایک پولیس افسر نامعلوم گولی کا نشانہ بن گیا۔ڈڈیال،اسلام گڑھ اور کوٹلی میں ہزاروں افراد لانگ مارچ کا حصہ بن گئے،کوٹلی میں پولیس کو مار پڑی،لانگ مارچ پوری قوت کے ساتھ پونچھ میں داخل ہوا جہاں 12 مئی کو راولاکوٹ میں ہزاروں افراد جمع تھے۔12 مئی کی صبح تک کسی کو بھی لانگ مارچ کی اس قدر کامیابی اور شرکاء کی غیر متوقع تعداد کا یقین نہیں تھا،حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری اور مقتدرہ کے نمائندگان نے راولاکوٹ میں مذاکرات کیے جو ناکام رہے،12 مئی کو ہی وفاقی حکومت نے صورتحال کا نوٹس لیا اوروزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے آزادکشمیر حکومت،وفاقی کابینہ اور تمام سٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس طلب کیا،متفقہ طورپر آزادکشمیر میں سستے آٹے اور بجلی کے لیے 23ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا،آزادکشمیرحکومت کی غیر ذمہ داری اور تاخیری ہتھکنڈوں کی وجہ سے لانگ مارچ کے شرکاء مظفرآباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں رینجرز کے مظفرآباد داخل ہونے کے دوران مقامی مظاہرین کی جانب سے راستہ روکنے پر ہوائی فائرنگ کی زد میں آکر 3 جانیں ضائع ہوئیں اور رینجرزسمیت درجنوں سویلین زخمی ہوئے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات منظوری کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود لانگ مارچ ختم نہیں کیا،مظفرآباد میں ہزاروں افراد کے اجتماع میں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بدلے کے حلف لیے گئے۔8 سے 13 مئی تک آزادکشمیر میں حکومت،انتظامیہ اور قانون نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق آزادکشمیر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد لانگ مارچ پہلی بار مظفرآباد تک پہنچنے میں کامیاب ہوا،اس کے شرکاء کی تعداد نے واضح کیا کہ آزادکشمیر حکومت کی عوام کے اندر جڑیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔مخلوط حکومت ہونے کے باوجود حکومت میں شامل کوئی بھی جماعت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی راہ میں رکاوٹ حائل نہ کرسکی،بنیادی حقوق کے نام پر شروع کیا گیا مارچ سیاسی نعروں سے نفرت انگیز صورت اختیار کرگیا اور یہ تاثر سامنے آیا کہ آزادکشمیر کا نوجوان نہ صرف مقامی حکومت بلکہ حکومت پاکستان خصوصاً اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔لانگ مارچ کے شرکاء کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی،جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے نوجوانوں کے مشتعل جذبات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی اس بغاوت نے ہندوستانی میڈیا کو پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا موقع ملا،اگر وفاقی حکومت بروقت مداخلت نہ کرتی تو آزادکشمیر میں عملاً بغاوت ہوچکی تھی،جس کے بین الاقوامی سطح پر بھی منفی اثرات سامنے آئے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے جس کی وجہ سے حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔تحقیقاتی اداروں نے حالات اور واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے رونما ہونے والے تمام منظر کو درست سمت میں منتقل کرنے کے لیے فوری طورپر آزادکشمیر کے اندر ہنگامی اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں لینٹ افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

لینٹ افسران کی تبدیلی سمیت مخلوط حکومت کے خاتمہ اور عوامی حمایت کی حامل ایک مقبول سیاسی جماعت پر مشتمل مضبوط حکومت کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔آزادکشمیر میں الحاق پاکستان کے نظریہ اور تحریک کو کمزور کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔آزادکشمیر کی موجودہ مخلوط حکومت کو فوری طورپر کابینہ کی ڈاؤن سازنگ،غیر ضروری سرکاری اداروں کے خاتمہ،غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں آزادکشمیر میں ریاست پاکستان،نظریہ پاکستان اور الحاق پاکستان کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے وزیراعظم اور مقتدرہ کے کچھ ذمہ داران پر عائد کی گئی ہے جو قومی مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دینے میں ناکام رہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس تحقیقاتی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد شروع ہوگا جس کے تحت حکومت کی تبدیلی سمیت بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں