پاکستان، فلسطین اور اصولی سیاست: نامساعد عالمی حالات میں ثابت قدم قیادت

112

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
عالمی سیاست اس وقت جس بے رحم حقیقت پسندی کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں اصول، اخلاق اور انصاف کمزور فریق کے لیے بوجھ اور طاقتور کے لیے محض ایک نعرہ بن چکے ہیں۔ فلسطین بالخصوص غزہ اس عالمی بے حسی کا سب سے دردناک استعارہ ہے، جہاں انسانیت روزانہ ملبے تلے دب رہی ہے اور عالمی ضمیر محض رسمی بیانات تک محدود نظر آتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ریاست کھل کر یہ اعلان کرے کہ وہ مظلوم کے حق سے دستبردار نہیں ہوگی، تو یہ فیصلہ محض سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی جرات کا مظہر ہوتا ہے۔ پاکستان کا حالیہ دوٹوک اور واضح مؤقف اسی جرات کا تسلسل ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو کر میز پلٹنے کی پوزیشن میں نہیں۔ نہ وہ عالمی طاقتوں جیسی عسکری و معاشی برتری رکھتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی اداروں کی سمت کو یکطرفہ طور پر بدل سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اگر پاکستان مسلسل اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتا ہے، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو غیر مشروط حمایت دیتا ہے اور واضح الفاظ میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ دراصل ریاستی بصیرت، قومی خودداری اور قیادت کے اعتماد کا اظہار ہے۔

حال ہی میں اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ نشست میں سامنے آنے والے نکات نے ریاستی پالیسی کی سمت کو پوری طرح واضح کر دیا۔ یہ بات غیر مبہم انداز میں کہہ دی گئی کہ پاکستان کا ہر فیصلہ قومی مفاد کے گرد گھومتا ہے، نہ وقتی دباؤ کے تحت اور نہ بیرونی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔ فلسطین کے معاملے میں پاکستان کا مؤقف کوئی نیا نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر آج تک، ہر دور کی قیادت نے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو سمجھا ہے۔غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے پیدا کی جانے والی قیاس آرائیاں دراصل اسی اصولی مؤقف کو مشکوک بنانے کی ایک منظم کوشش تھیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید پاکستان کسی ایسے انتظام کا حصہ بننے جا رہا ہے جس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا یا حماس کو غیر مسلح کر کے غزہ پر ایک نیا سکیورٹی بندوبست مسلط کرنا ہے۔ مگر ریاست نے بروقت اور دوٹوک انداز میں ان تمام شبہات کا خاتمہ کر دیا۔ پاک افواج کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ کسی صورت حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل کا حصہ نہیں ہوں گی، محض ایک پالیسی بیان نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی سرحد کا تعین ہے۔

یہاں یہ امر بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کسی عجلت، دباؤ یا خفیہ ایجنڈے کے تحت نہیں کیا گیا۔ آٹھ اسلامی ممالک سے تفصیلی مشاورت، ممکنہ عالمی و علاقائی ردعمل کا جائزہ اور قومی مفاد کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ قدم اٹھایا گیا۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان آج بھی اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختار ہے اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مؤقف کو نظرانداز نہیں کرتا۔ ایسے وقت میں جب اسلامی دنیا خود شدید انتشار اور داخلی کمزوریوں کا شکار ہے، پاکستان کا یہ کردار مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی اس پورے معاملے میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے ناقدین یا تو سمجھنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست کے تینوں ستون ایک واضح قومی بیانیے پر متفق ہوں تو بیرونی دباؤ اپنی اثر پذیری کھو دیتا ہے۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم رہے بلکہ اسے مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش بھی کرے۔

اسی تناظر میں اگر موجودہ قیادت کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی بصیرت، عسکری استقامت اور سفارتی مہارت کا ایک نادر امتزاج میسر ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی دہائیوں پر محیط سیاسی بصیرت پس منظر میں ایک فکری رہنما اصول کے طور پر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ قومی خودداری، اصولی خارجہ پالیسی اور مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات پر غیر متزلزل یقین ان کی سیاست کا مستقل عنوان رہا ہے، اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی ثابت قدمی اسی فکری تسلسل کی عکاس ہے۔وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان نے اس مؤقف کو عملی سطح پر وقار، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا۔ شہباز شریف کا طرزِ حکمرانی جذباتیت کے بجائے تدبر، انتظامی گرفت اور سفارتی نزاکت پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف پاکستان عالمی طاقتوں سے روابط بھی رکھتا ہے اور دوسری جانب فلسطین جیسے حساس مسئلے پر کسی ابہام یا پسپائی کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں، مگر موجودہ حکومت نے اسے ممکن بنا کر دکھایا ہے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت اس پورے منظرنامے میں نہایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عسکری طاقت کا مقصد بیرونی خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ آئین، قومی سلامتی اور اصولی ریاستی پالیسی کا دفاع ہے۔ جمہوری اقدار پر یقین، آئینی بالادستی کی حمایت اور قوم و فوج کے رشتے پر غیر متزلزل اعتمادیہ وہ اوصاف ہیں جو ان کی قیادت کو ممتاز بناتے ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی اقدام سے انکار دراصل اسی نظریاتی وضاحت کا عملی اظہار ہے۔سفارتی محاذ پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کاوشیں بھی لائقِ تحسین ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب عالمی سفارتکاری مفادات کی بے رحم منڈی بن چکی ہے، پاکستان کے اصولی مؤقف کو مؤدبانہ مگر جرات مندانہ انداز میں دنیا کے سامنے رکھنا آسان نہیں۔ وزارتِ خارجہ نے نہ صرف پاکستان کی آواز کو مؤثر بنایا بلکہ اسلامی دنیا کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کو بھی ترجیح دی۔ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ اسی اجتماعی دانش اور سفارتی بالغ نظری کا نتیجہ ہے۔

یہ تمام پیش رفت کسی ایک فرد یا ادارے کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک مربوط قومی ٹیم کی کاوش ہے۔ ایسی ٹیم جو جانتی ہے کہ پاکستان شاید عالمی نظام کو اکیلے بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، مگر وہ اپنے ضمیر، اپنے اصول اور اپنے تاریخی مؤقف پر سمجھوتہ بھی نہیں کرے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کو کریڈٹ دینا محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ فکری دیانت کا تقاضا بن جاتا ہے۔ناقدین اگر اس واضح سمت کے باوجود بھی شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں تو یہ ان کا حق ضرور ہے، مگر تاریخ میں ان کی حیثیت ہمیشہ حاشیے تک محدود رہتی ہے۔ تاج محل میں خامیاں تلاش کرنا آسان ہے، مگر ایسی تنقید اکثر نیت اور طینت کی عکاس ہوتی ہے، بصیرت کی نہیں۔ اس کے برعکس عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کی مستقل مزاجی، اصولی زبان اور غیر مبہم موقف نے اسے ایک اخلاقی آواز بنا دیا ہےایسی آواز جو شاید طاقتور نہ ہو، مگر سچی ضرور ہے۔

آج کے نامساعد عالمی حالات میں اصولی سیاست کرنا آسان نہیں۔ اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہےسفارتی دباؤ، معاشی خدشات اور عالمی تنہائی کے اندیشے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ وہی ریاستیں سرخرو ہوتی ہیں جو وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی اصولوں پر قائم رہتی ہیں۔ پاکستان کا فلسطین کے معاملے پر یہ طرزِ عمل اسی تاریخی روایت کا تسلسل ہے۔کاش ہم بحیثیت قوم یہ سمجھ سکیں کہ اصولوں پر قائم رہنا کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ کاش ہم یہ مان سکیں کہ فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا ہونا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ہماری نظریاتی شناخت کا حصہ ہے۔ اور کاش ہم اپنی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت کو وہ اعتماد دے سکیں جس کے ساتھ وہ عالمی دباؤ کے باوجود سر اٹھا کر کہہ رہی ہےپاکستان نہ سودے بازی کرے گا، نہ خاموشی اختیار کرے گا—بلکہ حق کے ساتھ کھڑا رہے گا، چاہے حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں