ڈاکٹر فریحہ افراہیم، بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ

142

تحریر: یاسر عارف
معلوم نہیں باغ کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ یہاں سے سالانہ بنیادوں پر جینئس رخصت ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس 18 مارچ کو، اسی رمضان میں، میجر سعد بن زبیر جامِ شہادت نوش کر کے جنت کی طرف عازمِ سفر ہوئے،ایک خوبصورت اور قابل آفیسر، مستقبل کے کنفرم فور اسٹار جنرل اور رواں سال 17 فروری کو، رمضان کے آغاز پر، ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی پُراسرار موت کا سانحہ پیش آیا۔ ایک مسیحا نے نہ جانے ہزاروں بیماروں کے درد کا مداوا کرنا تھا، انہیں مرہم پٹی کرنی تھی، لیکن وہ خود ہی مرہم پٹی میں لپٹ کر خاموش گھر لوٹ آئیں اور منوں مٹی تلے ابدی نیند سو گئیں۔ یہ دوسرا برس اہلِ باغ پر بالخصوص غم و الم کا قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔المناک اموات کے اس کرب نے ہر خاص و عام کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر فریحہ افراہیم کا کوچ مگر تازہ ہے۔ ایک پراسراریت نے اس موت کو سانحہ بنا کر رکھ دیا ہے، ہمارے نظام کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے، ذمہ داران کی غیر ذمہ دارانہ روش کو حدِ نگاہ تک دھندلا دکھا دیا ہے، اور ایک بار پھر اس کالے قول کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ:ملک کے اندر رائج ہر سطح کے اس نظام کو تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے۔”

ڈاکٹر فریحہ کی موت کو جس بھونڈے انداز میں کور کرنے کی کوشش کی گئی، وہ آخری درجے کی بے حسی کا بین ثبوت ہے۔ اس قدر تنازعات، عدم مطابقت، یونیورسٹی انتظامیہ کے کنفیوژڈ بیانات کہ چشمِ فلک بھی شرم سے جھک جائے۔سر مقصود احمد کا بیان کہ:”یونیورسٹی کا وفد ہمیں فریحہ کی اچانک موت کے محرکات کے بارے میں قائل کرنے میں ناکام رہا۔ مرحومہ کا بعد از ادائیگیِ نماز انجانے میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے کمر کے بل نیچے گر جانا، یا حاضری کی غرض سے بالائی منزل سے نیچے جھانک کر کولیگ کو آواز دینے کی کوشش کے دوران سیدھے منہ نیچے گر جانا،دونوں منطقیں محض مفروضے لگتی ہیں۔ اگر فرض کر لیں کہ ان دونوں منطقوں کو ایک لمحے کے لیے مان بھی لیا جائے تو پروٹیکشن گرل کا موجود نہ ہونا کس کی غفلت تھی؟
مسیحاؤں کی قیام گاہوں کو اس حد تک غیر محفوظ رکھنے کی ایف آئی آر کس کے خلاف بنتی ہے؟
اب تک یہ کٹی کیوں نہیں؟”
رہی بات میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی تو یہاں حد ہی پار ہو گئی۔
موت کی کنفرمیشن سے قبل خودکشی کی خبر کا بریک ہونا کیا محض اتفاق ہے؟
اسپتال سے ڈیتھ ڈیکلیئر ہوئے بغیر قومی میڈیا اتنی بڑی خبر کیسے بریک کر سکتا ہے؟
لگتا یہی ہے کہ خبر مینیج کی گئی تھی۔

74 ہزار کے مقابل شرکاء میں آٹھویں پوزیشن،یہ ذہین اور انتہائی محنتی اسٹوڈنٹ ہی حاصل کر سکتی ہے جس نے اپنا ہر لمحہ مکمل کیلکولیشن کے ساتھ گزارا ہو، جس کے والدین اور اساتذہ برسوں تک سائے کی مانند قلب و روح کے ساتھ پیش پیش رہے ہوں۔ جب معاملہ باغ کے دور افتادہ مقام سے تعلق کا ہو تو اس ریاضت اور مسلسل چلہ کشی کا اندازہ یہی تین لوگ کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے روپ بہروپ شاید ہی کبھی اسے محسوس کر سکیں۔
مرے وجود کی مٹی کو رزق کر ڈالو
مگر مری بیٹی کو صاحبِ کتاب کرو
ڈاکٹر فریحہ کا سانحہ غفلت سے چار ہاتھ آگے، صریحاً ظلم کی چغلی کھاتا ہے۔ ایک لمحہ توقف کے بعد ذہن کے دریچے میں بار بار یہ خیال انگڑائی لیتا ہے۔ کلامِ اللہ کی یہ آیت دل کے نہاں خانے پر دستک دیتی ہے:
“بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ”
ترجمہ: اسے کس قصور میں مارا گیا؟
یونیورسٹی انتظامیہ اور اکیڈیمیا، جو طلبہ کے روحانی والدین ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، ان پر تمثیلاً یہ آیت صادق آتی ہے کہ انہوں نے کس جرم میں ایک معصوم لڑکی کو مار ڈالا؟
اتنی مقبول جامعہ، جس میں ملک کے قیمتی ترین دماغ زیرِ تعلیم ہیں، آج ہفتہ عشرہ گزرنے کے باوجود سی سی ٹی وی فوٹیج نہ مل سکی۔ جن کی اولاد چل بسی، وہ لوٹ تو نہیں سکتی، البتہ ان کے پسماندگان کو کیا یہ ادھورا سچ اندر ہی اندر نہ کاٹ کھائے گا کہ آخر ان کی لختِ جگر کے منوں مٹی تلے دب جانے کی وجہ کیا بنی؟

ایک ماں کی ممتا کی تشفی کیسے ہو گی؟
ایک باپ کی روح کو چین کیسے نصیب ہو گا؟
کیا وہ یہ سچ کبھی جیتے جی جان سکیں گے یا پھر اسی روایتی ڈگر پر “اللہ کے حوالے” کے جملوں پر قانع ہو کر رہ جائیں گے؟

بیٹی کے جنازے پر جو خاموش کھڑا ہے
اس حاکمِ بے حس کو اب مر جانا چاہیے

لیڈی ڈاکٹر کی جان لینے کے پس پردہ اگر کچھ اور محرکات کارفرما ہیں، جن کی طرف محترم پروفیسر ریاض اصغر نے اپنی تحریر کے آخری حصے میں لکھا ہے اور محترم مقصود احمد نے اپنی گفتگو کے آخری چند سیکنڈ میں اشارہ کیا ہے، تو پھر یہ خوف کی حد تک خطرناک ہے، جو بے رحم احتساب کا متقاضی ہے۔

“اگر قاتل کو شہ دے یہ نظامِ مصلحت کوش
تو ایسی عدالت کو مسمار ہونا چاہیے”

سانحہ ڈاکٹر فریحہ پر سڑکوں پر نکل آنے والے حضرات و خواتین، یوتھ اور طلبہ نے “انسانیت زندہ باد” کے نعرے بلند کیے ہیں۔ زعماء کی طرف سے اس پر آواز کا بلند ہونا بھی خوش آئند ہے۔ حریت لیڈر محمد یسین ملک کی اہلیہ نے سب سے پہلے ڈاکٹر فریحہ کی موت پر اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا اور خواتین کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے خلاف آواز میں زبردست جان ڈالی، پھر یہ سلسلہ دیگر سیاسی قیادت تک وسیع ہوا۔حکومتِ آزاد کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈی سی اور ایس پی باغ محمد ریاض مغل کی متاثرہ فیملی کے ہاں آمد، ایس پی باغ کا مرحومہ کے والد کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا اظہار اور انہیں اپنی گاڑی میں ساتھ بٹھا کر قبر تک لے جانا، پھول چڑھانے کے مناظرقبل ازیں نوجوان اے سی کا وزٹ، جو جہانگیر خان کے کیمرے کی آنکھ نے قید کر کے سوشل میڈیا پر سب کو دکھایا حکومت اور ریاستِ آزاد کشمیر کی سنجیدگی واضح کرتے ہیں۔

لیکن اصل معاملہ جائے وقوعہ کا ہے، جہاں کی حکومت کے لیے اس سانحہ کا منصفانہ ٹرائل ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ “کمیٹی کمیٹی کھیل” پاکستان کا قومی فراڈ ہے، جس کا مفہوم سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے ہمیں بہت پہلے ٹھیٹ پنجابی میں بتا دیا تھا کہ کمیٹی کا مطلب “کام تے مٹی پاؤ” ہوتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کو اس واقعے کا ازخود نوٹس لینا ہوگا۔ بی بی کا یہ دعویٰ کہ ان کی رگوں میں کشمیری النسل والد کا خون دوڑتا ہے، تو یہ اس کا بھی امتحان ہے کہ وہ اپنی کشمیری بیٹی کے لیے کیا کریں گی۔
جواں اولاد کی جدائی پر رسمِ دنیا میں پسماندگان کو لفظی حوصلہ ہی دیا جا سکتا ہے، تاہم مسلمان ہونے کے ناطے ایک بہادر عرب خاتون کا جوان اولاد کھو جانے سے منسوب واقعہ کچھ یوں ہے: جب اس کے پاس تعزیت کے لیے لوگوں کا تانتا بندھا تو ہر ایک کو جواب میں وہ الحمدللہ کی گردان کرتی سنائی دی۔ اس کا یہ بلند حوصلہ دیکھ کر ایک خاتون نے اس اطمینان کی وجہ معلوم کرنا چاہی تو جواب میں اس خاتون نے اسے سمجھانے کے لیے عملی مثال دی۔ اپنے ہاتھ سے کنگن اتارا اور سوال کرنے والی خاتون کو تھما دیا اور پہننے کا کہا۔ کچھ ہی لمحوں بعد اس خاتون سے وہ کنگن واپس لے لیا اور سمجھایا کہ یہ کنگن میری ملکیت ہے اور میں نے امانتاً کچھ وقت کے لیے تمہیں دیا تھا اور اب واپس لے لیا۔ پس یہی معاملہ میری جوان سال اولاد کی جدائی کا ہے،وہ میرے اللہ کی ملکیت تھا، جو امانتاً مجھے دیا گیا تھا اور اب اس رب نے مجھ سے واپس لے لیا، تو اس پر الحمدللہ کہنا بنتا ہے۔ تو اس پر خالق سے شکوہ کیسا؟ آہ و زاری کیسی؟”ان شاء اللہ سألتقی بها فی الجنۃ”اللہ نے چاہا تو اب میری اس سے جنت میں ضرور ملاقات ہو گی۔

اناللہ وانا الیہ راجعون
حکمِ خدا کے سامنے سر کو جھکا دیا
جو امانت تھی خدا کی، اسے لوٹا دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں