مظفرآباد:سرکاری افسر کی گاڑی سے تصادم، نوجوان جاں بحق، معاملہ 15 لاکھ میں دبادیا گیا

124

​مظفرآباد (خصوصی رپورٹ) آزاد کشمیر کے دارالحکومت میں قانون کی بالادستی اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ 25 اپریل کو پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے منگ راولاکوٹ کے رہائشی نوجوانوں کے ساتھ پیش آنے والے لرزہ خیز حادثے کو مبینہ طور پر سرکاری اثر و رسوخ کے ذریعے دبا دیا گیا۔ حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق اور دوسرا شدید زخمی ہوا، تاہم کوئی ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے معاملے کو چند لاکھ روپے کے عوض خفیہ معاہدے کی نذر کر دیا گیا۔

​واقعات کی تفصیل:
ذرائع کے مطابق 25 اپریل کو دولائی کے مقام پر احتساب بیورو میں تعینات ایک بااثر سرکاری افسر راجہ امجد مہناس کی تیز رفتار مہران گاڑی اور موٹر سائیکل میں خوفناک تصادم ہوا۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار 38 سالہ واجد حسین موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا ساتھی 35 سالہ شاہ میر شدید زخمی ہوا۔

​بیوروکریسی کا اثر و رسوخ اور جرگہ:
عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد سرکاری افسر امجد مہناس نے اپنے دیگر ساتھی افسران کو موقع پر بلا لیا اور اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے قانونی کارروائی رکوائی۔ دوسری جانب راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سردار نیئر ایوب اور ان کے ساتھیوں کی مداخلت پر ایک ہنگامی جرگہ منعقد کیا گیا۔

​50 روپے کے اشٹام پر ‘خون کا سودا’:
حیرت انگیز طور پر ایک انسانی جان کی قیمت محض 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ 50 روپے کے اشٹام پیپر پر ایک تحریری معاہدہ کیا گیا جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ “یہ محض ایک حادثہ تھا اور کسی کی غلطی نہ تھی”، لہٰذا کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی جائے گی۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی کی غلطی نہیں تھی تو حادثہ کیسے ہوا اور ایک نوجوان کی جان کیسے چلی گئی؟

​پولیس اور سیاسی قیادت پر سوالات:
منگ اور راولاکوٹ کے عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ اتنا بڑا حادثہ ہوا اور

پولیس تاحال بے خبر کیوں ہے؟
​عوام نے صدر پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی سے بھی سوال کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے جلسے میں آنے والے کارکن کی زندگی کی قیمت کیا محض 15 لاکھ ہے؟ صدمے سے نڈھال لواحقین کو دبا کر معاہدے پر مجبور کرنے والے سرکاری افسران اور قانون کی خاموشی نے ریاست کے نظامِ عدل پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں