نقطہ نظر/فیض اللہ فراق

ہندوستانی میڈیا اور گلگت بلتستان

میڈیا کا ملک کی پالیسی اور عوامی رائے عامہ تشکیل دینے میں کلیدی کردار ہوتا ہے اس لیئے اسے ریاست کا چوتھا ستون کہا گیا ہے ،ریاستی ڈھانچے میں پارلیمنٹ ،عدلیہ ،فوج اور مقننہ کے علاوہ میڈیا بھی وہ شعبہ ہے جو بہت بڑی طاقت اور اہمیت رکھتا ہے ۔موجودہ دور کی برق رفتاراور جدیدیت سے لبریز سماجی امور میں میڈیا سب سے مضبوط ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔میڈیا کیلئے انگنت اصول اور ضابطے بھی طے ہیں مگر برصغیر خصوصاپاکستان میں اس شعبے کی بنیادی روح کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا ہے ۔یہ تو ایک فطری اصول ہے کہ میڈیا کی اولین ذمہ داری اور دلچسپی اپنے ملک کی سالمیت و بقاہے اس کے بعد معاشرتی اقدارکی روشنی میں سماج کے سلگتے مسائل اورناانصافی کو اُجاگرکرتے ہوئے مظلوم کی داد رسی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سب اس کے برعکس چل رہا ہے باریک بینی سے اگر میڈیا سے وابستہ امور کو دیکھا جائے تو پروفیشنلزم کی کمی نظر آرہی ہے مالکان کی دلچسپی بعض دفعہ ملکی سا لمیت سے خار کھاتی ہوئی نظر آتی ہے اکثر ٹی وی چینلوں پر مایوسیاں ،لوٹ مار،قتل و غارت گری اور شور و غل ہی دیکھایا جاتا ہے جس سے پورا قومی بیانیہ محرومیوں کے خطوط پر استوارہوکر اُمید کا گلہ گھونٹتا ہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں ہمارا اجتماعی بیانیہ خوف کے سایے میں پرورش پاتا ہوا وہ نفسیاتی رویہ ہے جس کے باطن سے توانا ،چست اور آزاد خیال نسل کی بجائے خوف زدہ اور ناکارہ افراد کی آبادی میں اضافہ کررہے ہیں ۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ میڈیا کی اس منفی کردار کو ختم کرنے پر حکمت عملی ترتیب دینے کیلئے ہمارے ادارے کاؤنٹراسٹریٹیجی کے طور پر ایسے میڈیا ہاؤسزکی پُشت پناہی کررہے ہیں جو سابقہ میڈیا ہاؤسز سے زیادہ گری ہوئی اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے قومی وقارکو اور بھی مجروح کررہے ہیں ۔مذکورہ میڈیا ہاؤسز میں ایسے کرداروں کو بھرتی کیا جاچکا ہے جو محض مسخروں کی طرح اپنارزق حلال کررہے ہیں حالانکہ ایسانہیں ہونا چاہے بلکہ ملکی تمام میڈیا ہاؤسزکو اپنے ملک کے مفاداور سا لمیت کا خود احساس ہونا چاہے جبکہ پیمرا کے اصولوں کی تمام ہاؤسز پر مکمل عملدرآمد ہونی چاہے تاکہ ملکی میڈیا میں کھینچی جانے والی پسند نا پسند کی خود ساختہ لکیر مٹ سکے ۔

پاکستانی میڈیا ہندوستان کے اندر ہونے والی شورش وہاں 50 سے زیادہ علیحدگی پسند تحریکوں کی جدو جہد اور ہندو مسلم کش فسادات کے حقائق کو سامنے لانے کی بجائے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو ہفتے تک سکرین کا حصہ بناکر قوم کے بچہ بچہ کو نفسیاتی مریض بنانے کا محرک ہے جبکہ دوسری جانب ہندوستانی میڈیا پاکستان کے ایسے واقعات اور احتجاجی مظاہروں کو الیکٹرونک میڈیا میں پیش کررہی ہے جن کا حقائق کچھ اور دکھایا کچھ اور جاتا ہے۔

آج کل ہندوستانی میڈیا کا ہدف گلگت بلتستان اور بلوچستان ہے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں اپنے جائز حقوق کیلئے ہونے والے مظاہروں اور احتجاج کو ہندوستانی میڈیا غلط رنگ دے کر پیش کررہی ہے ،گزشتہ مہینوں سکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی جلسے کو انڈین ٹی وی چینلوں میں بغاوت سے منسلک کرکے پیش کیا گیا ،اس کے علاوہ گزشتہ سال گلگت کے علاقہ دینورمیں یوم حسین کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کو ہندوستانی میڈیا نے سی پیک مخالف دھرنا بناکر پیش کیا اس کے علاوہ ضلع دیامر کے ڈیم متاثرین کے احتجاجی جلسوں کو بھی پاکستان متنفر جلسے کہہ کر پیش کیا جاتا رہا حالانکہ یہ سب حقائق کے برخلاف ہیں ،گلگت بلتستان کی عوام اپنے جائز حقوق کیلئے موجودہ حکومتوں کو جھنجھوڑنے کیلئے احتجاج کرتی رہتی ہے جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں جو ہندوستانی میڈیا پیش کررہا ہے ۔

گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کو اپنا ماں سمجھتے ہیں اور ماں سے بچے گلے شکوے کرسکتے ہیں اس کے علاوہ پورے ملک میں پاکستانیت کی عمدہ مثال گلگت بلتستان ہے ،ملک کے دیگر صوبوں سے آنے والے ہر انسان کو گلگت بلتستان آمد پر بطور پاکستانی اور انسان خوش آمدید کیا جاتا ہے ،قومیت ،لسانیت اور فرقہ سے بالا ہوکر اُسے پاکستان کی نظر سے دیکھتے ہیں ،ملک کی سالمیت و بقا کی جنگ میں گلگت بلتستان کے نوجوان ہر محاذ پر بغیر وردی کے سپاہی کردار ادا کررہے ہیں ۔دراصل ہندوستانی میڈیا گلگت بلتستان کے ملک کیلئے دی جانے والی قربانیوں کی تذلیل کررہی ہے جو کہ صحافتی تقاضوں کے منافی ہے اور گلگت بلتستان کی ہزاروں گمنام روحوں کے ساتھ مذاق ہے دنیا کو یہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کی پہلی اور آخری منزل پاکستان ہے افسوس اس بات کا بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا کا کردار اس سلسلے میں نہ ہونے کے برابر ہے،ہونا تو یہ چاہے کہ ہندوستانی میڈیا کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پاکستانی میڈیا وہ کردار ادا کرے جو اس مٹی اور دھرتی کا ان پر قرض ہے ۔گلگت بلتستان اور بلوچستان میں عوام کے جائز مطالبات پر مبنی ایشوز اور احتجاج کو پاکستانی میڈیا کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز میں اصل حالت و حقائق کے ساتھ جگہ دینی چاہیے تاکہ ملک دشمن میڈیا ہاؤسز کو موقع ہی نہ ملے کہ وہ اصل ایشوز کو غلط رنگ دے کر پیش کرے ۔اکثر یہ ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان اور بلوچستان کی عوام کے جائز مطالبات اور مظاہروں کو قومی میڈیا تک رسائی نہیں ہوتی اور نہ ہی قومی میڈیا میں اُن کو جگہ ملتی ہے جس وجہ سے ہندوستانی میڈیا کو سازش کرنے اور اصل معاملات کو غلط رنگ دے کر پیش کرنے کا دروازہ کھل جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے میڈیاہاؤسز کی توجہ گلگت بلتستان و بلوچستان پر مبذول کرانے میں کردار ادا کریں ۔