کھیل اہم یا شخصیات؟

ایک مرتبہ مجھے انٹرویو دیتے ہوئے لیگ سپن کے بادشاہ عبدالقادر نے کہا تھا کرکٹ کو ٹھیک کرنا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو ختم کردیا جائے۔ آج یہ بات پاکستان سپورٹس بورڈ کے بارے میں کہی جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ 1962 میں قائم کیا گیا جس کا مقصد ملک میں کھیلوں کا فروغ تھا لیکن آج دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ کچھ افراد کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔
ابتدا میں کھیلوں کا یہ ادارہ وزارت تعلیم کے ماتحت قائم ہوا ۔ تاہم 1977 میں وزارت کھیل، ثقافت و سیاحت قائم ہوئی تو یہ وزارت کھیل کے ماتحت ہو گیا۔ پھر پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ کھیل ، ثقافت جیسی اہم وزارتیں وفاق میں نہیں ہونی چاہئیں اور صوبوں کو ملنی چاہئیں ۔ پہلے سے جو مذاق اس اہم وزارت کے ساتھ جاری تھا اس میں مزید تیزی آ گئی۔بلکہ کھیلوں کے ساتھ باقاعدہ کھلواڑ شروع ہو گیا۔
پاکستان شاید ان کم ممالک میں سے ہو گا جن میں کھیل، ثقافت ، اعلیٰ تعلیم جیسے شعبے صوبائی خودمختاری کے نام پر صوبوں کے حوالہ کر دیئے گئے۔ جاننے والوں کو حیرت ہو گی کہ اس ملک میں اس وقت پانچ سنسر بورڈ کام کر رہے ہیں، ہر صوبے کا اپنا سنسر بورڈ ہے۔۔ اور بے چارہ مرحوم مرکزی فلم سنسر بورڈ ۔۔ وہ صرف اسلام آباد کے ایک سینما کے لیے ہے، ویسے اس کا دائرہ کار تو کینٹ کے سینما گھروں تک بھی ہے لیکن وہ الگ داستان ہے۔

یہ سنسر بورڈ بھی کسی زمانے میں وزارت تعلیم کے ماتحت تھا، اب بھی مرکزی فلم سنسر بورڈ ایک سکول کے پلاٹ پر قائم ہے اور جب کبھی وزارت کیڈ کی اس کے ساتھ ٹھن گئی تو ہمارا مرکزی فلم سنسر بورڈ سڑک پر ہو گا۔اب بھلا سوچئے۔۔ اس اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے کھیل بھی صوبائی معاملہ ہو گیا۔۔ سنسر بورڈ بھی ۔۔ اور تو اور تعلیم بھی ۔۔
سب سے زیادہ ظلم ہوا ہے کھیل کے ساتھ۔۔ چلئے تعلیم کے ساتھ کھیل کا کوئی تعلق سمجھ آتا ہے۔ پھر امور نوجوانان کے ساتھ بھی اس کا رشتہ ہو سکتا ہے۔۔ ثقافت سے بھی کھیل جڑا ہوا ہے لیکن کوئی مجھے سمجھائے کہ اس کا وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ساتھ کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ یہ تعلق ابھی تک تو خود اپنے وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ بھی نہ سمجھ پائے ہوں گے۔
وزارت بین الصوبائی رابطہ کا بنیادی کام صوبوں کے ساتھ گندم، کھاد کی سپلائی کے معاملات پر نظر رکھنا ہے،مشترکہ مفادات کونسل کو بھی یہی وزارت دیکھتی ہے۔۔ اب اس کے ساتھ ایک اضافی تعلق سپورٹس کا بھی جڑ گیا ہے۔جب کسی کو وقت ملے گاکھیلوں کی طرف بھی توجہ ہو جائے گی۔
بے چارے وفاقی وزیر ایک آدھے سپورٹس کے دورے پر ہی راضی ہو جاتے ہیں ،کبھی کوئی تگڑا سیکرٹری آ جائے تو اسے بھی پاکستان سپورٹس بورڈ کے ہونہار سپوت کسی اہم کھیل میں قومی دستے کا سربراہ بنا کر کانا کر دیتے ہیں لیکن اس وقت ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ کا کھیلوں پر راج ہے۔سپورٹس بورڈ میں ویسے تو اور بھی کئی چلتے پرزے ہیں مگر یہ صاحب زیادہ استاد ہیں اس لیے کئی بڑے بڑے نام ان کے ساتھ جڑ کے اس کڑاہی میں حصہ دار بنتے ہیں جس میں ڈی جی موصوف کا سر ہے اور انگلیاں گھی میں ہیں۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صحت سے متعلق کئی معاملات میں ان سے فائدہ اٹھاتے رہے، پھرذرائع کے مطابق اختر نواز گنجیرا، عبدلقادر گیلانی کی انتخابی مہم میں بھی ان کے ساتھ رہے۔۔

ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی اختر نواز گنجیرا صاحب ۔۔ ہمارے پرانے واقف ہیں۔ غالباً اٹھانوے میں انہوں نے مجھ سے پہلی شکایت کی جب میں نے ان کے حوالہ سے ایک خبر دی کہ موصوف کے دفتر کے کمرے کا پی ٹی سی ایل فون بل پچھہتر ہزار روپے آیا ہے جو ظاہر ہے سرکار نے ادا کرنا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی مواقع ایسے آئے جب انہیں مجھ سے شکایت ہوئی کہ میں خبر لگا دیتا ہوں ان سے بات نہیں کرتا۔
گزشتہ ماہ ہونے والی اولمپکس گیمز میں ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی قومی دستے کے ہمراہ گئے اپنی شاندار کارکردگی کے باعث اولمپک کمیٹی نے انہیں بہت جلد ہی جہاز میں بٹھا دیا لیکن ڈائریکٹر جنرل صاحب نے قومی دستے کو وہاں سے خدا حافظ کہا اور خود کھیلوں کی ترقی کے لیے برازیل میں ہی رکے رہے۔۔ اختتامی تقریب تک ان کے اخراجات غالباً پاکستان حکومت ہی برداشت کرتی رہی۔
یہی نہیں وہاں سے واپس آئے تو آتے ہی کھیلوں کی مزید ترویج و ترقی کے لیے بشکیک (کرغزستان) روانہ ہو گئے۔۔ ابھی بھی انہوں نے ایک اور گیمز کے لیے بیرون ملک جانے کی غرض سے این او سی کے لیے عرضی ڈال رکھی ہے۔دوسری جانب اب انہوں نے اپنے صاحبزادے کو بھی فٹ سال کی غیر سرکاری ٹیم کے ساتھ سکاٹ لینڈ بھجوا دیا۔

اسی لیے کھیلوں کا یہ حال ہے کہ ہاکی جس میں پاکستان نے سب سے زیادہ اعزازات جیتے، آج اس قومی کھیل کو بھی گرہن لگ چکا ہے، شہروں کی ہاکی ایسوسی ایشنز میں سیاست عروج پر ہے، پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈئیر (ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری شہباز سینئر قومی کھیل میں بہتری لانے کے نعرے لگا کر آئے ،بریگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر صاحب تو چلیں اس لیے ہاکی فیڈریشن میں باآسانی آ گئے کہ ان کے ہم زلف ایک اہم وفاقی وزیر ہیں مگر انہوں نے اپنے ساتھ ہی اپنے بھیا کرنل (ر) آصف کھوکھر کو پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کا سیکرٹری بنا دیا۔ پنجاب ہاکی کے صدر سے استعفیٰ لیا گیا۔ یہی حال اب ایسوسی ایشنز کا بھی ہے اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ضیا اللہ شاہ سے بھی زبردستی استعفیٰ لیا گیا کیونکہ ان کی جگہ وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اعلیٰ افسر کے بھائی کو سیکرٹری بنانا مقصود تھا۔
کرکٹ میں بھی اب ہمارا حال وہ ہے جو کبھی بنگلہ دیش یا سری لنکا کا ہوا کرتا تھا ، اب ہم مختلف ٹیموں کے ریکارڈ اچھے کروانے جاتے ہیں۔۔ سکواش میں جان شیر خان کے بعد فتوحات پر فل سٹاپ لگ گیا، پہلے ٹیلنٹ خود آتا تھا ہم صرف اسے باہر بھجواتے تھے لیکن کیا کریں اب ایسے اچھے کھلاڑی آنا بھی بند ہو گئے ہیں۔۔ جہانگیر خان، قمر زمان، محب خان، اعظم خان، روشن خان، ہاشم خان۔۔ کس کس کا نام لیں مگر اب ایسا کوئی کھلاڑی آتا ہی نہیں۔۔

اس زوال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کھیلوں میں سیاست ہو رہی ہے اور پارلیمنٹ ،جہاں سیاست ہونی چاہئے وہاں کھیل ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے جامع پالیسی ترتیب دے، یہاں ایسا رواج ہونا چاہئے کہ جو شخص کھیلوں کی فیڈریشنز کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرے اسے بڑی سے بڑی سزا دی جانی چاہئے۔ جو فیڈریشن کارکردگی نہ دکھا پائے اسے گھر کی راہ دکھائی جائے۔ لیکن یہاں ہر چار سال بعدسپورٹس فیڈریشنز کے انتخابات کے نام پر ڈرامے ہوتے ہیں لوگ وہی رہتے ہیں عہدے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں بھی ایک بار جو صدر کے عہدہ پر چڑھ جائے وہ اترنے کا نام نہیں لیتا، اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اگر وہ چھوڑ کر گیا تو کھیل تباہ ہو جائیں گے۔ جیسے ابھی ہم ہر کھیل کے میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ خدا کے لیے اس ملک پر رحم کریں۔۔ کھیلوں کے فروغ کے لیے شخصیات کے حصار سے باہر نکلیں۔۔ کھیل اہم ہونے چاہئیں شخصیات نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں