وزیراعظم پاکستان کا جنرل اسمبلی سے خطاب…..حق ادا ہوا !

وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف نے قومی حمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی جرات اور بے باکی سے مگر شستہ اور شائستہ انداز میں بین الاقوامی سفارت کاری کی پیچیدگیوں اور نزاکتوں کو کدورت سے محفوظ رکھتے ہوئے پاکستان کا موقف بین الاقوامی دنیا تک پہنچایا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستانی وزیراعظم کی تقریر کو معصوم چہروں پر پیلٹ گن کے نشانانات لیئے ، چشموں کے کالے پردوں کے پیچھے کئی عزائم و خواب لئے بینائی سے محروم آنکھوں اور لہو لہو رستے زخم اور غموں سے چور کشمیریوں کے لئے اگرٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا جس نے ان کے زخموں پر مرہم کا کام دے کر نیا حوصلہ بخشا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا.

یہ خطاب ایک منجھے ہوئے پر عزم اور با حوصلہ لیڈر کا خطاب تھا۔ جس میں مستقبل کے ناقابل تسخیر پاکستان کے حوالے سے عزم پیہم کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بارہ نکات پر مشتمل ہر پہلو کو بین الاقوامی برادری کے سامنے طشت از بام کیا۔ جس میں بھارت پر دباؤ ڈالنے، مقبوضہ وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے، بے گناہ کشمیریوں کی شہادت اور پیلٹ گن سے زخمیوں کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے اور برھان وانی کو نوجوانوں کے لئے مثال قرار دیتے ہوئے اس تحریک کو ’’انتفادہ‘‘ قرار دیا اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ یہ تحریک خالصتاً کشمیریوں کی تحریک ہے اور پاکستان ، سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی سطح پر ان کے موقف کی حمایت کر رہا ہے۔

پاکستان کے مقدس سبز ہلالی پرچم کے رنگ سے مماثلت رکھنے والا لباس زیب تن کئے با اعتماد طریقے سے بات کرنے والے وزیراعظم کے انداز میں ایک حقیقی اسلامی ایٹمی قوت رکھنے والے با خبر و با حوصلہ رہنما کی جھلک تھی اسی دوران سفارتی محاذ پر پاکستان فتح یاب ہوا جب غیر وابستہ ممالک کے اجلاس میں بھارتی شکست اور نیو یارک میں سارک ممالک کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کا یہ کہہ کر شریک نہ ہونا کہ وہ سرتاج عزیز کا سامنا نہیں کرنا چاہتیں اور بھارتی وزیراعظم کا یو این میں خطاب نہ کرنے کے فیصلہ کی جوازیت بھی اس کے علاوہ کوئی نہیں کہ پاکستانی وزیراعظم نے جس انداز سے بھارتی مظالم کو ڈنکے کی چوٹ پر بے نقاب کیا اور ساتھ اقدام متحدہ کو ثبوت فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ اس کے بعد بھارت کے پاس راہ فرار کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ رہا اس موقع پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیراعظم کی تقریر کو سراہا۔

جو سیاسی بلوغت کا عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری اور بھارت کے لئے واضح پیغام تھا کہ لیلۃ القدر کی مقدس رات عظیم معجزہ کی صورت میں دنیا کے نقشے پر رونما ہونے والے اس مادر وطن کی طرف اگر صرف میلی آنکھ سے ہی کوئی دیکھنے کی جرات کرے گا تو یہ بہادر قوم اپنے تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے اور نظم و ضبط ، صلاحیت و مہارت اور جوش و جذبہ سے مزین مسلمہ روایات کی حامل دنیا کی بہترین افواج میں نمایاں مقام رکھنے والی پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہو کر انہیں شجاعت کے نئے درخشاں باب رقم کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔ اس موقع پر دوست ملک چین نے جس طرح کھل کر پاکستان کے موقف کی حمایت کی اس کے لئے بھی قوم شکر گزار ہے روس اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں اور روس اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں نے بھارت اور امریکہ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

اس تلملاہٹ کا شکار ہو کر اور سفارتی محاذ پر بھارت کو جس خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملزم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے بھارت کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا وقت کا تقاضا ہے کہ قوم اپنے تمام اختلافات کو بالائے طارق رکھ کر ایک پیج پر آ جائے ، انفرادی مفادات کے بجائے اجتماعی اور قوی مفاد کو مدنظر رکھا جائے وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے روانگی سے قبل کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا جو تاریخی اقدام کیا اس کے بھی انتہائی حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔

اس موقع پر کہ جب وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے نیو یارک میں موجود ہیں وزیراعظم آزاد کشمیر جناب راجہ فاروق حیدر خان اور وزیر اطلاعات مشتاق منہاس پنجاب کے دور ے پر ہیں جہاں مختلف وفود ، قیادت اور ہائی کورٹ لاہور میں وکلاء کمیونٹی سے خطاب کر کے مسئلہ کشمیر کو موثر انداز سے اجاگر کیا گیا اور کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ لازوال محبت اور انمٹ رشتے کا اعادہ کیا۔ یقیناًمستقبل کا پاکستان تمام مسائل کی دلدل سے کامیابی سے باہر نکل کر بہت جلد ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہو گا اور یہی کشمیری قوم کے مفاد میں ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مضبوط اور ٹھوس اقدامات کا ضامن ہے۔ کشمیری قوم وزیراعظم پاکستان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتی ہے کہ انہوں نے اپنا حق ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں