شاباش نواز شریف

محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب’’ مائی برادر‘‘ میں قائد اعظم کی مرض الموت کے آخری ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم کی طبیعت جب بہت زیادہ خراب ہونا شروع ہوئی تو وہ حالت نیم بے ہوشی میں تین باتوں کا تذکرہ کرتے رہے ’’ کشمیریوں کو حق ملنا چاہیے‘‘ ،’’آئین‘‘ اور’’ مہاجرین کی آباد کاری‘‘ ۔

قائد کی رحلت کے بعد ان کے جانشینوں نے 1957ء تک تو کشمیر کو اپنی ترجیحات میں رکھا لیکن بعد میں آہستہ آہستہ حکمران کشمیر کو بھولتے گئے اور یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کے ڈرامائی ڈائیلاگ بولے اور بعد ازاں شملہ معاہدہ میں مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ قرار دیکر عالمی حمایت اور اقوام متحد ہ کی قراردادوں سے ہی دست کش ہو گئے باقی جو کسر بچی وہ جنرل مشرف نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کرOut of Boxحل اور چار نکاتی فارمولے سے مسئلہ کشمیر کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔

اللہ بھلا کرے میاں محمد نواز شریف کا جنہوں نے اپنے سابقہ دور حکومت میں کمال حکمت عملی سے وزیراعظم ہندوستان اٹل بہاری واجپائی کو مینار پاکستان بلا کر مسئلہ کشمیر کے حل پر ان کو آمادہ کیا اور اب گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں جس جرأت و بے باکی اور مدلل انداز میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا اس پر میاں محمد نواز شریف نہ صرف دونوں اطراف کے کشمیری عوام کی زبردست تحسین و تبریک کے مستحق ٹھہرے بلکہ عالمی سطح پر ایک مدبر اور سٹیٹس مین کے طور پر ابھرے۔

جہاں نواز شریف کی تقریر اتنی مدلل، مؤثر اور تیربہدف تھی کہ ہندوستانی میڈیا، سیاستدان اور متعصب ہندوؤں نے میاں محمد نواز شریف کے سر کی قیمت بھی مقرر کر دی ایک طرف تو ہندوستان میں میاں محمد نواز شریف کی مسئلہ کشمیر پر تقریر سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور ادھر عمران خان کی سوئی رائیونڈ تک دھرنے پر اٹکی ہوئی ہے۔

وقت کا تقاضا تو یہ تھا کہ اسوقت پاکستان کی جملہ سیاسی قیادت اپنے تمام تر اختلافات ختم کرکے ایک قوم اور ایک ملت ہونے کا ثبوت دیتے، ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر اپنی افواج کوالرٹ کیا ہوا ہے وہ قوم کے اندر جذبہ جنگ ابھار رہا ہے اور ہمارے چند سیاستدان جن میں عمران خان، طاہر القادری اور دیگر شامل ہیں حکومت کے خلاف صف آرا ہیں اس سے کیا نتائج اخذ کیے جائیں گے کہ یہ سیاست دان کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور کن کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مجھے تو میاں محمد نواز شریف کے خطاب پر انہیں کشمیریوں کی جانب سے تشکر کے جذبات کیسا تھ شاباش بھی دینی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے گذشتہ حکمرانوں کی طرف سے کشمیر پرتساہل اور غفلت مجرمانہ کا تمام تر قرض اتارتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود اردیت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ہندوستانی مظالم کو عالمی سطح پربے نقاب کرتے ہوئے جس بہادری سے کشمیریوں کی وکالت کی ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثامل نہیں ملتی۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا جس کے بعد بھارتی افواج نے انسانیت سوز ظلم کا بازار گرم رکھا ہوا ہے جس کے شواہد اقوام متحدہ کو فراہم کیے جائیں گے۔ میاں محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کی خاطر بھارت سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم انڈیا کی جانب سے ہر بار شرائط لگا دی جاتی ہیں جس کے باعث مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی شرائط ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آسکتا ہے جس کے لیے ہم ہروقت تیار ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات نہ ہونے کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں نوجوان حریت لیڈر برہان وانی کی دوران حراست ہلاکت کے بعد کشمیریوں میں آزادی کا جذبہ بڑھ گیا ہے جس کے بعد سے قابض فوجیوں نے گزشتہ کئی روز سے علاقے میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے، بھارتی افواج نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں جس کی وجہ سے کئی افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔میاں محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری عوام 70 سال سے آزادی کی خواہش رکھتے ہیں تاہم نئی نسل نے اس جدوجہد کو مزید تیز کردیا ہے مگر بھارت کشمیریوں کی امنگوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیریوں کے اظہار آزادی کا حامی ہے۔

کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلے سے موجود ہیں مگر اس پر سب نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے‘‘۔وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’’ہم امن کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر پڑوسی ملک کے جنگی جنون کو نظر انداز نہیں کرسکتے ، پاکستان کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ہرگھڑی تیار ہے اگر ہم پر زبردستی جنگ مسلط کی گئی یا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور دفاع کیا جائے گا‘‘۔

نوازشریف نے کہا کہ ’’اگر بھارت خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو آج میں اقوام متحدہ کے توسط سے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کریں اور ایٹمی تجربات سمیت تمام معاہدوں پر بیٹھ کر معاملات طے کریں‘‘۔بھارت کو مذاکرات سے قبل کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرنا ہوگا اور جیل میں قید تمام کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ انصاف کی عدم موجودگی کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا، دہشت گرد تنظیم داعش پوری دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کے باعث اب دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے تاہم پاکستان نے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بچنے کے لیے آپریشن ضرب عضب کی ابتداکی‘‘۔آپریشن ضرب عضب کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم کا کہناتھا کہ ’’پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے تاہم دنیا کا سب سے بڑا اور کامیاب ترین آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے شروع ہونے کے بعد کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پالیا ہے.

پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے افراد کو بیرونی مدد حاصل ہے تاہم عوام کے تعاون اور فوجی جوانوں کے حوصلے سے شروع کیے گئے آپریشن میں کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے 2 لاکھ سے زائد افواج کو اس مشن کے لیے مختص کیا گیا‘‘۔وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور مسئلہ کشمیر کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

اس قدر مدلل خطاب پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل کسی بھی حکمران کا نہیں ملتا اس خطاب پر کشمیری عوام بہ صمیم قلب میاں محمد نواز شریف کو شاباش دیتے ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کیلئے ایک پر اثر اور پر مغز تقریر کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں