عید، صحافی، تنخواہ اور فریزر

مجھ سے عید ملتے ہوئے میرے دوست میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہمیشہ سے اس کے مزاج کا حصہ رہی ہے۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگا کچھ نہیں بھائی ۔ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں، لیکن ایسا کہتے وقت اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
میں نے اس کی آنکھوں میں آتا پانی دیکھ لیا لیکن اس وقت اس سے مزید کوئی بات کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں اور لوگ بھی موجود تھے۔

عید کا دن تھاشاید گھر سے دوری کا احساس ہو رہا ہو. لیکن میں پوچھوں گا ضرور، میں نے سوچا. وہ بھی بھانپ گیا کہ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں اس لیے وہ میرے قریب آنے سے کتراتا رہا۔
دوپہر میں ہم سب دوست جب کھانے کے لیے جمع ہوئے تو وہ خاموشی سے باہر نکل گیا حالانکہ وہ عموماً کہا کرتا تھا کڑاہی چاہے چکن کی ہو یا مٹن کی اسے پھڑکانا عین ثواب کا کام ہے۔ میں نے بھی انتظار کیا کہ وہ تھوڑا دور نکل جائے پھر میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ پارکنگ میں داخل ہو رہا تھا، میں بھی اس کے پیچھے تھاوہ درخت کے پیچھے چھپ کر کھڑا ہو گیاتاکہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے ، میں بھی چپکے سے ایک دوسرے درخت کی اوٹ میں کھڑا ہو گیا۔

وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ، میں شرمندہ سا ہو گیا اور قریب تھا کہ واپس چلا جاتا کہ اس کے رونے کی آواز سنائی دی، میرے اٹھتے قدم رک گئے۔ وہ کہہ رہا تھا اسے پیار سے سمجھاؤ، بتاؤ بابا رات کو بکرا ضرور لے آئیں گے. کچھ دیر بعد دوسری جانب کی بات سن کر بولا جب میں واپس آؤں گا اس وقت تک تو یہ سو چکا ہو گا۔ اس لیے کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ابھی کسی طرح اسے بہلا پھسلا کر سبزی سے روٹی کھلا دو، کہیں سے تھوڑی دیر میں گوشت آ ہی جائے گا۔ وہ کھلا دینا نہیں تو میں کسی سے ڈھیٹ بن کر مانگ ہی لوں گا۔

یہ سننا تھا کہ میرے قدموں سے جیسے جان ہی نکل گئی۔ یعنی میرے دوست کے حالات یہ تھے کہ وہ بکرا نہیں خرید سکتا تھا اور اس کا بچہ ضد کر رہا تھا۔ یہ سوچ کر میری بھی آنکھیں بھرآئیں اور میں وہیں زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، اتنی دیر میں وہ فون کال ختم کر کے درخت کی اوٹ سے باہر نکلا ، وہ غالباً اپنے آنسو پونچھ چکا تھا اس لیے اسے معلوم پڑ گیا کہ میں رو رہا ہوں مگر مجھے وہ دھندلا دھندلا سا دکھائی دے رہا تھا۔

وہ بولا کیا ہوا بھائی؟ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ میں نے سوچا وہ اب بھی اپنی وضع داری قائم رکھنے کے لیے کچھ نہیں بولے گا اس لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے بولا. میرے پاس قربانی کا جانور لانے کے پیسے نہیں اور بچہ ضد کر رہا ہے بکرا لانے کی، بمشکل اپنی تنخواہ میں سکول کی فیس کے بعد اس کے عید کے کپڑے بنوا دیئے ہیں مگر بکرا کہاں سے لاؤں اور وہ بھی ادھار پر.

یہ سننا تھا کہ اس کا بھی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ مجھ سے لپٹ کر وہ خوب رویا. کہنے لگا آپ تو کپڑے لے آئے، مجھے تو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی. میں نے اپنے بچے سے بہانہ کیا کہ ہم عید کے کپڑے ایدھی فاؤنڈیشن کے بچوں کو دے رہے ہیں اس پر وہ راضی ہو گیا مگر کہنے لگا اپنا بکرا ایدھی والوں کو نہیں دوں گا۔ روتے روتے وہ بولتا رہا۔ میں نے بیٹے کو سمجھایا بیٹا کانگو وائرس آیا ہوا ہے، وہ بہت خطرناک ہے تو کہنے لگا ہمارے ماموں نے بھی بکرا لیا ہے ، تایا جی کے گھر بھی بکرا آیا ہے کیا کانگو صرف ہمارے لیے ہے.

وہ پھر کہنے لگا یار، ابھی تو میں زندہ ہوں سوچتا ہوں اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے گھر کا کیا ہو گا، بچے کا کیا ہو گا؟ ابھی تو تنخواہ صرف لیٹ ہوئی تو میرے بچے کو تین دن تک سکول کے صحن میں کھڑا رکھا گیا پھر ایک دن گھر ہی بھیج دیا کہ جب تک فیس نہیں آتی اس کو سکول بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔ اگر میں نہ رہا تو میرے بچے کا کیا ہو گا؟ اسے تویہ لوگ کسی ورکشاپ کا چھوٹا بنا دیں گے. یہ کہہ کر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا.

میں نے اسے گلے سے لگا لیا، وہ بولتا جا رہا تھا. کہنے لگا میں صحافی ہوں، یہ سوچ کر دکان دار راشن بھی ادھار نہیں دیتا کہ ان لوگوں سے کون وصولی کرے گا، بینک ہمیں نہ کریڈٹ کارڈ دیتے ہیں نہ ہی قرضہ. ایسے میں بھی ہم ہر مشکل کے باوجود مسکراتے رہتے ہیں۔ کچھ گندی مچھلیوں کی وجہ سے لوگ ہمیں بھی کرپٹ سمجھتے ہیں۔ سمجھتے ہیں ہم بہت امیر ہیں. ہر روز بھتے آتے ہیں مگر کبھی یہ میرے گھر جا کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو. ہمارے گھروں کے حال کیا ہیں، آلو کے شوربے والا سالن ایک دن پکتا ہے تو کئی روز ہم کھاتے ہیں۔۔

وہ روتا رہا، اسے دیکھ کر میں بھی روتا رہا. وہ ایک روزنامہ اخبار میں کام کرتا ہے۔ جس کا مالک ہر سال دو تین ممالک کا دورہ تو ضرور کرتا ہے، اسی اخبار کے نام پر ۔ مگر ورکروں کو تنخواہ نہیں دیتا۔ دو تین ماہ کے بعد ایک ماہ تنخواہ ملتی ہے جو سب ادھاروں میں چلی جاتی ہے۔ اس طرح کا ایک اخبار نہیں، کئی اخبار اور ٹی وی چینل اب بے گار کیمپوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ ان اخبارات و ٹی وی چینل کے مالکان وزیر اعظم کے قریب بھی بیٹھتے ہیں وہ ان سے مراعات بھی لیتے ہیں، سرکاری دورے بھی کرتے ہیں۔ سرکاری اشتہارات بھی لیتے ہیں، ٹیکسوں میں چھوٹ بھی لیتے ہیں پھر بھی اتنے غریب ہیں کہ اپنے ورکر کوتنخواہیں نہیں ادا کر سکتے اورایسے میرے کئی دوستوں کی اور ان کے گھر والوں کتنی عیدیں خراب کرتے ہیں۔

یہ صرف میرے ایک دوست کی کہانی نہیں اس ملک میں بسنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی اکثریت کے حالات زندگی ایک جیسے ہیں۔ وہ سب روز صبح گھر سے نکلتے ہیں دفتر پہنچتے ہیں، پھر خبروں کی تلاش میں سارا دن مختلف دفاتر کے چکر لگا لگا کر جوتیاں گھساتے ہیں. جب اخبار میں ان کے نام کے ساتھ خبر چھپتی ہے تو خوشی ایک بار چہرے پر آتی ہے پھر اپنے کچن کی الماریوں اور فریج کی ویرانی وہ لمحہ بھر کی خوشی چھین لیتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ انہیں نوکری چھوڑ دینی چاہئے مگرکیا کریں انہیں کوئی اور کام آتا بھی تو نہیں۔

چلئے یہ تو ایک رخ ہوا، دوسرا رخ معاشرے کی بے حسی کا بھی تو ہے، پہلے پہل ہم نے تو یہ دیکھا تھا قربانی کا گوشت ان لوگوں میں تقسیم کیا جاتا تھا جن کے گھر قربانی نہ ہو رہی ہو مگر اب تو صرف ان کے گھر گوشت جاتا ہے جن کے گھر سے جواب میں بھی گوشت آئے۔ یعنی قربانی کا مفہوم ہی تبدیل ہو گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب لوگ قربانی بھی اپنے اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان، محلہ اور لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔

تاکہ کوسوں دور تک معلوم پڑ جائے کہ حاجی صاحب کا بیل دیکھا پورے تین لاکھ کا بیل لیا ہے۔ یا پھر اپنے شیخ صاحب نے بیل کے سائز کا بکرا لیا ہے. اسے کھلانے کے لیے ڈھیر سارا پھل منگوایا ہے، معلوم ہے ان کا بکرا کھاتا ہی صرف کیلے، سیب اور امرود ہے، چاہے ان کے محلے میں تین گھر چھوڑ کر رہنے والے سفید پوش سرکاری سکول ٹیچر کے بچوں نے کئی ماہ سے کوئی پھل نہ چکھا ہو.

بہرحال ہمیں کیا. ہم نے تو اپنا بکرا قربان کیا، ایک گائے میں بھی حصہ ڈالا تھا، پھر سسرال سے بھی ڈھیروں گوشت آ گیا، بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے بھی گوشت آیا اس لیے ہم نے تو نیا فریزر خریدا ہے۔ اب ایک تو بکرا اور پھر نیا فریزر بھی لینا پڑ گیا، بچوں کے کپڑوں پر ہی آپ کو تو معلوم ہے تیس چالیس ہزار روپے خرچ ہو جاتے ہیں. اب بھلا غریبوں کی بندہ مدد کیسے کرے. ارے دیکھو، یہ مانگنے والا بھی آ گیا ہے. اسے بتاؤ بیٹا، ہمارے تو اپنے پاس گوشت نہیں ہے۔ ابھی تو فریزر بھی ایک چوتھائی خالی ہے. بار بی کیو بھی کرنا ہے. نہیں ہے بابا گوشت نہیں ہے….معاف کرو. جاؤ کسی امیر کا دروازہ کھٹکھٹاؤ. کیوں ہم غریبوں کو تنگ کرتے ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں