مودی کی یزیدیت اور رائیونڈ مارچ

مجھ جیسے کئی دوستوں کے ایک سرپرست اور دوست ہیں کرنل صاحب! پاکستان سے محبت انکی پہچان اور اداروں سے کرپشن کا خاتمہ ان کا مشن رہا ہے ۔ اہم عہدوں پر فا ئز اور اس ملک کی ٹاپ لیڈرشپ کی آنکھوں کا وہ تا رہ رہے ہیں ! وہ کہتے ہیں کہ ” بعض لوگ غیر ملکی قوتوں کے کہنے پر پاک فوج کو متنازعہ ، اسکی کمانڈ اور کنٹرول کو کمزور اور بطور ادارہ اسکی کریڈیبلٹی پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں “وہ فوج کی سربراہی سے متعلقہ ایک کالم/ آرٹیکل پر سخت برہم تھے ! انکا خیا ل ہے کہ فوج کی ٹا پ لیڈر شپ بارے بغیر تحقیق کچھ لکھنا ملک و قوم کی خدمت نہیں بلکہ اسکو نقصان اور کمزور کرنے کے مترادف ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دشمن آپ کو جنگ کیلئے للکا ر رہا ہو۔

اس وقت ملک،قوم اور فوج میں اتحاد اور تنظیم کی اشد ضرورت ہے اور تقسیم یا اس کی کوشش تبا ہ کن ہو سکتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے ٹاپ کے 7جنرل ہوں یا 10۔ سب کے سب فوج کے انٹیلی جنس پراسس کے کھنگالے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ وہ حب الوطنی میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہوتے ہیں ۔ جس شخص نے فوج کو 50سال دیے ہوں اور وہ فوج کے سسٹم میں پلا بڑھا ہو تو اس پر ہو نے والے اعتراضات یا اسکی مشکوک رشتہ داریاں کیسے فوج کے سسٹم سے پو شید ہ رہ سکتی ہیں ؟

کوئی آرمی چیف بنے یا نہ بنے، کو ئی سروس میں رہے نہ رہے، کسی جنرل با رے غلط اندازہ لگا نے کا مقصد یہ ہے کہ پوری فوج کے سسٹم پر سوالیہ نشان لگا یا جا رہا ہے. جو اپنے آپ میں الارمنگ ہے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف شا ید توسیع نہ لیں اور وہ جو چا ر یا پا نچ نام تجویز کرینگے جن میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے آرمی چیف کے عہدے پر فا ئز کرنا ہے ۔ بدقسمتی سے یہ پہلی با ر ہو رہا ہے کہ سپہ سالار کے چنا ؤ کے عمل میں بھی جمہوریت اور سیا ست کی طرح میڈیا کے ذریعے زور آزمائی کی جا رہی ہے ۔

جو کہ ایک خطرنا ک ٹرینڈ ثابت ہو سکتا ہے ۔ آرمی چیف کو اس پر سنجیدہ قواعد و ضوابط طے کرنا ہونگے ۔ کم از کم پا ک فوج جیسے ادارے میں یہ تبا ہ کن روش یا روایت قا ئم نہیں ہو نی چا ہیے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تقرری پر میرٹ اور صرف میرٹ کو مد نظر رکھنا چا ہیے اور ایک ایسے سالار کا انتخا ب کیا جا ئے جو فوج کو پر وفیشنلی ہینڈل کر سکے اور جنرل راحیل کے ادھورے کاموں کو تکمیل تک پہنچائے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان ، کرا چی آپریشن ، ایم کیو ایم ، کمبنگ آپریشن اور بلو چستان سمیت CPEC جیسے اہم کاموں کو کسی انجام تک اگر نہ پہنچا یا گیا تو یہ سب بیک فا ئر ہو گا جس کا نقصان نا قا بل تلا فی ہو گا اور یہ پاکستان، فوج اور حکومت کی اجتما عی نا کامی بھی تصور ہو گی ۔

میری یہ را ئے ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے آنے والی فہرست پر اگرجنرل راحیل سے مشاورت کر لیتے ہیں کہ “کون بہتر اندازمیں آرمی کو لیڈ کر سکتا ہے ؟ تجویز کر دیجئے. “تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے جہاں آرمی کا مورال بلند ہو گا وہاں وزیر اعظم کے قد کاٹھ میں بھی ہو گا ۔ میں نہیں سمجھتا کہ وزیر اعظم یا مسلم لیگ ن کو اس اہم ترین فیصلے پر ” اپنی” کرنی چا ہئے ۔ بلکہ اس میں پا ک آرمی کو آن بورڈ رکھنے سے بہتری ہی ہو گی.

قارئین کرام!
مودی کہتا ہے کہ خون اور پا نی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے وہ سندھ طا س معا ہدے کو توڑنے کی تیا ری کر رہا ہے ۔ اس پر ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ اور کیا ہم پا نی کے روکنے جیسے جا رحا نہ ترین بھا رتی اقدام سے نمٹنے کیلئے تیا ر ہیں ؟ مودی سرکا ر جنگی جنون اور نفسیاتی و میڈیا وار ہا رنے کے بعد فرسٹریشن میں ایک اور بچگا نہ حرکت واٹر وار شروع کرنے با رے سو چ رہی ہے. اگرچہ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ 1960کے عشرے میں ہو نے وا لے سندھ طا س معا ہدے کا گا رنٹر ورلڈ بینک ہے اور یہ فیصلہ ورلڈ وا ٹر ٹریٹی کے مطا بق ہوا تھا لہذا بھا رت اس پر غور کر سکتا ہے عمل نہیں. ایسی حرکت سے بھا رت کی انٹرنیشنل کمیونٹی میں جو سا کھ متا ثر ہو گی اسکا تصور شا ید نئی دہلی کو نہیں ۔

ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر مصطفےٰ کا خیا ل ہے کہ اگر اس ٹریٹی کو بھا رت یا پاکستان چھیڑتا ہے تو پھر اس پر وہ فسا د پڑ سکتا ہے جس کو مٹا نا آسان کا م نہ ہو گا ۔ آج 1960نہیں ، نہ ہی آج کی پاک بھا رت قیادت(کم از کم انڈیا کی تو )میں اتنا تحمل یا برد با ری نہیں کہ وہ دوبا رہ کسی با ہمی معا ہد ے پر پہنچ سکیں ۔ لہذا اس کو چھیڑنے کا مقصد پا نی پر ایک ایٹمی جنگ کو دعوت دینا ہے ۔ اسکی مثال یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی واٹر شا رٹیج کا شکا ر ملک ہے اورانڈیا کی دو ریاستیں کرناٹک اور تا مل ناڈو ایک ہی فیڈریشن کا حصہ ہونے کے با وجود پانی کے تنا زعے پر آپس میں جلنے ما رنے مرنے پر اتری ہو ئی ہیں۔

تو اگر پا نی پر انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو کیا تبا ہی آسکتی ہے اسکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اگر ایک با ر سندھ طا س معاہدہ ٹوٹا تو پھر فیصلہ تلوار، بندوق، توپوں سے ہی ممکن ہو سکے گا ۔ میرے ایک جذباتی دوست کا کہنا ہے کہ کیا کسی کشمیر ی مجا ہد کو کشن گنگا اور بگھلیا ر ڈیم کا رستہ نہیں آتا؟ بہر حال یہ ایک خطرنا ک رجحان اور سو چ ہے جو مودی کو یزیدیت پر اکسا رہی ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ پا نی بند کرنے کی دھمکی پر عا لمی برادری مودی کو کیا لقب یا سبق دیتی ہے ؟

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ انکو اس دور حکومت میں جہاں بہت سے سیاسی و سماجی بحرانوں کا سامنا کر نا پڑا وہاں انکو تین سے چا ر مرتبہ پورے ملک کی لیڈرشپ کی سپورٹ بھی ملی اور ساری سیا سی
قیا دت نے انکی آواز میں آواز ملائی ۔ امید ہے کہ امریکہ وا پسی پر وہ تما م لیڈر شپ کو ایک با ر پھر بلائیں گے اور کشمیر و بھا رتی دھمکیوں پر انکو اعتماد میں لیں گے ۔

اب دیکھتے ہیں کہ پا نامہ لیکس اور احتسا ب کے نام تحریک انصاف کے سربراہ جنا ب عمران خان لاہور میں 30 ستمبر کو کیا شو آف پا ور کرتے ہیں ۔ اگر چہ عمران خان کے ولولے اور جو ش میں کو ئی کمی نہیں آئی انکی آواز اور لب و لہجے میں پہلے جیسی گرج ہے. لیکن سیا سی تنہا ئی کا شکا ر ہو نے با عث انکے پنڈال اور قا فلوں میں یقینی کمی نظر آئیگی ۔

تحریک انصاف کے سربراہ جنا ب عمران خان کیوں اس قدر جذبا تی ہیں ؟ کیوں وہ پا ک بھا رت تنا ؤ کے باوجود رائیونڈ ما رچ سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں ؟ اور وہ کیوں وزیر اعظم کے گھر کے پاس جلد از جلد شو کرنا چا ہتے ہیں ؟ اس کا جواب ایک ایجنسی کی غیر مصدقہ افواہ نما انفا رمیشن میں ہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی ایک ایجنسی نے جنا ب عمران خان کی گفتگو ٹیپ کی جسمیں انکا کو ئی پا رٹی لیڈر عمران خان کو مشورہ دے رہا تھا کہ یہ ما رچ کہیں الٹا تحریک انصاف کو نقصان نہ دے دے لہذا اسکو کچھ دن آگے کر لیتے ہیں ۔

جس کے جواب میں عمران خان کہتے ہیں کہ “کیا آپ کو پتہ نہیں کہ 15دن بعد اس ما رچ کا ہمیں کو ئی فا ئدہ نہیں ہو نے والا؟ “میر ا یہاں یہ سوال ہے کہ اگر واقعی یہ گفتگو ہو ئی ہے تو جنا ب عمران خان اپنی ٹیم کے منع کرنے کے با وجود کس کے کہنے پر یہ ما رچ کر رہے ہیں ؟(اسکا ایک مظا ہر ہ جنا ب جا وید ہا شمی کے منع کرنے کے با وجود دھرنا کی شکل میں برپا ہو چکا )اور ایسی کیا بات ہے کہ اگر 15 دن بعد یہ ما رچ ہوتا تو اس کا عمران خان کو کو ئی فا ئدہ نہ ہو تا ؟ ایسی کیا تبدیلی ملک میں آنے والی ہے جس سے پہلے پہلے عمران خان یہ ما رچ کر کے کو ئی فا ئدہ اٹھانا چا ہتے ہیں ؟ اس حوالے سے عمران خان کے حامی ، اہم شخصیات اور سیا سی دوست سوچئے گا ضرور.

اپنا تبصرہ بھیجیں