Altaf Hussain Nadvi

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیریائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو ۔کشمیر کے لیڈر،دانشور، صحافی ،تجزیہ نگار ،علماء ،طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کی تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس تقریر کے بعض حصے پیش کر کے وزیر اعظم پر شدید تنقید کی گئی‘ سے کشمیریوں نے سمجھ لیا کہ شاید اس دفعہ کسی نے درست ترجمانی کی ہوگی اس لئے کہ کشمیری بخوبی سمجھتے ہیں کہ’’مبہم اور مشکوک قومی مفاد‘‘کے نام پر کس حد تک بھارتی نیوز چینلز کے اینکروں پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں ۔ اخلاق واقدار سے عاری بیہودہ پن کا مرض ان ’’لکھے پڑھے جہلا‘‘میں کس قدر سرایت کر چکا ہے کہ IBN7کے ساتھ کام کر رہے کشمیری صحافی نصیر احمد سے چینل مالک نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ’’شہید برہان وانی‘‘کے خلاف بدکرداری پر مبنی کوئی ایسی رپورٹ تیار کرے جس کو ٹی ،وی پر چلا کر برہان وانی کو بدنام کیا جائے ،ظفر کے انکار پر اسے استفعیٰ مانگا گیا اور بعدمیں ’’کذب و افترأ پر مبنی یہ شرمناک فائل‘‘جموں کے رپورٹر نے تیار کر کے کئی روز تک چلائی گئی ۔یہ ہے بھارت کی نیوز چینلزکے مالکان اور ان چینلوں میں کام کر رہے اینکروں کے اخلاق و اقدار کا حال ۔

خیر بات ہو رہی ہے پاکستانی وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کی ،دوسرے دن وزیر اعظم پاکستان کی تقریر جب اخبارات میں شائع ہوئی تو پتہ چلا کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا پر ’’مرگی کے دورے‘‘پڑنے کا بنیادی سبب کیا تھا اور ان کے سیاسی تجزیہ نگاربوکھلائے ہو ئے کیوں تھے؟حالانکہ وزیر اعظم کی تقریر میں ایک بھی لفظ ایسا نہیں تھا جس کو غلط قرار دینے کی گنجائش ہو ۔وزیر اعظم پاکستان نے کہاکہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیرپاکستان اوربھارت میں امن ممکن نہیں ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام 70 سال سے آزادی کا انتظار کررہے ہیں،بے گناہ کشمیری بچوں اور خواتین کے قتل عام کی تحقیقات کی جائے ،لوگوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جاسکتاہے ۔بھارت کے ساتھ امن مذاکرات چاہتے ہیں،سرینگرمیں بچوں،خواتین کی بڑی تعدادسڑکوں پرنکل کرآزادی مانگ رہی ہے،ان مظالم سے کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے،برہان وانی کشمیر کی تحریک میں نئی علامت بن کر سامنے آئے،دہشت گردی کی جڑیں لوگوں کے حق خود ارادیت سے محرومی میں ہے،بھارت کی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانیت سوزمظالم ڈھائے،اس وقت تک دہشتگردی کاخاتمہ نہیں کر سکتے جب تک اس کی جڑوں کا تعین نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات دونوں ممالک کی ضرورت ہیں ،بھارت کی پیشگی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں،پاکستان بھارت کیساتھ امن چاہتاہے،مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے ہی خطرے میں اضافہ ٹل سکتا ہے،کشمیر میں ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کی ’’فیکٹ فائنڈگ کمیٹی‘‘ بنائی جائے،کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات ہونی چاہیے،مسئلہ کشمیر کے حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کے آپسی مسائل کا حل ہونا ناممکن ہے،کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کرے،بھارت کی پیشگی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

بھارتی میڈیا اور سیاستدان شہید برہان وانی کے اقوام متحدہ میں تذکرے سے آگ بگولہ نظر آتے ہیں اور تو اور بھارتی انتہا پسند تنظیم جو بی ،جے ،پی کی اتحادی پارٹی ہے نے وزیر اعظم پاکستان کا سر کاٹ کر لانے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کر دیا۔مودی سرکار کا جنگی جنون دیکھ کر بھارتی میڈیا بھی پاگل پن میں مبتلا نظر آتا ہے انتہا پسند تنظیم کا بیان مسلسل مختلف چینلز پر چلا یا جاتا رہا ۔بھارت میں انتہاپسندی کی انتہایہ کہ زرد صحافت نے ماضی کے تمام ریکارڈتوڑتے ہوئے نہ صرف یہ بیان نشر کیا بلکہ اس کی بالواسطہ حمایت بھی کی۔ مودی سرکار کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ایک جانب پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتی ہے لیکن قومی ٹیلی ویژن پر ایک انتہاپسند کی جانب سے سرکاٹنے کا بیان ٹیلی کاسٹ کروا کر ثابت کرتی ہے کہ اس سے بڑا ریاستی دہشت گرد دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔بھارتی حکمران پاکستانی وزیر اعظم کے بیان پر صرف اس لئے مشتعل نظر آتے ہیں کہ ایک ’’یتیم قوم‘‘ کو جس طرح گذشتہ ستر برس سے انھوں نے دبا کر رکھا ہے پر ڈھائے جارہے مظالم کو ’’ایک مسلمان ایٹمی قوت‘‘نے اقوام عالم کے سب سے بڑے سیاسی فورم پر بے نقاب کرتے ہو ئے جمہوریت کے جھوٹے دعویدار کو عریاں کر دیا ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی سبھی سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے وزیر اعظم کی تقریر کا خیر مقدم کیا ۔محترم سید علی شاہ گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے عالمی فورم میں جموں وکشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھا کر کشمیریوں کا بہی خواہ اور محسن ہونے کا حق ادا کیا۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نے عالمی ادارے کے اسٹیج پر کشمیریوں کی امنگوں، آرزوؤں کی صحیح ترجمانی کی ہے اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور موجودہ صورتحال سے پوری عالمی برادری کو آگاہ کیا ۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کے جموں وکشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جما ؤوالا خطہ ہے اور بھارتی فوج یہاں سنگین قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔ انہوں نے نواز شریف کے جموں کشمیر میں ’’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ بھیجنے کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کے انکار کے باوجود جموں کشمیر میں ایسی ایک ٹیم بھیجے جو خود مشاہدہ کرے کہ جموں کشمیر میں بھارت کی فوج کس طرح انسانیت کو ’’سرحد پار دہشت گردی‘‘ کی آڑ میں تاراج کررہی ہے۔ گیلانی نے ترکی اور چین کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مظلوم اور محکوم کشمیریوں کے مصائب اور مشکلات کا سنجیدہ نوٹس لیکر ایک جرأت مندانہ موقف اختیار کیا ہے۔‘‘۔میر واعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے ’’حکومت پاکستان ،پاکستانی عوام اور خاص طور پر میاں نواز شریف کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا ہے جو انہوں نے 22جولائی کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی اصل اور زمینی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے یہاں ہو رہے ظلم و تشدد ، قتل و غارت، حریت قائدین، عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ آئے دن سینکڑوں کشمیریوں خاص طور پر نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں اور بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں سے بین الاقوامی برادری کو واقف کرایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نواز شریف نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو اس دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے جو تجاویز پیش کیں وہ حریت کے دیرینہ مطالبوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور خاص طور پر نواز شریف کی یہ تمام مثبت کاوشیں ہمارے لئے نہ صرف اطمینان بخش ہیں بلکہ حوصلہ افزا بھی ہیں اور ان سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کشمیری عوام کو اپنی پر امن جدوجہد کو آگے لے جانے کیلئے تقویت مل رہی ہے ‘‘۔

اسی طرح شبیر احمد شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے معزز نمائندگان اگرچہ جموں و کشمیر میں ہورہے قتل و غار ت گری کی بنیادی وجہ اور بھارتی مظالم سے بخوبی واقف ہیں لیکن پاکستان نے ایک محسن کا کردار ادکرتے ہوئے اس بات کاثبوت پیش کیا کہ پاکستان کے عوام اور وہاں کی حکومت ہمارے دکھ درد کی ٹیس اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔انھوں نے نواز شریف کے خطاب کو مدلل اور مربوط اور جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز قرار دیتے ہوئے اس کی سراہنا کی ہے اور امید ظاہر کی کہ اقوام عالم کے قائدین اس سلسلے میں عملی اقدامات کرکے دنیا میں امن کے قیام کے لئے مثبت رول ادا کریں گے۔ شبیر شاہ نے نواز شریف کے بیان کو جموں کشمیر کے عوام کے دلوں کی آوز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی عالمی قائدین نشستند ،گفتند اور خوردن کی روایت سے اوپراْٹھ کر ریاست میں انسانیت سوز کاروائیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں گے ۔محمد یاسین ملک نے میاں محمد نواز شریف کے خطاب کوخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں امید ہے کہ اقوم عالم نواز شریف کی تجاویزپر غور کرکے عملی اقدامات کریں گے اور دنیا کے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں گے ۔
وزیر اعظم پاکستان کی تقریر پر سب سے زیادہ مسرت کشمیر کی مظلوم عوام محسوس کر رہی ہے ۔ہر جوان ،بزرگ ،بہن ،بیٹی اور ماں ان کی تقریر کو گویا اپنے جذبات تصور کرتے ہیں ۔کاش ماضی کے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال کر ’’غیر فطری اورغیر ضروری حل‘‘پیش کرنے کے بجائے اس مسئلے کو بین الاقوامی برادری تک پہنچانے کے لئے عملی طور پر کچھ کیا ہوتا تو یقیناََ آج صورتحال بہت مختلف ہوتی ۔بھارت کی اشتعال انگیزی کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ کل تک مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے والے یا اگلی نسلوں کے لئے چھوڑنے کے شوشے پھیلانے والوں کے برعکس میاں محمد نواز شریف کو ہوکیا گیا کہ بھارت کی اقوام عالم کے سب سے بڑے فورم پر ناک کاٹ ڈالی ۔جو جمہوریت اور گاندھی ازم کی آڑ لیکر مسلمانانِ ہند کے ساتھ ساتھ بھارت کی تمام اقلیتوں کا کھلواڑ کرکے انھیں جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم پاکستان یقیناََمبارکبادی کے مستحق ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیر اعظم اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے ہیں ۔انھیں اس حوالے سے اداروں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں جوابدہ بنانا چاہیے اس لئے کہ برصغیر میں عمومی تاثر یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستانی حکمران سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سب بڑی مثال کشمیر کمیٹی کی دی جاسکتی ہے جس کی کارکردگی صفر کے برابر ہے ۔حیرت یہ کہ اس کمیٹی کا سربراہ کسی بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور اور کشمیر سے متعلق ماہر کو رکھنے کے برعکس ایک ایسے بزرگ شخصیت کو رکھا گیا ہے جو کئی لحاظ سے میرے لئے قابل احترام ہیں ۔خود بھی انھیں یہ منصب قبول نہیں کرنا چاہیے تھا اس لئے کہ یہ مسئلہ ’’فاٹا کا قبائلی یا مقامی اشو‘‘نہیں ہے بلکہ فلسطین کی طرح ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ۔الحاصل یہ کہ مدت مدید کے بعد پاکستان کے کسی لیڈر نے کشمیری مظلومین کے دل جیت لیے یقیناََ ان کی دعائیں ان کے لئے باعث راحت ثابت ہوں گی مگر اسی پر قناعت کرنے کے برعکس اب اس مشن کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے اس حوالے سے تسلسل قائم کرکے تمام ممکنہ طریقوں اور راستوں سے اس کے حل کی جانب پوری قوت اور جرأت کے ساتھ آ گے بڑھنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں