syed-nazir-gilani

اللہ ہدایت دے

میں کل شام جنیوا سے واپس آیاہوں ۔۔کچھ احباب سے پتہ چلا کہ وادی کشمیر کی صورتحال ہماری معلومات سے کئی گناء زیادہ ابتر ہے اور ایک اندازے کے مطابق دس ہزار نوجوان خفیہ عقوبت خانوں میں بند اور زیر تشدد ہیں ۔ کرفیو کی وجہ سے مقامی لوگ بھی ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر ہیں ۔
اس صورتحال میں ہم سب نے اپنی بساط اور علم کی قدرت کے مطابق اپنا اپنا فرضن ادا کرنا ہے ۔ کام کی صحت اور معتبریت کے لئے اشد ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کریں اور بہتر نتائج کے لئے جہاں تک ہو سکے مل کر کام کریں ۔

ہم میں سے کچھ احباب ماضی قریب میں الگ مسجد بنا کر خود کو کشمیر کے فرعون ہونے کی دعویدار ی کی فاش غلطی کر بیٹھے۔ اپنی غلطیوں کی وجہ سے کچھ وعدہ معاف گواہ بن جانے پر آمادہ ہوگے اور کچھ اعتکاف میں بیٹھ کر کمائے ہوئے کھوٹے سکوں کو اور سکے انہیں دیکھ رہے ہیں ۔

فرعونوں اور وعدہ معاف گواہوں کی اس سنت کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے قرب میں ھونے والے کام کی صحت کو پرکھیں اور اس کی معتبریت میں حصہ ڈالنے کے لئے پہل کریں اور الگ الگ کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں ۔

اللہ ہم سب کو ہدایت دے

اپنا تبصرہ بھیجیں