ایک پولیس والے نےبیس کروڑ کے گریبان چاک کردیئے

نوٹ:یہ تحریر پولیس آفیسر کی ہے جس نے بندوق چھوڑ کرقلم پکڑا تو سب کے گریبان چاک کردیئے۔نام صیغہ راز میں ہے

سیدھے ہو کر بیٹھو کہ میں سیدھی بات کرتا ہوں اور کان کھول کر سنو کہ میں منہ پھاڑ کر بات نہیں کرتا-میں پولیس افسر ہوں، میں پریڈ گراؤنڈ کا تربیت یافتہ مردِ جری ہوں- جب تم تھک تھک کر گرنا شروع ہوتے ہو تو میں دوڑنا شروع کرتا ہوں؛ جب گرم لو کے تھپیڑے تھپڑ مار مار کر تمہیں درختوں اور دیواروں کے سائے میں دھکیل دیتے ہیں میں کھولتے ہوئے تارکول پر سنگِ میل کی طرح ایستادہ، منزلوں کے نشان بتلاتا ہوں؛ جب ٹھنڈی اور یخ بستہ ہوائیں تعاقب کرتی ہوئی تمہارے ہیٹروں، رضائیوں اور لحافوں کو شرمندہ کر رہی ہوتی ہیں، میں کسی عزم کا چہرہ آنکھوں میں لئے کہیں دریا کی لہریں عبور کر رہا ہوتا ہوں-

جب دن بھر کی مشقت سے ٹوٹتا ہوا کسی مزدور کا بدن ماں کی آغوش میں سر رکھ کر خوابوں کی وادی میں پاؤں دھرتا ہے میں ان خوابوں کی حفاظت کیلئے میدانِ عمل میں قدم رکھتا ہوں- تم سکون کی نیند سو سکتے ہو کہ میں جاگ رہا ہوں- مجھے سر اُٹھا کر اور سینہ تان کر چلنا سکھایا گیا ہے- میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہیں ایڑیاں زمین پر مار مار کر اور سر اُٹھا کر نخرے کے ساتھ چلتا ہوں- جب میں اور میرا دستہ کمر کس کر، کندھے سے کندھا اور پاؤں سے پاؤں ملا کر گھوڑے کی طرح ٹھک ٹھک ٹھک کرتے پیش قدمی کرتے ہیں تو مجرموں کے دل دھک دھک دھک کرنے لگتے ہیں- میری وردی کا چمکتا اور چھب دکھلاتا کلف اور میرے بازو سے بندھا ہوا بیج محافظ دِکھ جائے تو بڑے بڑے فرعونوں کی آنکھیں چندھیا اور شلواریں گیلی ہو جاتی ہیں- سنو ! وقت بہت کم ہے اور کام کافی پڑا ہوا ہے- ابھی تو جگر خون کر کے آنکھ سے ٹپکانا باقی ہے- جتنا کام مجھے دیا جاتا ہے اس کیلئے ایک اور زندگی چاہیئے- ع کام اتنا ہے کہ یک بار نہیں ہو سکتا- راتوں کو گشت اور ریڈز شروع ہوتے ہیں تو صبح دم پیشیاں اور وضاحتیں شروع ہو جاتی ہیں- ایک ایک دن میں چار چار دفتروں سے طلبی کا فرمان آ جاتا ہے- ایک دفتر کو جاتے ہیں تو دوسرا دفتر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتا ہے- بڑے دفتر والے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا؟ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کیا کیا؟؟؟؟ اور کیسے کیا؟؟؟؟ سو جیسے تیسے کرنا پڑتا ہے- کام جیسے تیسے کرنا ہو تو کئیوں کی ایسی تیسی کر کے ہوتا ہے- مجھ سے مت پوچھو، مجھے گالیاں مت دو کہ پولیس والا ایسا تیسا ہے ان گِدھوں اور گَدھوں کے پاس جاؤ جو قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس مکروہ نظام کے تانے بانے بن رہے ہیں- ووٹ دینے جاتے ہو تو پہلے آنکھیں کھول کر اپنے شہر کی سڑکوں اور گلیوں کو دیکھو پھر ٹھپہ لگاؤ ورنہ واپسی پر ضرور کسی سیوریج کے گڑھے کسی گٹر میں گرو گے-

ضرور پولیس آپ کے ٹیکس پر پل رہی ہے مگر ایماندار پولیس والوں کے پیٹ پر بندھا ہوا پتھر اور اپنا گریبان بھی جھانک کر کبھی دیکھ لو- تھانیدار کی تنخواہ سترہ سالہ سروس کے بعد 35000 روپے ہوتی ہو تو ایمانداری بوٹ کا تسمہ نہیں کہ خرید کر باندھ لیں نہ قمیص کا بٹن ہے کہ گریبان کے چاک پر لگا لیں- تھانیداری کرنی ہے تو ماہانہ مبلغ ایک لاکھ روپیہ سکہ رائج الوقت کہ نصف جن کے پچاس ہزار روپے ہوتے ہیں، جیب میں ہونا چاہیئے ورنہ جائیں کسی مسجد میں امامت کریں اور امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کی دعا کریں- یہ مافیاز کا معاشرہ ہے جہاں مجرم بِھڑوں کے چھتے اور عوام بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح رہتے ہیں- آبادی کروڑوں میں جا پہنچی ہے اور پولیس کی نفری ابھی ہزاروں تک بھی نہیں پہنچی- نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تم کہتے ہو تم تھانے آؤ تو ہم دھیمے سروں میں تمہیں لوریاں دیں؟ تم چاہتے ہو ناکوں پر کھڑے ہو کر ہم شعر وادب اور گل و بلبل کی داستانیں چھیڑ دیں اور تم سر دھنو-

سنو! وقت بہت کم ہے اور کام زیادہ ہے، نام پوچھیں تو بتاؤ اور گاڑی کے کاغذ مانگیں تو دو کہ یہ تمہاری قانونی ذمہ داری ہے – حسب نسب، بڑی گاڑی اور سفید کپڑے دکھانے مقصود ہوں تو لاہور کی سڑکوں پر محافظ سکواڈ کے ہاتھوں سِٹنگ ڈی پی او کی دھنائی یاد رکھو- اور سنو یہ نہیں ہو سکتا کہ تم کسی اوندھے پڑے آئل ٹینکر کو لوٹنے کیلئے ہزاروں کا جتھہ بنا کر آؤ اور دس پولیس والے پھولوں کے ہار لیکر تمہیں روکنے آئیں-تم کون سا معاشرہ ہو، تم بھی تو بھیڑوں کا ریوڑ ہو- ریوڑ ہی تو ہو کہ ستر سالوں میں جس کا جی جدھر چاہا تمہیں ہانک کر لے گیا- پھر کہتا ہوں کہ ہاں ریوڑ ہی تو ہو کہ “سٹک” دیکھ کر راہ بدل لیتے ہو-ہم جانتے ہیں کہ ہم عوامی ٹیکس کی جیب سے تنخواہ لیتے ہیں، ہم حاکم نہیں خادم ہیں، مگر دیکھتے نہیں کہ پولیس افسر اتنا کمزور ہے کہ ایک حرام زادے نے گاڑی تلے کچل ڈالا اور کسی نے پوچھا تک نہیں؟ دیکھو اور یہیں سے دیکھ لو کہ تمہارے دئیے ہوئے ٹیکس کون کھا رہا ہے؟ ارے ٹیکس کے کچھ لگتے، جو جتنا کھا رہا ہے اس سے اتنا حساب مانگو- حساب پورا نہ ملے تو ای سی ایل میں نام ڈالو اور بھاگنے مت دو- پولیس کو تحفظ دو تاکہ وہ تمہیں تحفظ دے اور پیٹ بھر کھانا دو تاکہ وہ تمہارے دستر خوان پر نہ لپکے-

رواج چل نکلا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وردی پیٹی اتروانے اورٹرانسفر پوسٹنگ کی دھمکیاں دیتا ہے- محاورہ ہو چلا ہے کہ پولیس والا ایک روپے کے سادہ کاغذ کی مار ہے- جان و مال اور عزت و آبرو کے رکھوالوں کی یہی عزت ہے کہ تم انہیں دو کوڑی کا بنا دو؟ ملزم کپڑوں پر کلف اور گردن چار ستر کا سریہ ڈالکر بیٹھا ہو اور تفتیشی افسر دفتر کی دھول برساتی ہوئی دیواروں میں پھٹی پرانی سرکاری وردی پہن کر بیٹھا گرتی پڑتی دیمک زدہ کرسی سنبھال رہا ہو تو مل گیا غریب کو انصاف، ہو گیا مقدمہ یکسو، پڑ گئی عوام کے کلیجے میں ٹھنڈک- رزق کی دولت اور نعمت تقسیم کرنے والےخدا کی قسم جس ٹیکس کی تنخواہ کا رونا تم روتے ہو اس میں تو بوٹ بھی ڈھنگ سے پالش نہیں ہوتے ، بچوں کا پیٹ کیا بھرے گا؟؟حوصلہ پیدا کرو اور ظرف بڑا کر کے سنو کہ ہم سیلف میڈ ادارہ ہیں- گرانٹیں کھانے والے اور بڑی میزوں کی اوٹ میں بیٹھ کر پیٹ بھرنے والے خوش پوش و خوش گفتار افسروں کی طرف مت دیکھو، ظلمات کی لہروں بحروں میں غوطے کھاتے جوانوں کی طرف دیکھو کہ تم نے انہیں کیا دیا؟ اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈال کر پوچھتے ہو کہ ذائقہ کیسا تھا! آنکھیں جلاتے ہیں، موسم گنواتے ہیں، تہوار قربان کرتے اور شہادتیں پیش کرتے ہیں، کوئی بات نہیں یہ فرض ہے مگر کیا کوئی جاہل اور گنوار عورت خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لے تو قتلِ عمد اور دہشت گردی کے مقدمہ میں چالان ہونا اور جیلیں کاٹنا بھی فرض ہے؟؟؟؟سنو! عادتاً پولیس افسروں اور ڈیپارٹمنٹ پر لعن طعن کرنے والوں کے ساتھ ملکر اپنا تشخص برباد مت کر لینا- سڑکوں پر بیٹھے کتے بھونکتے ہوئے لشکارے مارتی اور فراٹے بھرتی کار کے پیچھے بھاگتے ہیں اور واپس آ کر اگلی گاڑی کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں- آوازِ سگاں کسی گدا کا رزق کم کرسکتی ہے اور نہ کسی مسافر کا سفر کھوٹا کر سکتی ہے-

تسلیم کہ غلطیاں ہوتی ہیں، غلطیاں ہوتی ہیں کہ لغزشیں حسنِ آدمیت ہیں- مگر دیکھو کہ ہم امن وامان کے قیام، جرائم کے انسداد کی ذمہ داری نبھانے اور شبانہ روز ڈیوٹی کی مشقت جھیلنے کے ساتھ ساتھ ہشت پہلو دہشت گردی سے برسرِ پیکار ہیں- ایسے میں ہماری پشت خالی مت چھوڑیں- یہ جنگ گلیوں اور محلوں میں لڑی جا رہی ہے اور گلیوں اور محلوں کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا- تمہاری نفرت دشمن کے وار سے زیادہ مہلک ہے- غفلت اور بد عنوانی کی سزا دیں مگر مردہ باد کے نعرے مارتا ہوا ہجوم سڑکوں پر مت بھیجیں- وعدہ رہا کہ تھانہ شرفاء کیلئے دارلامن اور بدمعاشوں کیلئے دارالحساب کے دعویٰ کی عملی تفسیر پیش کرے گا-آئیں میرے ساتھ فلیگ مارچ پر نکلیں- یہ دیکھیں میرا ٹرن آؤٹ پہلے سے کہیں بہتر ہے- آئینوں کو شرماتے ہوئے بوٹ اور کفن جیسی مقدس، مکلف وردی- جب میں اور میرا دستہ سر اٹھا کر، چھاتی پھلا کر، کندھے سے کندھا اور پاؤں سے پاؤں ملا کر ٹھک ٹھک ٹھک کرتے ہوئے گلیوں اور محلوں میں آئیں تو گھروں کی دہلیز پر آکر محبت کے پھول نچھاور کریں تاکہ سماج مخالف اور امن دشمن مجرموں کے دل خوف سے دھک دھک دھک کرنے لگیں-ہمیں بھی محبت، عزت اور احترام دیںکہ پُھول اِس گلستاں کے ہم بھی ہیں۔