کھیلوں سے کھلواڑ کب تک؟

ابھی ابھی ایک اور خبر پڑھی، دل مزید افسردہ ہو گیا۔ میرا ایک دوست کہتا تھا کوئی خبر اچھی خبر نہیں ہوتی۔ وہ بات آج کل بالکل ٹھیک محسوس ہوتی ہے۔ پہلے بھی احباب واقف ہوں گے مختلف سپورٹس فیڈریشنز میں ہونے والی بد انتظامیوں سے، لڑائیوں اور اختلافات سے سپورٹس فیڈریشنز تو ایک طرف ان فیڈریشنز کی ماں جو دنیا میں نیشنل اولمپک کمیٹی اور ہمارے یہاں اسے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن یعنی پی او اے کہتے ہیں۔

اس کھیلوں کی ماں نے ہی دو شادیاں رچا لیں. کیس سپریم کورٹ میں بھی چلا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھی فیصلہ اس کے حق میں کیا جس کے پاس پہلے سے قبضہ تھا۔
ایک روز لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے پاکستان سپورٹس بورڈ میں پی او اے کے حوالہ سے ملاقاتیں کیں اور اس کے بعد میڈیا ٹاک کی۔ اس گفتگو کا مرکز و محور وہ خود ہی تھے۔ جو بات بھی کرتے وہ ان کے گرد ہی گھومتی تھی۔لب لباب یہ تھا کہ اگر وہ پی اواے کے صدر نہ رہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک سے کھیل ختم ہو جائیں گے۔ کہتے تھے میں صدر رہا تو ٹھیک ہے نہیں تو آئی او سی پاکستان پر پابندی لگا دے گی۔

میں نے ایک سوال کیا کہ جناب آپ کی پریس کانفرنس سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اس ادارہ کے لیے ناگزیر ہیں اور آپ کو ہٹایا گیا تو ادارہ ختم ہو جائے گا، کیاکوئی بھی شخص دنیا میں ناگزیر ہوتا ہے؟
میرے سوال پر وہ برہم ہو گئے کہنے لگے میں اپنے آپ کو ناگزیر نہیں سمجھتا یہ آئی او سی کا فیصلہ ہے۔ اگر مجھے ہٹایا گیا تو پاکستان کو اولمپک سمیت کسی بھی عالمی مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

ہائے ری قسمت، کوئی بھی ملک دیکھ لیجئے۔۔ یہی معاملہ بھارت کو درپیش ہوا تو انہوں نے کہا ہم پابندی لگوا لیں گے. لیکن یہاں چونکہ پی او اے کے صدر، سیکرٹری کے علاوہ بھی کچھ دوست ہوتے ہیں جن کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں وہ مشکل فیصلے نہیں لینے دیتے۔کہتے ہیں بہت مشکلات ہو جائیں گی۔ اگر مشکلات ہو ہی جائیں تو بہتر ہو گا ہم جہاں جاتے ہیں کیا لاتے ہیں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں مگر میڈلز تو دور ہم لوگ پہلے راؤنڈز سے آگے نہیں جا پاتے۔ پھر بھی چند لوگوں کو ڈالرز مل جاتے ہیں ، بیرونی دورے مل جاتے ہیں۔

میں سوچا کرتا تھا کہ کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ ایک شخص جو کسی بھی سپورٹس تنظیم کا عہدے دار بن جائے تو کبھی چھوڑنے کا نام نہیں لیتا، سپورٹس پالیسی بھی بنا لی جائے جس میں یہ کہا جائے کہ دو مدت سے زیادہ کوئی بھی کسی سپورٹس فیڈریشن کا صدر ، سیکرٹری نہیں رہ سکتا۔ پھر بھی نتیجہ صفراب بھی سپورٹس فیڈریشنز میں وہ ہی لوگ دکھائی دیں گے جو آپ نے بچپن میں دیکھ رکھے ہوں۔

کوئی سیکرٹری ہوتا ہے تو وہ صدر بن جاتا ہے. جو صدر ہوتا ہے وہ چیئرمین بن جاتا ہے. مطلب جگہ نہیں چھوڑنی کیا یہ صرف کھیلوں سے محبت ہوتی ہے یا کسی اور چیز کی محبت انہیں یہ نہیں کرنے دیتی۔ اس پر بات بعد میں کریں گے۔ فی الحال چلتے ہیں اس خبر کی طرف آج کی خبر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو فیفا سے ملنے والا ڈویلپمنٹ فنڈ روک لیا گیا۔ وجہ پھر وہ ہی، دو متوازی تنظیمیں.

ایک دوست سے اس صورتحال پر بات ہو رہی تھی کہنے لگا۔ سب مایا ہے، اس میں سب سے بڑا کمال پی او اے کا ہے جسے آٹھ سے دس کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں، یہ رقم کھیلوں کے فروغ، کھلاڑیوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے ہیں مگریہ استعمال کہاں ہوتے ہیں؟ یہ ایک کھلا راز ہے۔ خود صدر ، سیکرٹری پی او اے اور ان کے اہل خانہ کے غیر ملکی دوروں کے دوران فائیو سٹار سہولیات کے لیے تو ضرور ہوتا ہے اس کا تو ہم سب کو پتہ ہے۔ کھیل کا فروغ کیسے ہو گا؟

پھر پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل، وزارت کے سیکرٹری یا وزیر یا پھر ان کے نامزد کردہ افراد، ڈی جی سپورٹس بورڈ کی چمچہ گیری کرنے والے افراد، یہ سب غیر ملکی دورے بھی کرتے رہتے ہیں اور ڈالرز بھی کماتے ہیں۔
کھیلوں کی تنزلی کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ یہ لوگ انفرادی حیثیت میں انعام جیت کر آنے والے پاکستانی اتھلیٹ کے خلاف بھی دنیا میں خود خط لکھتے ہیں۔ اس حوالہ سے پاکستانی ریسلر کا کیس ایک اپنی طرز کا منفرد کیس ہے، یہ شخص خود انفرادی حیثیت میں بیرون ملک گیا، میڈل جیت کر واپس آیا مگر سپورٹس بورڈ کے خط کے باعث اسے یہ اعزاز لوٹانا پڑا، خیر اس پر بات پھر کبھی سہی.

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو فیفا کی جانب سے ساڑھے بارہ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم مل رہی تھی ، ڈویلپمنٹ کی مد میں ۔ یہ رقم اس سے قبل چارلاکھ ڈالر تھی جو بڑھائی گئی تھی، اس اضافہ کے وقت یہ بات خاص طور پر فیفا رکن ممالک کو بتائی گئی تھی کہ یہ رقم صرف فٹ بال کے لیے ہے اس کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے. اب یہ ڈویلپمنٹ کس کی ہو رہی تھی یہ نہیں معلوم، فٹ بال کی ترقی اگر دکھائی دی ہے تو صرف سٹریٹ چلڈرن میں اور اس میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں تھا، یہ سب ایک غیر سرکاری تنظیم مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کا ہے، اس فلاحی تنظیم کے ڈائریکٹر پاکستان ضیا النور شاہ کو ہم اس حوالہ سے محنت کرتا دیکھتے ہیں۔ فیفا سے ملنے والے فنڈ سے کچھ اور لوگوں کی ترقی تو ہو سکتی ہے ناں اور وہ ہو بھی رہی ہے۔

کھیل کا کیا ہے جناب…!!! کھیل بھی کبھی ترقی کر ہی لے گا، یہاں سب کو بہت جلدی ہے۔ پہلے اپنی جیبیں تو بھر لی جائیں پھر کھیلوں کی ترقی کے بارے میں بھی سوچا جائے گا۔ جلدی کیا ہے؟ یہ رویہ ہے جس کے باعث سپورٹس فیڈریشنز کے کرتا دھرتاؤں نے کھیل تباہ کیے ہیں۔ یہی رویہ ہے جس کے باعث آج ہمارے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کبھی کبھی بیرون ملک سے پاکستان کے دورے پر بھی آتے ہیں۔ عموماً وہ کھیلوں کے فروغ کے لیے بیرون ملک دورے کرتے رہتے ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے کہ وہ پاکستان نہیں آتے ، مہینے میں ایک دو بار تو چکر لگا ہی لیتے ہیں۔ جب مجبوراً انہیں سفر کرنا پڑے کیونکہ سٹاف ان کا ٹکٹ زبردستی بنوا دیتا ہے تو یہ اگلے روز ہی واپس بھی آ جاتے ہیں۔

اسے کہتے ہیں اپنے ملک سے پیار، یہ ان کا ملک سے پیار ہی تو ہے جس کی بدولت یہ لوگ مجبوراً کوئی سپورٹس فیڈریشن میں، کوئی پی او اے میں ، تو کوئی بے چارہ پاکستان سپورٹس بورڈ میں کام کرتا ہے. کھیل کا فروغ ان کا بنیادی مقصد ہے، ہو سکتا ہے اپنی زندگی میں کبھی یہ اس کے لیے کام کر ہی لیں. ورنہ جب یہ جنت پہنچیں گے تو یہ وہاں اس کے لیے کام شروع کر سکتے ہیں. دودھ اور شہد کی نہریں تو وہاں بہتی ہوں گی، ان نہروں کے کنارے بیچ گیمز کے انعقاد کے لیے کام تو یہ تمام لوگ کر ہی لیں گے ظاہر ہے وہاں کوئی بھی فرشتہ یا حور کسی کام پر کمیشن تو نہیں ادا کریں گے تو یہ لوگ وہاں سیدھے سیدھے کام کریں گے. وہاں کوئی کک بیکس نہیں ہوں گے، کوئی کسی کو کسی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے کمیشن نہیں مانگے گا۔

اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ وہاں کسی کو اپنی پاپی پیٹ کی پرواہ نہیں ہو گی، وہاں سب چیزیں دستیاب ہوں گی. لیکن یہ اپنے گنجیرا صاحب، اپنے عارف حسن صاحب، یہ بہت تیز لوگ ہیں یہ وہاں بھی شاید کوئی نہ کوئی چکر چلا کر کوئی ایسا راستہ بنا لیں جس سے دودھ اور شہد کی نہروں میں اضافہ کیا جا سکے. سب کچھ ہو سکتا ہے بس نیت ٹھیک ہونی چاہئے اور ان کی نیت سے تو ہم واقف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں