ہمیں موت سے نہیں زندگی سے ڈر لگتا ہے

میں اکثر سوچتی ہوں کہ یہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار انسان بناتا ہی کیوں ہے. یہ زیادہ سے زیادہ انسان کی جان ہی لے سکتے ہیں کسی کو زندگی دے تو نہیں سکتے. جنگ ہو تو یہ خطرناک کھلونے بستیاں اجاڑ دیتے ہیں، زمینیں بنجر ، زندگی کا نام و نشاں فنا کر دیتے ہیں. جنگ نہیں ہوتی تو بھی ”ناقابلِ تسخیر دفاع” کی ضمانت سمجھے جانے والے یہ بارود کے ذخیرے کتنے ہی انسانوں کے منہ کا نوالہ چھین کر انہیں زندگی کی کشمکش سے دوچار کر دیتے ہیں.

لیکن افسوس کہ ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے بیٹھ کر جنگی بھاشن دینے والے خود ساختہ ”تھنک ٹینکس” کو انسانی زندگی کا یہ خوفناک ترین پہلو نظر ہی نہیں آتا. جنگ کے تو اور بھی میدان ہیں. اگر جنگ ناگزیر ہے تو امن کے لئے کیوں نہیں، غربت زدہ لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لئے کیوں نہیں، بقائے باہمی کے لئے کیوں نہیں…؟؟؟

آر پار ایسے لوگوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جن کی زندگیاں موت سے بھی بدتر ہیں. جن کی تگ و دو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے تک ہے، ایسے لوگوں کے لئے ایٹمی جنگ کیا معنی جو اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں روز کئی بار مرتے کئی بار جیتے ہیں. یہ سیہ بخت لوگ موت سے نہیں زندگی سے ڈرتے ہوں گے. موت سے بدتر زندگی سے.

مہاراشٹرا کے غربت کے ڈسے ہوئے خودکشیاں کرنے والے کسان ہوں یا صحرائے تھر کے بھوک پیاس سے بِلکتے دم توڑتے انسان، سب کا مشترک المیہ غربت ہے اور غربت غلامی کا دوسرا نام ہے. یہ آزاد ملکوں کے غلام شہری کہ لفظ ”آزادی” ان کے لئے سراب کے سوا کچھ بھی نہیں. یہ غلامی کا جدید انداز ہے کہ شہریوں کا استحصال ریاست کے ہاتھوں منظم انداز میں ہو رہا ہو اور کارپوریٹ میڈیا استحصالی قوتوں کا آلہ کار بن جائے.

آج بھی آر پار کے پسماندہ دیہاتوں میں زندگی کے کسی معنی سے ناآشنا مرد نشہ کرتے بےکار پڑے رہتے ہیں اور انکی عورتیں ساراسارا دن روزی روٹی کے لئے جانفشانی کرتی ہیں نہ صرف بچوں بلکہ اس نشہ آور مخلوق کے نان نفقے کا انتظام بھی ان بےبس و لاچار عورتوں کے سر ہوتا ہے. یہ خود تو کام کرتی ہی ہیں لیکن جن معصوم پھولوں کے ہاتھ میں قلم کتاب ہونی چاہیئے یہ اُن کے ہاتھوں میں بھی کشکول تھما دیتی ہیں کہ حالات کے جبر کا شکار یہ عورتیں اور کر بھی کیا سکتی ہیں.

کیا غربت اور جہالت کی غلاظت کو دھوئے بغیر ترقی ممکن ہے ؟ آزادی ممکن ہے؟ نہیں نا…! کوئی بھی ذی شعور لوگوں کی اکثریت کو غربت اور جہالت کی اندھیر نگری میں دھکیل کر ”ناقابلِ تسخیر ملکی دفاع” کی ترجیحاً حمایت نہیں کر سکتا.

اس لئے کہ صرف بارود کے ذخیرے اور سرحدوں پر کھڑے ہونے والے محافظ ہی ملکی دفاع کی ضمانت نہیں ہوتے بلکہ لازمی طور پر ریاست کے شہریوں کا معیارِ زندگی ، ملک کی اقتصادیات ،بنیادی سہولیات تک رسائی کے معاملے میں یکسانیت یا معاشی ناہمواریاں، ریاست اور شہریوں میں ابلاغ کی مثالی صورتِ حال یا ”کمیونیکیشن گیپ” اور دیگر کئی عوامل ملکی دفاع ، قومی وحدت اور خوشحالی کا تعین کرتے ہیں۔ لیکن جن جغرافیائی حد بندیوں میں ہم رہتے ہیں یہاں تصویر کا اصل رُخ اس کے برعکس ہے۔

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کچھ باتیں میرے ذہن پر مسلّط کر دی گئی ہیں۔ بلکہ صرف میں کیوں لکیر کے دونوں طرف معاملہ یکساں ہے۔ ہمیں لازمی نصاب کے طور پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور یہ دُشمنی نسل در نسل چلنی ہے. کیوں مگر؟ مانا کہ بٹوارے کے وقت بھاینک ترین فسادات ہوئے، لاشیں گریں، لوگ بےگھر ہوئے، ظلم و زیادتیوں کی تاریخ رقم ہوئی ، مگر کیا ہمیں ہمیشہ انہی تلخ حقائق کی چھتری تلے زندہ رہنا ہے؟ کیا ہم نے دُشمنی کو ہی پروان چڑھانا ہے؟

غور طلب بات تو یہ بھی ہے کہ جو لوگ برصغیر میں تجارت کی غرض سے آئے پھر برِصغیر کے باشندوں پر ایک صدی سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کرتے رہے۔ ایسا کیوں کہ آج ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے انہی لوگوں کی حمایت ،ثالثی یا مداخلت تو گوارہ کر لینے کے لئے تیار ہیں لیکن اپنے معاملات مِل بیٹھ کر بھگتانے کو تیار نہیں. شاید اس لئے کہ ذہنی غلامی کا تسلسل برقرار ہے۔

جب سے کشمیر میں اُوڑی کا مبینہ واقعہ ہوا ہے ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں بحث کا پہلو یہ ہے کہ کون سے جنگی حربوں سے پاکستان کو مات دی جائے کیونکہ یہ ہندوستان کی عزت وآبرو کا سوال ہے۔ میرے خیال میں یہ ہندوستان کی نہیں بلکہ مُودی کی ”عزت و آبرو” کا سوال ہے اور ہندوستانی میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ مُودی کو ہر حال میں ”مردِ بحران” ثابت کرنا ہے۔

عوام میں جنگی جنون ابھار کر اس مہارت سے مُودی سرکار کے حق میں فضا ہموار کی جا رہی ہے کہ اصل مُدعے پسِ منظر میں چلے گئے ہیں۔ مثلاً کوئی بھی لکھاری اس پر بات کرنے کو تیار نہیں کہ پچھلے تین ماہ سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد اور ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟ پچھلے چھ عشروں سے متنازعہ جموں کشمیر میں اٹھنے اور دبنے والی بےچینی اور بغاوت کی لہروں کے اصل محرکات کیا ہیں ؟ مسئلے کا پُرامن حل کیا ہے؟

اگر طاقت کا استعمال مسئلے کا حل ہے تو مسئلہ خوفناک شکل کیوں اختیار کرتا جا رہا ہے؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ اسّی کی دہائی کے آخر میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے جب ضیاالحق کی فوجی حکومت نے کشمیر میں مجاہدین داخل کر کہ ہندوستانی فوجوں کو کشمیر سے اُسی طرح پسپا کرنے کی سُوجھی جس طرح سوویت فوجیں افغانستان سے پسپا ہوئی تھیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاملہ اسّی کی دہائی کے آخر یا نوے میں شروع ہوا تو اس سے قبل اڑتالیس، پینسٹھ اور اکہتر میں پاک بھارت جنگ کیوں لڑی گئی؟ اور بالفرض یہ جنگیں نہ بھی لڑی جاتیں اور کراس بارڈر دراندازی کا معاملہ نہ بھی ہوتا تو پھر بھی کشمیر کے جوان خون نے یہ سوالات تو اٹھانے ہی تھے کہ آخر ریاست کے سینے پر ایک لکیر کھینچ کر دونوں طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کے کشمیری کو اپنے ہی دیس کے دوسرے حصّے میں جانے کی اجازت نہیں ؟

المختصر مسئلہ کشمیر حل طلب تھا اور ہے اگر یہ مسئلہ پُرامن طریقے سے منطقی انجام تک نہیں پہنچتا تو خطے میں نہ صرف تناؤ کو جنم دے گا بلکہ ایٹمی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
جو لوگ جنگ کے ہولناک نقصانات سے زیادہ جنگ کے ”مثبت” پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے اور رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں وہ اپنی توانائیاں اگر دوسری طرف لگا دیں اور پالیسی سازوں کو نہ صرف یہ باور کرائیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ درست سمت میں چلنے کے لئے ضروری دباؤ بھی ڈالیں تو بہتر فیصلوں کی امید کی جا سکتی ہے۔

جن مُدعوں پر تواتر سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ان میں غربت اور پسماندگی کا خاتمہ سرِفہرست ہونا چایئے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ عالمی بینک نے غربت کے جو حالیہ اعداد و شمارجاری کئے ہیں ان میں بھارت میں غریبوں کی حالتِ زار کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بدتر دکھایا گیا ہے جہاں غریبوں کی قوتِ خرید کم سے کم ہوتی جا رہی ہے ۔

دوسری طرف حکومتِ پاکستان غربت کے جو اعداد و شمار بتاتی ہے اس کے مطابق ملک میں تقریباً ساٹھ ملین (چھ کروڑ ) لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں طرف غربت انسانوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ جو لوگ اس بھیانک مسئلے کا شکار ہیں انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کے ملک کے اخبارات کی بڑی سُرخی کیا ہے یا نیوز چینلز کے پرائم ٹائم شوز کے مباحثوں و تکرار کا موضوع کیا ہے ۔

انہیں دو وقت کی روٹی سے مطلب ہے اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ پاک بھارت ایٹمی جنگ کے امکانات کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو شاید وہ یہی کہیں گے….ہمیں جنگ سے ڈر نہیں لگتا. ہمیں ایٹمی جنگ سے بھی ڈر نہیں لگتا.
ہم ڈرتے ہیں تو زندگی سے….موت سے بدتر زندگی سے

اپنا تبصرہ بھیجیں