کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

آزاد کشمیر کے سابق بیوروکریٹ و انٹیلیکچوئل سلیم بسمل ایک نجی محفل میں بتاتے ہیں کہ وہ جب سوئٹزر لینڈ کے دورےپر گئے تو ایک تفریحی مقام پردیکھا کہ سڑک کو بہت گھما کر اورلمبا چکر دے کر وہاں لایا گیا تھا حالانکہ اس پارک کے عین سامنے سے روڈ کو ٹرن دیکر اندر لایا جا سکتا تھا۔۔۔ وجہ پوچھنے پر ایک سیکیورٹی گارڈ نے مشکوک نظروں سے مجھےگھورتے ہوئے الٹا سوال کر دیا کہ پاکستان سے آئے ہو کیا؟میں نےحیرت سے اثبات میں سر ہلایا تو گویا ہوا کہ دیکھ نہیں رہے کہ کتنے سرسبز و شاداب درخت راستے میں ہیں۔ حالانکہ یہی کوئی دو درخت راستےسے کاٹنے پڑتے لیکن کروڑوں روپے مزید صرف کر کے اور سروے بدل کر سڑک لانے کے تردد سے بچ جاتے۔

لیکن وہ قومیں اسی لئے ترقی کی معراج پر پہنچی ہیں کہ وہ درخت و جنگلات کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔جبکہ ہماری تنزلی و زوال کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے اس بیش قیمت اثاثے کا کوئی شعور و احساس نہیں جو اللہ عزوجل نے ہرے بھرے اور سرسبزو شاداب جنگلات۔ جڑی بوٹیوں اور قیمتی پتھروں (نیلم۔روبی۔یاقوت۔مرجان و پکھراج وغیرہ)کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے۔جو عرصہ دراز سے حکومت کے تعاون سے پاکستان اسمگل ہو رہا ہے۔۔۔اور وہ وقت دور نہیں جب نیلم و اٹھمقام سے لیکر خواجہ بانڈی و ہلاں کوپرے تک ہمارا علاقہ قدرتی حسن سے محروم ہو کر بے آب و گیاہ اور چٹیل پہاڑوں کی صورت میں ڈھل جائیگا۔یوں تو حکومت کا ایک محکمہ ہمارے ان بیش قیمت جنگلات کی حفاظت پر مامور ہے لیکن محکمہ جنگلات آزاد کشمیر سارے کا حال ابتر و ناگفتہ بہ ہے تاہم ضلع حویلی کہوٹہ میں اس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ۔۔۔ٹمبر مافیا دن دیہاڑے جنگلات کا صفایا کر کےقدرتی حسن کو گنوا رہا ہے۔۔۔جو کہ فاریسٹ گارڈز کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔۔۔

چونکہ دور دراز علاقوں میں سڑکیں نہ ہونے کے باعث محکمہ کےسنئیر اہلکار ان علاقوں کا دورہ کرنے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔۔۔دوسرا کوشش بھی کریں تو ان کی لٹکتی توندیں پیدل چلنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔جسکی وجہ سے فاریسٹ گارڈز جنگل کے سیاہ وسفید کےمالک ہوتے ہیں اور وہ مقامی مافیا کے ساتھ مل کر تیزی کے ساتھ جنگلات کا صفایا کر رہے ہیں۔پوچھ گچھ پر سوکھے درختوں کا اندراج کر کے اور آفیسران بالا کو ان کا حصہ دیکر منہ بند کر دیا جاتا ہے۔جنگل کی حفاظت کے پیش نظربعض جگہوں پر مقامی لوگوں پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو جنگل کی حفاظت کے بجائے درخت کاٹ کر بیچنے پر کمر بستہ ہیں۔لیکن بااثر ہونے کے باعث محکمہ ان کے خلاف کوئی مثل بنانے یا قانونی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔۔۔تحصیل خورشید آباد کے علاقہ پتن و سنکھ اور اس کے قرب و جوار میں مقامی بااثر لوگ ایک خشک درخت کا پرمٹ لیکر اس کی آڑ میں متعدد ہرے بھرےدرخت گرا کر لکڑی بیچنے کا مکروہ دھندہ کرتے ہیں جو سارا سیزن منعلقہ اہکاران کی آشیر باد سے جاری و ساری رہتا ہے۔فاریسٹ گارڈ چونکہ انہی با اثر لوگوں کے گھروں میں رہائش پذیر ہوتا ہے اسلئے مقتضائے وقت کے پیشٍ نظر وہ ان سے بیر مول لینے کے بجائے خود بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لینافرضٍ عین سمجھتا ہے۔

ملوث اہلکاران کے خلاف شکایت کی صورت میں جو انکوائری ٹیم مقرر کی جاتی ہے اس میں محکمہ جنگلات ہی کے لوگ ہوتے ہیں جو رسمی کارروائی کے بعد “سب اچھا ہے” کی رپورٹ اوپر بھیج دیتے ہیں۔ اور جنگلات کی کٹائی و صفائی کا کام تسلی بخش طریقہ سے جاری و ساری رہتا ہے۔ جبکہ کاچر بن۔گلی اور کالو ڈھیری سے لیکر ہلاں بالا۔ مرگی۔جھولی و مہندے تک اکلاس و محکمہ جنگلات درختوں کی کٹائی کر کےپاکستان و ضلعی ڈپوؤں پر تیزی کے ساتھ اسمگل کرنے میں مصروف ہیں۔جس سے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات و انسانی آبادی خطرے(Hazard ) سے دوچار ہے۔صرف آرمی کا مخصوص ایریا ہی ان کی دستبرد سے محفوظ ہے ورنہ سرحد پار سے بھی درخت کاٹنے سے گریز نہ کیا جاتا۔۔۔چیڑ یاصنوبر۔دیاراور فر کے درخت کو جوان ہونے میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے اور ہمارے عاقبت نااندیش لوگ آنٍ واحد میں کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں۔جس پر مستزاد یہ کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔۔۔کہ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ٰ کے مصداق محکمہ کے نااہل۔فرض ناشناس اور کرپٹ لوگ ان کے سہولت کار بن چکے ہیں۔۔۔کہ بقول فیضبنے ہیں اہلٍ ہوس مدعی بھی منصف بھی۔ ۔ ۔کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟