نقطہ نظر/فیصل بشیر کشمیری
نقطہ نظر/فیصل بشیر کشمیری

دو کہانیاں

دبئی پولیس کے بارے میں مشہور ہیکہ ایک بار پولیس سربراہ نے اپنی ٹیم کی کارکردگی دیکھنے کےلئے پرائیویٹ کار ڈرائیو کرتے ہوئے سرخ ٹریفک سگنل توڑا تو وہاں پہ موجود ایک سپاہی نے اپنی موٹر سائیکل اس کی گاڑی کے پیچھے لگا دی۔

سائرن کی آواز سنتے ہی بڑے صاحب نے گاڑی روک کر دی۔ پولیس اہلکار نے گاڑی سائیڈ پہ لگوا کہ سگنل توڑنے کے جرم میں ان کا چالان کاٹنے کی غرض سے لائسنس مانگا تو بڑے صاحب نے اپنا آئ ڈی کارڈ دکھایا اور اسے بتایا کہ میں تمھارے ادارے کا سربراہ ہوں ۔جوان نے ان کی طرف دیکھے بغیر نمبر پلیٹ کے مطابق چالان کاٹ کہ گاڑی کے فرنٹ شیشے پہ چسپاں کرنے کے بعد انہیں معزبانہ انداز میں سلیوٹ کیا اور اپنے کام کو چل نکلا۔۔

پولیس سربراہ نے بعد میں اُسے اپنے دفتر میں میں بلوا کر انعامات سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ جب تک میرے پاس ایسی پولیس ہو گی تب تک میرے ملک میں کسی بھی قسم کی کوئ سیکورٹی رسک نہیں ہو سکتی .اداروں کو اختیار دیا گیا اور یہی وجہ ہیکہ آج دبئی پولیس کا شمار دنیا کی بہترین پولیس میں ہوتا ہے۔

دوسری طرف ایک ایسے ترقی پزیر ملک جہاں کی ستر فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے وہاں کرسی کی لالچ میں ہر کوئ مختلف اداروں کو بدنام کرنے کے درپے ہے۔
اس ملک کے وزیر داخلہ صاحب اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ کو بچانے کےلئے جب بقدم خود تشریف لاتے ہیں تو لسٹ میں نام موجود نہ ہونے کیوجہ سے سیکورٹی اہل کاروں نے گیٹ سے اندر جانے سے روک دیا اور سلطان راہی سٹائل میں دھمکایا جاتا ہے کہ مجھے کیسے روک سکتے ہو کیونکہ میں وزیر داخلہ ہوں۔

پورے ملک میں اداروں کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی سا برپا ہو جاتا ہے اور وه لوگ طرح طرح کی تاویلیں پیش کر رہے ہیں جو گهنٹوں ٹریفک جام کا سامنا کسی وی، آی، پی کے گزرنے یا روٹ لگنے کی وجہ سے برداشت کرتے ہیں.
بلکہ برطانیہ کے سابقہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی پیٹرول پمپ پہ اپنے ہاتھوں پٹرول بھرنے کی مثالیں دینے والوں سے لیکر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سادگی کا درس دینے والے سب کہتے ہیں کہ وزیر داخلہ صاحب کے ساتھ بہت ظلم ہو گیا۔

آخر ایسا کیوں ہے اور خرابی کہاں ہے؟
سوچئے گا ضرور