ختم نبوت قانون میں ترمیم کے معاملے میں مسلم کانفرنس سعودی عرب میدان میں آگئی

سعودی عرب (راجہ ابرار احمد )ختم نبوت کے قانون پہ حملہ نا قابل برداشت ہےختم نبوت کی ترمیم جان بوجھ کے کی گئی یا بقول ن لیگ کے کسی کی غلطی سے ہوئی دونوں صورتوں میں ن-لیگ کی لیڈر شپ پر بہت بڑا سوال ہے ان خیالات کا اظہار آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس رابغ سعودی عرب کے صدر کامران بیگ، آرگنائزر سردار زبیر خان، سینئر نائب صدر چوہدری نوید سائل، جنرل سیکرٹری سردار ذوالفقار خان، اڈیشنل جنرل سیکرٹری اسرار حسین عباسی، نائب صدر غضنفر حسین، نائب صدر راجہ الیاس خان، جوائنٹ سیکرٹری غضنفر عباسی، سیکرٹری مالیات سردار ارشد خان، نائب سیکرٹری مالیات سردار عامر اکبر اور سیکرٹری اطلاعات بابر شریف نے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ-ن قائد اعظم کی مسلم لیگ ہونے کی دعویدار ہے اور آل انڈیا مسلم لیگ نے خالصتان اسلام کی نظریات پر ایک الگ ملک پاکستان حاصل کیا جس میں پہلی شرط اسلام ہے ایسی جماعت کے دعویدار سے اس طرح کی سنگین غلطی کا امکان ممکن نہیں ہوسکتا ۔

اس ترمیم کے پیچھے حکمرانوں کا مقصد یہ تھا کے بین الاقوامی دنیا اور میڈیا میں نوازشریف کا سافٹ اور لبرل امیج بنانے کی کوشش کی گئی اور یہ ترمیم اسکے لئے انتہائی ضروری تھی کیونکہ اس کو جواز بنا کے امریکہ اور یورپی دنیا کی خوشنودی اور امریکی اسٹبلشمنٹ کی بھرپور معاونت حاصل ہوتی ہمارا ایمان نبی کی ختم نبوت پہ ایمان نہ لانے کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔

یہاں نقطہ یہ ہے کہ اگر اس ملک کا آئین و قانون اسکیولر ہو تو الگ بات ہے جب ملک و آئین اسلامی ہے تو پھر ہم کیوں دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنے نبی کی عزت حرمت پہ کوئی آنچ آنے دیں ہم ایسی کسی ترمیم کو کیونکر مانیں ہم فساد و انتشار نہیں پھیلے گے مگر اس ختم نبوت کے قانون کے لئے آخری دم تک کھڑے رہے گے۔