سچی بات /یوسف عالمگیرین

12برس بیت گئے!

12برس بیت گئے اس سانحے کو جس نے لاکھوں افراد بے گھر کردئیے۔ لوگ اپنوں سے بچھڑ گئے۔ ہنستی بستی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئیں۔ جہاں خوشیاں لہلہاتی محسوس ہوتی تھیں وہاں غموں نے ڈیرے ڈال لئے۔ انسان کو اس دنیائے فانی کا حقیقی معنوں میں فانی ہونے کا احساس ہوا۔ کہ شروع دن سے انسان کو لحظ لحظہ اس امر کی تنبیہہ کی جاتی رہی ہے کہ یہ دنیا حقیقی نہیں ہے اور دنیا کی ہر شے کا خالق و مالک خدائے بزرگ و برتر ہے۔
پاکستان، دنیا میں آنے والی قیامتوں اور آفتوں میں ہر دم اور ہر لحظہ نوع انسانی کی فلاح میں اپنا کردار ادا کرتا چلا آیا ہے۔ ایران کا زلزلہ زدہ علاقہ بام ہو یا انڈونیشیا میں آنے والا سوانامی طوفان، ہماری قوم نے بڑھ چڑھ کر ان کی بحالی کے لئے کردار ادا کیا۔ لیکن ہم بے خبر تھے کہ 8 اکتوبر 2005ء کو خود ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہفتے کا روز اور صبح آٹھ بج کر باون منٹ کا وقت کہ زمین تھر تھرا اٹھی۔ پہاڑ پھٹ گئے، دریائوں کے رخ تبدیل ہوگئے، پتھریلے اور پکے راستے کھائیوں کی شکل اختیار کر گئے اور ہر سو ایک وحشت طاری ہوگئی۔ لیکن ان شدت آمیز واقعات کی کسی کو ابھی خبر نہ تھی۔ خبر تھی تو صرف ان کو جن کے سامنے ان کے گھر کے وہ لوگ جن کو کانٹا بھی چبھے تو تکلیف انہیں ہوتی تھی، خس و خاشاک کی طرح بے حس، مردہ جان پڑے۔ اپنی ہی چھتیں اور چار دیواریاں جہاں انسان خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، اپنے اوپر آن گری تھیں کہ وہ جس کے حکم سے کھڑی تھیں اس کے حکم سے گر گئیں۔ کسی کا ان پر کیا زور کہ انسان کی اپنی زندگی بھی تو اس کی اپنی نہیں ہوتی۔ پھر اس کے اپنے، اس کے کیونکر ہوئے۔
راقم بھی پاک فوج میں ’’فرسٹ سیچرڈے‘‘ ہونے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ گھر میں موجود تھا کہ شدید زلزلے کے جھٹکوں کی بنا پر ہم سب باہر کو لپکے۔زلزلہ رک گیا تو ہم بھی اسے نارمل اور روٹین کا زلزلہ سمجھتے ہوئے اپنے گھر میں واپس داخل ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی فون کی گھنٹی بج اٹھتی ہے۔ میں نے ریسیور اٹھایا، دوسری جانب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے اے ڈی پی آر، لیفٹیننٹ کرنل (اب برگیڈیئر)عتیق الرحمن تھے۔ ’’یوسف صاحب زلزلے سے بہت نقصان ہوگیا ہے آپ فوراً آفس پہنچیں۔‘‘ اگلے چند منٹوں بعد میں آئی ایس پی آر میں تھا۔ جہاں اس وقت کے ڈی جی میجر جنرل شوکت سلطان سمیت دیگر سینئر افسران بھی پہنچ چکے تھے۔ ہر طرف سے فون کالز کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ پاک فوج کی ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں اسلام آباد میں واقع مارگلہ ٹاورز میں اپنے کام کا آغاز کرچکی تھی۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں اور سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچایا جانے لگا۔ قوم شائد مارگلہ ٹاور ے زلزلے پر ہی نظریں مرکوز کی ہوئی تھی کہ اگلے علاقوں جن میں آزادکشیر کا دارالحکومت، مظفر آباد، باغ، راولاکوٹ اور صوبہ سرحد میں بالاکوٹ اور مانسہرہ کے علاقے شامل تھے، میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر ضروری ریلیف کا سامان لے کر مظفر آباد اور باغ کے لئے روانہ کردئیے گئے اور وہاں سے زخمی فوجیوں اور دیگر شہریوں کو سی ایم ایچ مری اور راولپنڈی میں سی ایم ایچ اور ایم ایچ میں منتقلی شروع کردی گئی جہاں پاک فوج کا مستعد طبی عملہ انہیں ضروری طبی امداد بہم پہنچانے میں سرگرمِ عمل ہوگیا۔
زلزلہ زدگان علاقوں میں پہلی میڈیا ٹیم بھی آئی ایس پی آر ہی کی پہنچی۔ راقم کی سربراہی میں تین رکنی میڈیا ٹیم جس میں کیمرہ مین تنویر ملک اور فوٹو گرافر خلیل شامل تھے، آرمی ایوی ایشن بیس سے آرمی ہیلی کاپٹر میں 8 اکتوبر 2005ء کی صبح 11 بج کر پچیس منٹ پر باغ کے لئے ٹیک آف کیا۔ ہمارا ہیلی کاپٹر مری کے علاقے جہاں فضا سے کہیں کہیں مکانات اور عمارتیں گری ہوئی دکھائی دیں، سے ہوتا ہوا باغ کے دلکش اور خوبصورت علاقے میں داخل ہوا تو جسم میں ایک کپکپی سی محسوس ہوئی کہ وہ دلکش اور دلفریب مناظر سے بھرپور علاقے آج قیامت کا منظر پیش کررہے تھے۔ سینکڑوں مکانات کی چھتیں زمین بوس ہوچکی تھی۔ ہماری مائیں اور بیٹیاں کھلی فضائوں میں قدرت کی ستم ظریفی پر انگشت بدنداں تھیں۔ یہ مناظر دیکھ کر بجا طور پر میرا دھیان قرآن پاک میں سورۃ القارعہ کی طرف گیا جس میں اﷲ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے۔(ترجمہ) ’’کھڑکھڑانے والی، کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ (وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔ اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون۔ تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے وہ دل پسند عیش میں ہوگا اور جس کے وزن بلکے نکلیں گے، اس کا مرجع ہاویہ ہے اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟ (وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر نے ٹھیک بارہ بجے باغ کے آرمی گرائونڈ میں لینڈ کیا اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو منظر دیکھا نہ گیا۔ ہمارے متعدد فوجی اور مقامی شہری اس گرائونڈ میں زمین پر زخموں کی شدت سے کراہ رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر سے اس کے عملے اور ہماری میڈیا ٹیم کے اترتے ہی زخمیوں کو ہیلی کاپٹر پر سوار کیا جانے لگا۔ مقامی زخمی شہریوں میں کالج یونیفارم میں ایک طالبہ اور چند بچے بھی تھے۔ وہاں پر تعینات فوجی افسروں نے فوری طور پر مقامی خواتین اور بچوں کو ہیلی کاپٹر میں سوار کرنے کی ہدایت کی کہ ان کی حالت زیادہ خراب تھی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہونے لگا تو میں نے معاون پائلٹ کیپٹن رحیم خان (یہ وہی کیپٹن رحیم تھے جن کی زلزلے کے دو دن بعد یعنی 10اکتوبر 2005کو ریسکیو آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر کریشن میں دیگر عملے کے ہمراہ شہادت واقع ہوگئی تھی) سے واپسی کا ٹائم پوچھا تو کہنے لگے ’’سرہم زخمیوں کو چھوڑ کر واپس آتے ہیں، آپ اپنے کام سے فارغ ہو جائیں پھر آپ کو لے جائیں گے۔‘‘
ہماری میڈیا ٹیم آرمی گرائونڈ سے نکلی تو ایک مقامی صاحب جو اپنی عزیزہ کو ہیلی کاپٹر پر سوار کرانے آئے ہوئے تھے، نے آفر کی کہ آئیں ہم آپ کو اپنی گاڑی میں باغ تک لے جاتے ہیں۔ باغ شہر قریب ہی تھا۔ راستے میں دکانیں اور مکانات تہس نہس ہوچکے تھے۔ الیکٹرانکس کی دکانیں اور جنرل سٹورز کا سامان مٹی اور پتھروں میں دبا پڑا تھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ہم حکومت آزادکشمیر کے مختلف دفاتر جن میں برقیات، زراعت اور دیگر شامل تھے، کی کئی منزلہ عمارت کے سامنے کھڑے تھے کہ جو، اب زمین بوس ہوچکی تھیں۔ اس عمارت کے اندر سے مدد اور پانی کی پکار واضح سنی جاسکتی تھی، لوگ اپنے تئیں زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ ایک نوجوان خاتون جو اپنے حواس کھو بیٹھی تھی، سڑک کے کنارے ننگے سر بیٹھی اپنے دونوں ہاتھ سر پر مارتے ہوئے بار بار ایک ہی جملہ دہرائے جارہی تھی، اہتھے کون بچیا ہوسی‘‘ (کہ یہاں کون بچا ہوگا) لیکن ایک بات جس نے ان دلخراش لمحوں میں بھی مجھے ایک لمحہ تفاخر مہیا کیا، وہ یہ کہ باغ میں تعینات فوج کو جہاں خود بھی اس قدرتی آفت کا سامنا تھا، نے اپنے پاس موجود ’’Cranes‘‘ کو بھی سول عمارت کا ملبہ ہٹانے کے لئے وقف کررکھا تھا۔ فوجی جوان اور افسر انتہائی تندہی سے یہ فرائض سرانجام دینے میں مگن تھے۔
باغ کا سول ہسپتال بھی بری طرح تباہی کی لپیٹ میں آیا تھا اور عمارت کا کچھ حصہ گرنے کی وجہ سے باقی عمارت کی حالت بھی مخدوش ہوچکی تھی۔ ہسپتال کا عملہ باہر کھلی فضا میں زمین پر لیٹے زخمیوں کو فرسٹ ایڈبہم پہنچانے میں مصروف تھا۔ جو لوگ بچ گئے تھے جوق در جوق ہسپتال کی طرف اپنے پیاروں کی خبر گیری کے لئے آرہے تھے۔ آئی ایس پی آر کی میڈیا ٹیم ابھی باغ میں ہی کوریج میں مصروف تھی کہ بارش شروع ہوگئی۔ ٹیم دربارہ آرمی گرائونڈ میں پہنچ گئی اور کھلے آسمان تلے بارش کی زد میں کھڑی رہی کیونکہ جو اکا دکا کھڑی عمارتیں دکھائی دے رہی تھی، ان میں دراڑیں پڑچکی تھیں۔ ان کے اندر کھڑے ہونے کا چانس بھی نہیں لیا جاسکتا تھا۔ بارش کے باوجود آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر فضا میں دوبارہ دکھائی دیا۔ آرمی گرائونڈ میں اتر اور زخمیوں اور تین رکنی میڈیا ٹیم کو لے کر راولپنڈی سی ایم ایچ کے لئے روانہ ہوگیا۔ سی ایم ایچ میں لینڈ کرتے ہی سی ایم ایچ کا سٹاف انتہائی پھرتی اور مستعدی سے ہیلی کاپٹر کی طرف لپکا اور زخمیوں کو سٹریچر پر ڈال کر دوڑتے ہوئے وارڈز کی جانب روانہ ہوگیا۔ کچھ سٹاف تو بچوں اور بوڑھے زخمیوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ منظر دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ میں نے ٹشو سے آنسو صاف کئے اور سامنے کی طرف دیکھا تو ہیلی کاپٹر میں بیٹھے ہوئے کیپٹن رحیم میری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نے انہیں بھی غم میں شریک پایا کہ ایک گہری سوچ ان کی آنکھوں میں مجھے دکھائی دی۔ کیپٹن رحیم کے ساتھ یہ میرا آخری ’’آئی کانٹیکٹ‘‘ تھا۔ پھر اس کے دو روز بعد ان کے ہیلی کاپٹر کریش کی خبر آگئی۔ میڈیا ٹیم آئی ایس پی آر پہنچی پریس ریلیز تیار ہوئی۔ ویڈیو ایڈٹینگ کے مرحلے کے بعد خبر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے بھجوا دی گئی۔ اُس شام بی بی سی اور سی این این سمیت دنیا بھر کے مختلف الیکٹرانک چینلز پر آئی ایس پی آر کے بجھوائے گئے Visuals جوں کے توں چلے‘ جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں زلزلے کی تباہی کا اندازہ ہوا۔ وہی Visuals دیکھ کر برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنی ریسکیو ٹیمیں پاکستان بھجوائیں۔ پھر دنیا بھر سے این جی اوز اور دیگر ادارے بھی حرکت میں آگئے اور حکومت پاکستان اور فوج جو ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں اہم کردار ادا کررہی تھی، کی معاونت میں مصروف عمل ہو گئیں۔
بارہ برس بیت گئے مگر یوں لگتا ہے کہ جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ 2005کے زلزلے کے کچھ عرصہ بعد تک لوگوں میں خوف اور آخرت کا ڈر دکھائی دیا۔ آج پھر یوں لگتا ہے کہ لوگ اُس قیامت خیز سانحے کو فراموش کر چکے ہیں۔ لوٹ مار کرنے والے لوٹ مار میں مشغول ہیں۔ قوم و ملک کی فکر کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ملک کوا اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور لوگ اپنے اپنے ذاتی مفادات کے چکر میں گم ہیں۔ قومیں قدرتی آفات اور مشکلات سے سیکھتی ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے۔ یہی وقت ہے کچھ کرنے کا، مثبت سوچ اپنانے کا۔ یہ سرزمین ہماری سرزمین ہے۔ اس کی حفاظت اور خوشحالی کی ضمانت ہم ہی نے دینی ہے، اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھا کر اور اپنے اپنے حصے کا دیا جلا کر ۔ فبای الاء ربکما تکذبان۔