لوگوں کے دل جیتنے والی ڈاکٹر ارم قلبانی نے اعزاز بھی اپنے نام کرلیا

ریاض (راجہ عابد عزیز،سٹیٹ ویوز)انڈس فورم اینڈ سوشل کلچرل فورم ریاض کی جانب سے معروف پاکستانی ڈاکٹر ارم قلبانی کے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیاجس میں سفارت خانہ پاکستان کے ویلفیر اتاشی عبدالشکور شیخ،گروپ کیپٹن ارشد مختار اور کیمونٹی کے سرکردہ افراد نے شرکت کی، تقریب کے آغاز میں انڈس فورم اینڈ سوشل کلچرل فورم کی جانب سے اسداللہ جتھیال نے خوبصورت انداز میں ڈاکٹر ارم قلبانی کو خراج تحسین پیش کیا.

انہوں نے کہا ہے کہ ارم قلبانی ان کا فخر ہیں، انہوں نے جس احسن انداز میں لوگوں کی خدمت کی ہے اس کی جتنی تعریف کی جائےکم ہے،
Dr iram 02
انہوں نے ہرقدم اور ہر لمحہ ہمارا ساتھ دیا، اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر انسانیت کی خدمت کی ہے،غلام قادر ملاح کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ارم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،انہوں نے اپنی قابلیت کو جس انداز میں لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا ہے ان کا یہ جذبہ دیدنی ہے، اردو لٹریچر کے ساتھ ساتھ ان کو سندھی لٹریچر پر بھی عبور ہے اس سے ان کی قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر میدان میں قابل ترین شخصیت کی مالک ہیں، ان کی دعا ہے کہ کینیڈا میں بھی جاکر لوگوں کی بہتر انداز میں خدمت کریں گی، راشد محمود بٹ کا کہنا تھا کہ اہل ریاض کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس کو ڈاکٹر ارم کی صورت میں ایک بیٹی اور بہن ملی انہوں نے ہر پلیٹ فارم پر پاکستان اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے.

تصدق گیلانی نے کہا کہ ڈاکٹر ارم جیسے لوگ جہاں بھی ہونگے وہ لوگوں کی خدمت کرکے انسانیت کو فروغ دیتے رہیں گے، ڈاکٹر غلام۔مصطفی میمن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ارم کہنے کو تو میری بھابی ہیں مگر جب یہ ہمارے خاندان کا حصہ نہیں بنی تھیں میں تب سے ان کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کی سادہ لوح طبعیت کا سحر سب کو اپنی طرف راغب کرتا تھا جب یہ ہمارے خاندان کا حصہ بنی تو انہوں نے ہمارے درمیان آکر جو خوشیوں کے نئے دریچے کھولے اور محبتوں کو ترویج دی اور اپنی جاب کے ساتھ ساتھ سوشل کاموں کو بھی انجام دیا وہ یقینی طور پر مبارکباد کی مستحق ہیں،

ڈاکٹر منصور میمن کا کہنا تھا کہ چونکہ میں یہاں ابھی سعودیہ میں ہی مقیم ہوں اس لئے ڈاکٹر ارم کا یہاں آنا جانا لگا رہے گا جس سے وہ سعودی عرب کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی رہیں گی، ڈاکٹر ارم قلبانی کا کہنا تھا کہ جب وہ سعودی عرب آہیں تو ان کو بے پناہ پیار ملا، اور یہاں آکر علم ہوا کہ رشتے خون کے نہیں ہوتے بلکے اعتماد اور احساس کے ہوتے ہیں اور سعودی عرب میں مجھے میرے ایسے بہت سے بھائی ملے جھنوں نے مجھے سوشل ورک میں میری مدد کی ان کا میں تہہ دل سے مشکور ہوں، سفارت خانہ پاکستان نے ہمیشہ پاکستانیوں کی فلاح کا کام کیا ہے اور ایمبیسی کے ہر آفیسر نے دلجمی کے ساتھ ان کا ساتھ دیا،

تقریب میں ڈاکٹر صائمہ میمن، حنا مصطفی، ذیشان قاضی، اسحاق سمو، نثار سموجو، رشید سرکی، امیر رند نے بھی خطاب کیا تقریب کے آخر میں انڈس فورم۔اینڈ سوشل کلچرل فورم کی جانب سے ڈاکٹر ارم قلبانی کو یادگاری شیلڈ سے نوازا گیا